میری خواہش ہے کہ یہ ویڈیو آج سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ شئیر ہونے والے ویڈیو بنے۔
اس فوجی بھائی کی پیغام اپنے اپنے سوشل میڈیا چینلز پر ضرور شئیر کریں تاکہ عوام کو نظر ��ئے کہ شخصیت پرست گروہ کا اصلی چہرہ کونسا ہے۔
ہم نے 9 مئی نہیں بھولنا۔
جانوروں کے کاٹے کا آسان علاج
چھپکلی :
جس جگہ کاٹے چولہے کی راکھ پانی میں گھول کرلیپ کردیں
گرگٹ :
جس جگہ کاٹے نوشادر پانی میں گھول کر زخم پر لگائیں
لومڑی :
جس جگہ کاٹے پیاز پانی میں پیس کر لیپ کریں
بلی :
جس جگہ کاٹے کالے تل پانی میں پیس کر لیپ کریں
کتا :
جس جگہ کاٹے لہسن سرکہ میں پیس کر زخم پر لیپ کریں یا لال مرچ کے بیج آک کی چھال شہد میں حل ��رکے لیپ کریں
بندر :
جس جگہ کاٹے مردارسنگ و نمک پانی میں پیس کر لیپ کریں
نیولا :
جس جگہ کاٹے فورا پیاز پیس کر پانی کے ساتھ لیپ کریں
مکڑی :
جس جگہ جسم سے گذر جائے رسونت روغن گل میں حل کرکے لگائیں
چوھا :
جس جگہ کاٹے سوکھی ادرک پانی میں پیس کر لیپ کریں
دعاؤں میں یاد رکھیے گا
محمد انیب شاہد
شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟
محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......
اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے ) اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے ۔ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں ۔1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری گرداور چوکیدار نمبردار ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں ..... اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ۔وہی آپکے پاس آپکی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا ۔
ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا ۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت ،عادات و خصائل،ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل ، رسم و رواج ، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں ، زراعت پیشہ ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں ، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض ،انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض وذمہ داریاں ، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں ،کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے ،دریا، رستے ، جنگل ، پہاڑ ، کھائیاں ، مزروعہ ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا۔ ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے ، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ ،کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ’’کرم‘‘ (ساڑھے5فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز’’ فیلڈ بک‘‘ تیار ہوئی۔ جب ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔ اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود شاملات، سڑکیں ، راستے عام ، قبرستان ، بن ، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ ، کنال ،ایکڑ، مربع ، کیلہ درج ہوا اور گائوں ، تحصیل ، ضلع اور صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیلدار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔
اس پیمائش کے بعد ہر ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے ، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا ،
بقیہ کمنٹس میں
ہیڈ سوشل میڈیا عاطف رؤف کو اپنے باپ کی بدترین شکست کا غم منانے کے بعد سوشل میڈیا کی یاد آگئی ھے ان باپ بیٹوں نے بہاولنگر میں ن لیگ کا بیڑا غرق کردیا یاد رکھیں جیتنے والا امیدوار تحریک انصاف کا امیدوار نہیں ایک عام ورکر ھے جسے ن لیگ کے کٹر ووٹرز نے جتوایا اور وہ ن لیگ میں جائے گا
