بریگیڈیر کی تنخواہ ، مراعات ، پلاٹ ، پنشن مجھے ادا کردی جائے اور جس مرضی بارڈر پر لڑنے کے لیے بھیج دیا جائے۔
اخے تم جان دو
مخے تم پیسے دو
پھر ہماری پھرتیاں دیکھو
قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس بنا تو موصوف کی خاطر ہم عمران خان کی حکومت سے لڑتے رہے جنرل باجوہ سے لڑتے رہے افسوس کہ اس شخص نے چیف جسٹس بننے کے ب��د وہ کچھ کیا جس پر اسے تاریخ کبھی معاف نہیں کریگی
آج وفاقی آئینی عدالت نے قاضی فائز عیسی کا مونال ریسٹورنٹ اسلام آباد کو ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
بہت اچھا کیا۔ مونال ہند ہونے کا مجھ سمیت اسلام آباد کے بیشتر رہائشیوں کو بہت رنج تھا لیکن جو اس منحوس آدمی نے عمران خان کا انتخابی نشان "بلا" چھین کر جمہوریت کا جو جنازہ نکالا،
انشاءﷲ اس کا بھی ایک دن اصل عدالت حساب کرے گی۔
جتنی رسوائی قاضی کی لندن میں ہوئی تھی آج اس سے زیادہ رسوائی آج اس کی مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ ریورس ہونے سے ہوئی ہے۔
یہ رسوا ہوتا رہے گا انشااللہ
علی محمد خان کا قد سوا چھ فٹ سے نکلتا ہے۔ رنگ اناروں جیسا سرخ ہے۔ بال اس قدر سلیقے سے تراشے ہوئے کہ کسی فلمی ہیرو کا گمان ہوتا ہے۔ ہر کوئی وزیراعظم بننے سے رہا علی محمد خان نے سیاست کی معراج دیکھ رکھی ہے۔ لگاتار ایم این اے بن جانا ، وفاقی وزیر ہوجانا ، پورے ملک میں شناخت بن جانا ہی سیاست کا عروج ہوا۔ اتنا وقت سیاست میں گزارنے کے بعد علی محمد فن تقریر سے بخوبی آشنا ہے۔ نہ فمبل کرتا ہے نہ اٹکتا ہے ، نہ لہجے میں کوئی علاقائ�� چھاپ آتی ہے۔ ولایت پلٹ ایل ایل ایم بھی اپنے ساتھ بیرسٹر لکھتے ہیں ، صرف امتحان پاس کرکے باقی منازل طے کیے بغیر بھی خود کو بیرسٹر ہی کہتے ہیں۔ معلوم نہیں علی محمد کس کیٹگری والا بیرسٹر ہے لیکن بہرحال بیرسٹر ضرور ہے۔ یعنی یہاں بھی ایکسپوژر تو کچھ نا کچھ ہوا۔
پھر سیاستدانوں کی ایک کیٹگری وہ ہوتی ہے جو اچانک دولت کے زور سے یا پھر کسی حادثے کی وجہ سے یا اپنے کسی سابقہ عہدے کی وجہ سے سیاست میں آجاتے ہیں۔ وہ تمام جتن کرکے بھی خود کو خاندانی سیاستدان یا خاندانی رئیس قرار نہیں دے پاتے اور ان کا احساس کمتری کہیں نا کہیں جھلکتا رہتا ہے۔ علی محمد خان کے خاندان کے لوگ اگر ملکی سطح نا سہی اپنے علاقے کی حد تک جانے پہچانے لوگ ہیں۔ یعنی علی محمد خان کو قدرت کی جانب سے پریمیم سبسکرپشن والا ایک مکمل پیکج ملا۔
نوازشوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ رجیم چینج کی رات علی محمد خان کی ایک تقریر نے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ علی محمد خان اور قاسم خان سوری رجیم چینج کے وقت ہیرو بن کر ابھرے۔ چھوٹے شہروں کی ��یلیوں میں انہیں سننے سینکڑوں ہزاروں لوگ پہنچتے۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ اب آزمائش کا وقت تھا۔ مشکلات اور سختیاں تھیں۔ فریق دو ہی تھے۔ ایک عمران خان اور دوسرا اسکو شکست دینے کے درپے طاقتیں۔ قدرت نے فیصلے کا اختیار علی محمد کی سو��ھ بوجھ کو دیا۔ علی محمد خان ہر روز عمران خان کو شکست دینے کی کوششیں کرنے والوں کیساتھ کھڑا نظر آیا۔ معلوم نہیں لالچ ہے یا دباؤ ، سختیوں سے بچنے کی کوشش ہے یا بیچارہ تھا ہی یہی کچھ ، ہر روز کی ذلت ، ہر روز کی رسوائی۔ نشستیں فارم سینتالیس پر بھی مل جاتی ہیں۔ وزارتیں بھی مل جاتی ہیں۔ سیاستدان کی عزت وہ ہے جو عوام کے دل میں ہوتی ہے۔ علی محمد اس سے محروم ہوچکا۔
اگر اپنے بھائی کے حق میں سڑکوں پر نکلنا مورثیت قرار دیا جاتا ہے، تو ایسی مورثیت اس غداری سے کہیں بہتر ہے کہ ووٹ اپنے قائد کے نام پر حاصل کیا جائے، مگر وفاداری جرنیلوں کے بنگلوں میں ادا کی جائے
اگر خون کا رشتہ نبھانا مورثیت ہے، تو سلام ہے ہر اُس بہن کو جو اپنے بھائی کو مصیبت میں تنہا چھوڑنے کے بجائے اس کے حق میں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی رشتے نبھانے والے تاریخ میں سرخرو رہتے ہیں، ضمیر بیچنے والے وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن تاریخ ایسے لوگوں کو بے ضمیر دلال کے طور پر یاد رکھتی ہے
"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"علیمہ خان
"یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔" عمران خان
@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
اعلیٰ اجلاس میں کہا گیا کہ "چونٹی جب کاٹے تو اسے مسل کر رکھ دینا چاہیے"عرض یہ ہے کہ چونٹی کو مسلنا شاید آسان ہو، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب چونٹیاں متحد ہو جائیں تو ہاتھی بھی بے بس ہو جاتا ہے۔✊🏻
نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔عمران خان
@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan