@abroahsan This is a liar, a cunning and two-faced person who has temporarily succeeded, but humiliation and disgrace will be his destiny, along with all his sycophants and corrupt courtiers INSHALLAH 🤲🏿🤲🏿🤲🏿
This NRH (non resident Hyderabadi) while continuously protesting against the petrol price of 150 Rs, turned into a skeleton and petrol has crossed the 400 Rs mark. Now we are looking for someone else who will go out on a bicycle and protest against the new petrol prices
This NRH (non resident Hyderabadi) while continuously protesting against the petrol price of 150 Rs, turned into a skeleton and petrol has crossed the 400 Rs mark. Now we are looking for someone else who will go out on a bicycle and protest against the new petrol prices
This is a liar, a cunning and two-faced person who has temporarily succeeded, but humiliation and disgrace will be his destiny, along with all his sycophants and corrupt courtiers
I m a proud #Benazirist not shameful #Zardari_ist I think Zardari sb his sister and their followers damaged PPP's public image and democratic reputation through their horrendous corruption bad governance and worker ignorance
I m a proud #Benazirist not shameful #Zardari_ist I think Zardari sb his sister and their followers damaged PPP's public image and democratic reputation through their horrendous corruption bad governance and worker ignorance
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی کا وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل
مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس میں سندھ کے آئینی حقوق اور 18ویں ترمیم کے خلاف باتیں حقائق کے منافی ہیں، سینیٹر وقار مہدی
18ویں ترمیم اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور صوبائی خودمختاری کی ضمانت ہے، اسے متنازع بنانے کی کوشش آئینی حقائق سے انحراف ہے، سینیٹر وقار مہدی
اگر صوبوں کو اختیارات دینا نئے ملک بنانے کے مترادف ہ�� تو 18ویں ترمیم پر ایم کیو ایم کے دستخط بھی موجود ہیں، سینیٹر وقار مہدی
مصطفیٰ کمال پہلے یہ وضاحت کریں کہ ایم کیو ایم کا سندھ اسمبلی میں مؤقف اور وفاقی حکومت میں ان کا موجودہ مؤقف ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہے، سینیٹر وقار مہدی
سندھ کے عوام اپنے آئینی حقوق، وسائل اور صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے، سینیٹر وقار مہدی
نئے صوبوں کی بات کرنے والوں کو پہلے عوام کے سامنے اپنا واضح آئینی اور ��نتظامی منصوبہ پیش کرنا چاہیے، سینیٹر وقار مہدی
اگر مصطفیٰ کمال کو اپنے مؤقف پر عوامی حمایت کا یقین ہے تو سندھ کے عوام کے سامنے جاکر اس مؤقف کی حمایت حاصل کرکے دکھائیں، سینیٹر وقار مہدی
سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کی بحث مسائل کا حل نہیں، عوام کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار، پانی اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے جو پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت فراہم کرنےکی پوری کوشش کررہی ہے، سینیٹر وقار مہدی
کراچی سمیت سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی یکساں ترقی پیپلز پارٹی کی ترجیحات میں شامل ہے، سینیٹر وقار مہدی
کراچی میں پیپلز پارٹی کی بلدیاتی حکومت عوامی مسائل کے حل اور شہر کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے، سینیٹر وقار مہدی
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی الزام تراشی کے بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے، سینیٹر وقار مہدی
پیپلز پارٹی نے کراچی میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے انفراسٹرکچر، سڑکوں اور شہری سہولیات کی بہتری پر کام کیا ہے، سینیٹر وقارمہدی
مصطفیٰ کمال کو سندھ کے سیاسی معاملات پر بات کرنے سے پہلے اپنی جماعت کے سابقہ اور موجودہ مؤقف میں تضادات پر غور کرنا چاہیے، سینیٹر وقار مہدی
وفاقی وزیر کی حیثیت سے مصطفیٰ کمال کو سندھ کے سیاسی معاملات سے زیادہ اپنی وزارت اور وفاقی حکومت کی کارکردگی پر جواب دینا چاہیے، سینیٹر وقار مہدی
سانحہ پمز کے متاثرین کے سوالات اور شکایات کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، سیاسی بیان بازی مسائل کا حل نہیں، سینیٹر وقار مہدی
مصطفیٰ کمال کو پیٹرولیم لیوی کی وصولی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی اور عوامی مشکلات پر وفاقی کابینہ میں اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے، سینیٹر وقار مہدی
سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے امدادی اقدامات کیے گئے ہیں، وفاقی حکومت بھی اپنی ذمہ داری واضح کرے، سینیٹر وقار مہدی
مصطفیٰ کمال بتائیں کہ وفاقی حکومت نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کے لئےکیا مدر کی ہے؟ سینیٹر وقار مہدی
سندھ کے عوام کو تقسیم کی سیاست نہیں بلکہ ترقی، روزگار، امن اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے، سینیٹر وقار مہدی
پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کے آئینی حقوق اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنا سیاسی و آئینی مؤقف واضح رکھتی ہے، سینیٹر وقار مہدی
@WaqarMehdiPPP1
فلاں فلاں کی ٹکے کی حیثیت نہیں ہے یہ بات وہ لُوسی آپس میں کرتے ہیں جن کا نام اگر کسی کے سامنے لیا جاتا ہے تو اگلے فوراً کہت�� ہیں کہ کس کُتیا نسل چکلائیوں کا نام لے لیا شرافت کے لبادے میں چھپے ہوئے فرعون ٹھگ سفید پوش فراڈیو تمہاری خود کی یہ حیثیت ہے معاشرے میں اس لئے اوقات میں رہو
مجھے فخر ہے کہ یہ شہید رانی میری لیڈر تھی ہے اور تاقیامت رہے گی جو بوٹوں کی غلامی کی سخت مخالف اور سول سپریمسی کی داعی تھی، جس کی ساری زندگی جمہوریت کی بحالی اس کی مضبوطی اور ملکی ترقی استحکام کے لیئے وقف تھی اور آخر اس اس نے اپنے اسی عظیم مشن کے لیئے اپنی قیمتی جان قربان کی
مجھے فخر ہے کہ یہ شہید رانی میری لیڈر تھی ہے اور تاقیامت رہے گی جو بوٹوں کی غلامی کی سخت مخالف اور سول سپریمسی کی داعی تھی، جس کی ساری زندگی جمہوریت کی بحالی اس کی مضبوطی اور ملکی ترقی استحکام کے لیئے وقف تھی اور آخر اس اس نے اپنے اسی عظیم مشن کے لیئے اپنی قیمتی جان قربان کی
The Gutter language used by PTI is sadly part of their establishment DNA. The same can be found in MQM, PMLN & Jamaat e Islami. Who can forget how Nawaz Sharif used to back Sheikh Rashid using far worse language against Shaheed Bibi. Nawaz apologised but Imran Khan then employed the same Sheikh Rashid to spew the same hate against PPP Chairman Bilawal. When you see such language, don’t just call out the establishment Ladlas but also their handlers.
آپ کی اس درخواست سے تو نیب کو کمیشن لینے کا ایک اور موقع ملا ہوگا، کا نے کہا ہے کہ میں کرپشن ختم کرنے کے لیئے وجود لایا گیا تھا یہ تو کرپشن کو بڑھاوا دینے اور مخالفین کو ڈنڈا دینے کے لیئے معرضِ وجود میں آیا
روزانہ کی بنیاد پر لگتے مہنگائی کے ٹیکوں نے اب درد کا احساس ہی مار دیا ہے، اپنی بےبسی اور بےحسی پہ غصہ نہیں بلکہ اب رحم آتا ہے اور شرمندگی محسوس ہوتی ہے😔 اس حکومت نے عوام کے کس بل ہی نکال دیئے ہیں 🫣 پیٹرول پھر مہنگا🖕
محسن نقوی نے جس طرح ملک کے سیاسی سسٹم کے کولیپس ہونے کا انکشاف کیا تھا ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا ہوتا کہ ملک کا کرکٹ بورڈ اور ٹیم بھی موصوف نے کولیپس کر دی ہے، ٹیم کا وہ حال کیا ہے جو شاید ہلاکوخان نے بغداد کا بھی نہیں کیا
آصف زرداری، پیپلز پارٹی یا کوئی اور سیاسی جماعت نئے صوبے بنانے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں۔ سندھ کے مالک سندھ کے عوام وہی فیصلہ کریں گے۔ آصف زرداری جب بھی ملک سے باہر جاتے ہیں، لوگوں کو مسائل ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کی طرح بہادری سے کسی نے جیل نہیں کاٹی۔۔ سیدہ شہلا رضا.
یہ جمہوریت کا آمریت سے بھی زیادہ گھناؤنا اور مکروہ چہرہ ہے جو میاں سانپ کی حکومت نے عوام کو دکھایا ہے، ساری قوم ملک اور ملکی استحکام وحدانیت کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے