صرف الفاظ اور وعدوں سے زندگی نہیں بدلتی۔ اگر ہم محض باتوں میں گم رہیں اور عمل سے دور بھاگیں، تو نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ ہر صبح خالی ہاتھ اٹھنے کا مطلب ہے کہ ہم نے وقت ضائع کیا، موقع گنوا دیا۔
معافی اور درگزر کرنا انسانی فطرت کا سب سے بلند اور پاکیزہ پہلو ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے دل کو ہلکا کرتا ہے، بلکہ ہمیں ایک بہتر انسان بناتا ہے۔ معافی دینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کمزور ہیں، بلکہ یہ ہماری طاقت اور برداشت کی علامت ہے۔
@muamir ہماری کالونی کو ٹارگٹ کیا جا رہا بھتے کی پرچیاں دی جا رہی ہیں کھلے عام آ کر لوٹ کر مار کر چلے جاتے آج دو بھائی بےچارے پنجاب سے ادھر آئے وے تھے پیسے لے کر منڈی سے آ رہے تھے اک سولہ کا ایک ۲۲ کا دونوں کو مار کر چلے گئے اور یہ پہلا کیس نہیں ہے
زرداری نے اپنی سابقہ بےغیرتی شروع کر دی
کراچی میں بچے کی ہلاکت اور تعصب و سیاست
کراچی… وہ شہر جو ہر طرح کے سانحات کی لاتعداد کہانیاں اپنے دامن میں سمیٹے بیٹھا ہے۔ ایک ایسا جہاں موبائل چھیننے والوں کے ہاتھوں ہزاروں لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، کب سر راہ گن ہوائنٹ پر آپ کی گاڑی چھن جائے، جہاں بے قابو ڈمپر ہر دوسرے دن کسی گھر کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔ ایسے شہر میں اگر کوئی بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں اسے بھی کوئی “بڑی خبر” نہیں سمجھا جاتا۔
چند دن شور مچے گا، پھر کسی اور سانحے پر نئی بحث شروع ہو جائے گی۔ وجہ سادہ ہے: ہر مسئلے کو سیاست، تعصب اور علاقائی چپقلش کے کفن میں لپیٹ کر دفن کر دیا جاتا ہے۔ کراچی والے احتجاج کریں تو مسائل سننے کے بجائے سندھ کی پانچ ہزار سالہ تاری�� کے اسباق پڑھا دیے جاتے ہیں۔ سڑکوں کی تباہ حالی کی بات کرو تو اردو اسپیکنگ اور سندھی کی بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔ اس بے مقصد شور نے اصل ذمہ داروں کو ہمیشہ پسِ منظر میں، کہیں دور مسکراتا چھوڑ دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت شہر کی لوکل اور صوبائی حکومت دونوں پیپلز پارٹی کے پاس ہیں۔ اگر مئیر گٹر کے ڈھکن کی چوری کا ملبہ پولیس پر ڈال بھی دے، تب بھی سیاسی و انتظامی ذمہ داری پیپلز پارٹی ہی کی بنتی ہے۔ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ کراچی کے مسائل کا سوال مئیر سے کم اور وزیرِ اعلیٰ سے زیادہ پوچھا جانا چاہیے تاکہ ذمہ داری کا گول پوسٹ ادھر اُدھر نہ کیا جاسکے۔
اس حادثے کے بعد مئیر کا استعف��ٰ مانگنے سے بہتر تھا کہ سب سے پہلے اس مقام کے منتخب نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا، کیونکہ کوئی تو ذمہ دار ہے! اگر سندھ حکومت کو ہیلمٹ نہ پہننے والوں کا علم ہو سکتا ہے تو گٹر کے ڈھکن چرانے والوں کے بارے میں چھان بین کیوں نہیں ہو سکتی؟ کسی کو تو پکڑیں، کسی کو تو سزا دیں۔ لیکن افسوس کہ سزا کا سلسلہ کہیں غائب ہے اور شور صرف دو چار دن کا مہمان۔
یوں لگتا ہے کہ ذمہ داری طے کرنے کا کوئی نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کے سپورٹرز اس انتظار میں رہتے ہیں کہ ملک کے کسی اور شہر، خصوصاً لاہور میں، ایسا کوئی واقعہ ہو جائے تاکہ کہہ سکیں کہ “��ہاں بھی تو یہ ہو رہا ہے”۔ مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ دنیا کے کسی ملک میں ایسا حادثہ ہو تو ذمہ دار سے فوراً حساب لیا جاتا ہے۔
ہم شاید سب کے سب صرف شور مچانے کے لیے ہی رہ گئے ہیں… اور نتیجہ صفر۔