وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جواز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے ��یسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر کررہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ�� گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈ��ٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
عاصم منیر! جو حشر تمہارا ایران کی سپریم کونسل کے سربراہ اور ایرانی صدر نے کیا ہے، تم اب کس منہ سے واپس آؤ گے؟
یہی نتیجہ ہونا تھا امریکہ کی غلامی کا۔ اب ذرا سوچنا کہ اپنی قوم تمہارے ساتھ کیا کرے گی!
مراد سعید کا پیغام | 13 اکتوبر 2026 - پہلے پیغام
[انگریزی سب ٹائٹلز - اردو بیان]
"آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا تو کر دیا ہے، مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑے گا۔"
کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی، تب آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہوں اور ترقیوں کی کوئی وقعت نہیں۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے کہ کسی کی ہمت کیسے ہوئی آپ کی عملداری میں آ کے آپ کے 4 کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ خاموشی سے بے گھری اور بے بسی کی موت قبول کرنا بند کریں۔
#FreeImranKhan
#SubtitledByPTI | #MuradSaeed
@MuradSaeedPTI
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
تم نے آئین کو توڑ دیا، عدلیہ پر قبضہ کر لیا، میڈیا کو دبا دیا، تاکہ تمہارا جرم چھپ سکے،
تم نے ہمارے بچوں پر گولی چلائی اور انہیں شہید کر دیا، کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے،
تم نے ہمارے ملک کا سودا کیا، پاکستانی عوام اور فلسطین کے ساتھ غداری کی، کہ دنیا تمہاری عزت کرے گی،
تم چاہے کوئی بھی حربہ استعمال کر کے دیکھ لو، تم ناکام تھے، تم ناکام ہو، تم ناکام رہوگے، تم ناکام ہو!!
#گولی_کیوں_چلائی
#ReleaseImranKhan
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعل�� اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
بڑی آفر 🚨
اوورسیز سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز کا مسئلہ ہے سارا ؟ ٹھیک ہے۔ محمود اچکزئی ، سلمان اکرم راجہ ، بیرسٹر گوہر ، تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی یا کوئی بزرجمہر عمران خان کی انکی بہنوں ، وکلاء اور رفقاء سے ملاقات کی گارنٹی اٹھا لے ہم ایک ہفتے کے لیے مکمل خاموش ہوجاتے ہیں۔ جو نہیں مانے گا اسکا منت ترلا کرکے اسے خاموش ہونے پر قائل کرلیں۔ عمران خان کی ملاقات کروا دیں۔
اسکے بعد جیسے عمران خان کہے وہ کرلیں گے ، ٹھیک ہے؟ کوئی لیتا ہے ذمہ داری؟
بھارتی نیوز چینل نے دعویٰ کیا ہے KP گورنر راج سے ایک دن پہلے نانگا پربت پہاڑوں پر ساڑھے تین گھنٹے تک پنجاب حکومت کے 12 ارب کے جہاز میں دلفریب مناظر دیکھنے والے عاصم منیر اور مریم نواز تھےTV چینل کا دعوی تھا کہ جہاز میں مریم نواز اور عاصم منیر کے علاوہ صرف اور دو گورے پائیلٹ تھے
عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو ، اس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے ایک ایک لفظ کو ہر پاکستانی Own کرتا ہے ، عمران خان کے اکاؤنٹ سے نشر ہونے والے ایک ایک لفظ کو ہم پالیسی، لائحہ عمل اور مستقبل کی جانب بڑھنے کا راستہ سمجھتے ہیں
تم ہمیں ختم کرو گے؟ ہم تمہیں ختم کرچکے۔ تم نے حادثے میں مرنے والوں کو تحریک انصاف پر ڈالا تھا؟ لو حادثے میں مرنے والوں کے جنازے پر ردعمل دیکھو۔ ہمیں پتہ ہے تم ہمیں کیسے مارو گے۔ تمہیں یہ معلوم ہی نہیں ہم نے تمہیں کیسے موت دے دی ہے۔
ذہنی مریض کی ساری توجہ عمران خان یا تحریک انصاف کو کچلنے پر لگی ہوئی ہے، جبکہ چوروں کے گروہ کی نگرانی میں چلنے والی حکومت کے دور میں پچھلے سال کے 82 ہزار ارب روپے کے قرضے میں اس سال مزید 4 ہزار ارب اضافہ ہو کر 86 ہزار ارب روپے ہو چکا ہےـ
ذرا تصور کریں 4 ارب نہیں، 4 ہزار ارب !!
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا