Paki fascist military is using #Israeli-style “double tap” airstrikes in #Afghanistan. it's a deliberate war crime designed to maximize civilian casualties. First strike target civilians, then a second on rescuers and survivors. This is not counter-terrorism but a state terrorism.
https://t.co/xqfrc6iigl
کیا ہم یہاں بیٹھے تمام لوگ اپنے ساتھ دو دو کلاشنکوف لے کر گھوم سکتے ہیں؟ جبکہ یہاں دن دہاڑے کمانڈروں کے قافلے اس طرح گزرتے ہیں جیسے پوری چھاؤنی باہر نکل آئی ہو۔
جب تک ہم بحیثیتِ قوم یہ نہیں کہیں گے کہ ہمارے ساتھ یہ سب کون کر رہا ہے، تب تک ہم بدامنی اور دہشت گردی سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، شہید ہاشم خان نورزئی کی فاتحہ خوانی کے موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے،
#AsgharKhanAchakzai | #AwamiNationalParty | #ANP
Chairman of PMKP Afzal Khamosh was arrested for being a political leader while @ZubairShahAgha1 was arrested in Quetta during a crackdown on a press conference by families of BYC leaders and missing persons. Politics is not a crime. We demand the release of political prisoners.
The fascist Paki military has once again carried out airstrikes inside Afghanistan, killing and injuring over 100 innocent civilians including children, men, and women. This coward army cannot defeat the TTP and Baloch insurgents in its own country, yet finds it easy to bomb defenseless Afghans.
Abdur Rehman’s brother has been forcibly disappeared for the past 12 years. Abdur Rehman’s other brother, Habib ur Rehman, who had been gathering evidence about his brother’s disappearance, was murdered in a fake police encounter by Jamkani police on 6th June, 2026. Recently, their father was killed too.
Now, Abdur Rehman is being threatened too. If anything happens to Abdur Rehman, DHR will take legal action against the perpetrators.
@AminaMJanjua
Mahrang Baloch should not be in prison. Women and girls in Balochistan have suffered for years as their male family members were routinely arrested and forcibly disappeared. They deserve the life that everyone deserves: daughters who can go to school, fathers who come home at night.
I stand with my sisters in Pakistan who face harassment and abuse, who are imprisoned for speaking out. This is not new — throughout our history women like Asma Jahangir, Farida Shaheed, Khawar Mumtaz, Hina Jilani and even Fatima Jinnah suffered persecution for standing up. Today, it is Imaan Mazari and Mahrang Baloch.
Rather than addressing the horror of forced disappearances, the anti-terrorism court is targeting those who speak out against the oppression. Mahrang and her fellow activists must be released.
This video should have been recorded tomorrow, on the seventeenth year of my Father’s enforced disappearance. Instead, I am recording it today because for the last month and as recently as yesterday, I am being threatened with imprisonment. Seventeen years after they disappeared my father, I am still being forced to live in the shadow of the repression that stole him from us.
پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے کونسے مخصوص لوگوں کی بات کیا
علی وزیر، حنیف پشتین، نور اللہ ترین، حاجی عبدالصمد اور فرید آفریدی کے حوالے سے پیغام
بلوچ یکجیتی کمیٹی X سپیس میں
ایک متنازعہ قتل کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی لیکن کیا اسی راجی مچی کے دوران ایف سی کے اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے قتل ہونے والے چار نہتے بلوچوں کے قاتلوں کو بھی کبھی عمر قید کی سزا ملی؟ کبھی ان نہتے سیویلینز کے قتل پر کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، کبھی انکے قاتلوں کوکٹھرے میں کسی عدالت نے کھڑا کیا؟ نہیں، کیونکہ ان کے لیے قانون کا معیار مختلف ہے، کیونکہ وردی پہن لینے سے قتل جرم نہیں رہتا، اور قانون صرف مظلوم کے خلاف طاقتور ہو سکتا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک پرامن عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے پورے بلوچستان کو عملاً محاصرے میں بدل دیا گیا۔ سڑکیں کھودی گئیں، راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، اور پھر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار افراد اپنی جانوں سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ایک شخص کے سر میں گولی مار کر اسے عمر بھر کی اذیت کے حوالے کر دیا گیا۔
مگر ان قتلوں پر کوئی مقدمہ نہیں۔ ان زخمیوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ ان معذوروں کے لیے کوئی احتساب نہیں۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے گھروں پر دھاوے بولے، جنہوں نے طاقت کے زور پر ایک عوامی اجتماع کو کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی ایک کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، وہ اس لیے کہ اس نظام میں قانون جرم کو نہیں، مجرم کی حیثیت اور طاقت کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ کمزور ہیں تو الزام ہی سزا بن جاتا ہے، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو لاشیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
یہاں انصاف کا ترازو برابر نہیں، بلکہ طاقت کے وزن سے جھکا ہوا ہے۔
اور یہی نظام ہیکہ قاتل آزاد ہیں اور مظلوم قید۔
گولیاں چلانے والے محفوظ ہیں اور گولیاں کھانے والے مجرم۔
بندوق والوں کے لیے استثنا ہے اور خالی ہاتھ لوگوں کے لیے عمر قید۔
یہی اس سامراجی اور ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ہے
اور یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف ہے۔
It was Zia who put Shaheed Benazir Bhutto in jail, now it is PPP-led Balochistan government that has put Mahrang Baloch in jail..!
Waqt waqt ki baat hy
پاکستان ایک ظلم اور بربریت ہے۔علی وزیر تا مہہ رنگ بلوچ ہر طرف جبر ہے۔ روز اول سے جبر ہے۔ اسکو کوئی زندہ باد کیسے کہہ سکتا ہے؟ اسکو مردہ باد کہنے پر کوئی کیسے غصہ کر سکتا ہے ؟ جرنیلی پھرتیوں اور چمک دمک کے نیچے ایک کرپٹ بدبودار بدکردار ریاست ہے جہاں نا قانون نا روایت صرف ننگا جبر
عمران خان، مہرنگ بلوچ، شاہ جی، علی وزیر، ایمان، نور اللہ ترین ان سب کو غیر قانونی سزائیں دی جارہی ہیں، کیونکہ ان سب کا ایک جرم، ان سب نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی
Mahrang Baloch and Sibgatullah sb getting life imprisonment is not only harsh but unfortunate. It sends out a clear message to other activists across Pakistan that peaceful activism is not tolerated.
Wish a day comes when there is accountability for criminals and thieves like Kakar who have benefited tremendously from boosting violence in Baluchistan
گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچستان میں جاری مسلح جدوجہد کے بعد ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نئی بلوچ نسل کے لئے پرامن جدوجہد کا استعارہ بن کر اُبھری تھی لیکن ایک جھوٹے اور بےبنیاد مقدمے میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور دیگر BYC رہنماؤں کو عمر قید سُنا کر ریاست پاکستان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے
ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید سنانا دراصل نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ یہاں پرامن جدوجہد کی کوئی گنجائش نہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ عطاء اللہ مینگل، خیربخش مری، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو سزائیں ملیں اور وقت نے فیصلہ کیا کہ کون درست تھا اور کون غلط۔