اج کل یونیورسٹی اور کالج میں حجاب برقہ کی بے حرمتی ہو رہی ہے لڑکے لڑکیوں والا بر کا پہن کے ڈانس کر رہا ہے اور اس کے پرنسپل اور ٹیچر بھی دیکھ کے تالیاں بجا کر ہنس رہے ہوتے ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی فوری مذمت کرنے والے عمران خان نے اسماعیل ہانیہ کی شہادت کی مذمت کیوں نہیں کی؟ عمران خان کے اکاؤنٹ سمیت پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے مذمتی بیان کیوں نہیں جاری ہوا؟
تحفظ عقیدہ ختمِ نبوت کاکام کسی ذات یا جماعت کاکام نہیں بلکہ ہر کلمہ گو مسلمان کا اوّلین فریضہ ہے۔ آئیے ہمارے ساتھ اس نیک کام کا عزم کیجیے
اس وقت ہرکلمہ گو مسلمان پرضروری ہےکہ وہ قادیانیوں کے خلاف آواز بن کر محافظین عقیدہ ختم نبوت کے مبارک فہرست میں اپنا نام شامل کرے۔
پیارے مگراللہ کےمحبوب لوگ
آج ویسے ہی بیٹھے رات کی ریکارڈنگ مدرسے کی دیکھ رہا تھا.
اچانک نظروں سے ایک خوبصورت مگر بہت ہی پیارا نظارہ گزرتا ہے.
رات ایک بجے کے بعد ایک طالبعلم اٹھتا ہے وضو کرتا ہے پھر آٹھ رکعت تہجد کی ادا کرتا ہے پھر خوب دلجمی سے اللہ کے حضور آہ زاری کرتا ہے کبھی ہاتھ اٹھا کر کبھی سجدے میں سر رکھ کر
یہ خوبصورت مگر بڑا ہی پیارا منظر ہے
دینی مدارس کا یہ رخ بھی دیکھئے کہ جب شب کی تاریکی میں سب غفلت میں پڑے ہوتے ہیں
کچھ عظیم بندگان خدا یوں رب کے ھ
حضور اپنے آپ کو منوا رہے ہوتے ہیں.
امارت اسلامیہ کے ترجمان نے دوحہ اجلاس، جس میں امریکی اور دیگر دسیوں ممالک کے ارکان موجود تھے، کہا :
ہم آپ کی توجہ ایک اور اہم انسانی المیے کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں:
گزشتہ اکتوبر سے غزہ میں نسل کشی جاری ہے، جو تاریخ کی پہلی براہ راست نشر کی جانے والی جینو سائڈ ہے۔
انسانی حقوق کا دعویٰ کرنے والے ممالک اور تنظیموں کی ساکھ پر سنگین سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، کہ کچھ فریق جو اس انسانی جرم میں براہ راست ملوث ہیں... وہ اس اخلاقی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ ہمیں انسانی حقوق کے بارے میں ہدایات اور لیکچر دیں۔
((سوشل میڈیا کے عطا کردہ موجودہ دور کے نئے فتنے))
دین سے دوری، مطالعہ اور تحقیق سے دوری، علماء اور صلحاء کی صحبت اختیار نہ کرنا، مسجد و مدرسہ سے بے زاری اور لاتعلقی دینی مجالس اور دروسِ قرآن کی محافل میں عدمِ دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی واقف نہیں ہیں ہماری اسی ناواقفیت سے فائدہ اٹھا کر نام نہاد قسم کے اسلامی اسکالرز، نیم خواندہ اور لوفروں جیسے حلیے والے لوگ دین اسلام کے متعلق ابہام، تشکیک اور فکری تذبذب پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں.
ہماری نسلِ نو کے دماغوں سے اگر اِن اسلام کے فکری و تہذیبی دغا بازوں کی مقبولیت کے نشانات کا قلع قمع نہ کیا گیا تو یہ بہت بڑے فساد کا پیش خیمہ ثابت ہوگا.
مغرب کے راتب خور اِن گِدھوں کو پہچانئے اس سے پہلے کہ یہ اپنا لایا ہوا مردار کھلا کر دل و دماغ میں تعفن پیدا کردیں....
منقول
ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں ایک عام آدمی اپنی آدھی تنخواہ بجلی اور گیس کے بل میں ادا کردیتا ہے،
اور دوسرے وہ افسران اور حکومتی عہدادار جو لاکھوں کی تنخواہ وصول کرتے ہیں وہ مفت میں بجلی گیس فون استعمال کرتے ہیں۔
کل سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو نظر سے گزری
جسمیں دو نوجوان ٹک ٹاکرز ایک "بچھڑے" کو ھاتھوں میں اٹھاکر بےرحمی سے زمین پر پٹخ رہےہیں۔
آج ان دونوں بےرحم نوجوانوں کو سلاخوں کے پیچھے دیکھ کر اور ان کے اوپر FIR کٹنے کا خبر دیکھ کر یقیناً خوشی ھوئی ۔
یہ ویڈیو ھمارے بےحس معاشرے اور ھمارے نئ نسل کا بہترین عکاس ہے
اللہ تعالیٰ رحم کا معاملہ فرمائے
ھماری نئ نسل جس سمت جارہی ہیں
یہ سب کچھ علماء کرام سے دوری،مغرب کی نقالی اور اسلام بیزاری کا نتیجہ ہے۔
رب! ہمیں اسلام اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیں۔