شعیب ایک بڑے پلئیر ہیں۔ انہیں شرم آنی چائیے وہ ایک سیاسی پارٹی کے سیاسی ورکرز کو گندی گالی دلوا رہے ہیں پھر اس پر مسکرا رہے ہیں۔ سمجھ سے بالا تر ہے ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ اپنے نوجوان کو گالی دینے سے انہیں کیا مل جائے گا۔ https://t.co/LP80FaeIx0
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا وہ شاہ کار جو تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم تصور بھی نہیں کرسکتی 🚨🚨
یہ شخصیت پرست گروہ جہاں صرف آڈیو نکال کر چھلانگیں مارت�� ہیں، ہم نے انکی پوری عمران سیریز کی قسطیں نکالنی شروع کردی ہیں۔
شئیر کرنا مت بھولیں۔
عمران سیریز کا پارٹ 1
آج آپ کے سامنے
آج ہم دوبارہ حامد میر صاح�� کے لئے ویڈیو لا رہے ہیں 🚨🚨
یہ بلوچستان کے صحافی شاہد اشرف کے والد محمد اشرف ہیں، شاہد میٹرو 1 اور GNN میں کام کرتے تھے، انکو BLA دہشتگردوں نے صرف اسلئے شہید کیا کہ وہ پاکستان کے لئے لکھتے تھے
آپ عام آدمی کیلئے نہیں آتے، اس صحافی کے لئے تو آئیں
سوشل میڈیا پر ایکٹو نوجوانوں کے لئے روزگار کا موقع!⏰️⏰️
آج کل مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار مجھ سے سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے لئے رابطہ کر رہے ہیں لیکن میں نے سب کو واضح کیا ہے کہ مفت مدد نہیں ہوگی اور میں سوشل میڈیا سے اچھے نوجوان ڈھونڈ کر آپ کو دے دونگا، جو پراپر نوکری کریں گے۔
اس سلسلے میں جلد ہی میں ایک ای میل ایڈریس آپ سے شئیر کروں گا۔ آپ کی جو بھی expertise ہے مثلا
ٹویٹر،
فیسبک،
ٹک ٹاک،
انسٹاگرام،
Paid ads,
Influencers,
Camera man,
NLE,
Graphic designing
اسکے متعلق آپ مجھ سے اپنی CV شئیر کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کے متعلقہ حلقے میں امیدوار ہوا تو میں اس کو آپ کی CV کے مطابق recommend کردونگا۔
جو نوجوان خود بھی سیاسی سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں، ان سے گزارش ہے کہ آپ اپنا قیمتی وقت اور ہنر کسی امیدوار کے لئے استعمال کر رہے ہیں؛ سیاسی جماعت ��ی حد تک والنٹیر کام ٹھیک ہے لیکن آپ کا وقت آپ کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اسکو ایک ایک امیدوار پر ضائع نا کریں اور اپنی Services کی قیمت وصول کریں۔ اپنا استحصال مت کروائیں۔ بعد میں انتخابات جیت کر زیادہ تر لوگ آپ کا کوئی کام نہیں کرتے اسلئے آپ کو وقت ضائع کرنے پر افسوس نہیں ہوگا۔
اگر آپ سوشل میڈیا پر اچھے لکھتے ہیں تو اپنے حلقوں کے امیدواروں سے خود بھی رابطہ کریں اور اگر آپ کو میری رہنمائی کی ضرورت پڑی تو میں بڑے بھائی کی طرح انشااللہ آپ کی رہنمائی کی کوشش کرونگا۔ اپنے ہنر کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کریں کیونکہ مستقبل digital marketing کا ہے۔ ہمارے امیدوار بل بورڈز اور بینرز پر کروڑوں خرچ کردیتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر مارکیٹنگ کرنے والوں کو والنٹیر بنا کر استعمال کیا جاتا ہے جوکہ غلط عمل ہے۔
اس کام کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کے بڑے لوگوں سے تعلقات بن جاتے ہیں اور کل کو وہ کسی اچھے سیاسی عہدے پر آئیں تو آپ بھی انکے ساتھ کسی اچھے مقام پر اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں انشااللہ جلد ہی میں اپنی تفصیلات بھی آپ سے شئیر کرونگا تاکہ جتنے نوجوانوں کا روزگار ہماری بدولت لگ سکتا ہے، ہم ان سب ک�� مدد کرسکیں۔
بہت عرصہ ہوا خانہ کعبہ والی گھڑی کی تصویر نہیں لگائی۔
آپ بھی شئیر کرنا مت بھولیں!
8 فروری تک ہر روز اس گھڑی کی تصویر لگائیں اور شخصیت پرستوں سے پوچھیں کہ تم لوگوں نے ایسے مبارک تحفے تک نہیں بخشے۔
کیا تمھارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ نہیں تھا؟
﷽
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ براکاتہ💕
اِحْذَرُوْا نِفَارَ النِّعَمِ، فَمَا كُلُّ شَارِدٍۭ بِمَرْدُوْدٍ.
نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو،
کیونکہ ہر بے قابو ہو کر نکل جانے والی چیز
پلٹا نہیں کرتی.
(نہج البلاغہ)