“Bushra Bibi’s family agreed not to publicly discuss details of their meetings with her, nor politicise them, on the understanding that they would be granted regular access. However, it has now been four weeks since they were last allowed to see her. During their last meeting, the family were deeply distressed by her condition and cried for days afterwards.
They described significant weight loss and serious eye-health concerns. One of her eyes is stitched closed, while the sight in the other is deteriorating. They also stated that there have been serious delays in receiving medical attention and that prison conditions, as well as the treatment of certain staff members—particularly a woman named MARIAM—have contributed to her mental suffering. A gutter outside her cell is deliberately kept open, making her cell unbearable and infested with insects.
Bushra Bibi has also reportedly said that Imran Khan’s conditions are similarly concerning and that he continues to suffer from ongoing eye and health problems. According to her, he refuses to complain because of the man that he is.
Regardless of political views, all detainees are entitled to proper medical care, humane treatment, and regular access to their families. This is a serious violation of basic human dignity and internationally recognised human rights standards. This situation requires urgent attention, transparency, and accountability.” @sayedzbukhari
پیارے مزمل۔
آپکو میجر صاحب نے ایک بار پھر استعمال کر لیا۔
میجر صاحب کی نظر یہ تصویر۔ میرے امریکہ آنے سے چند دن پہلے: عمران خان کے گھر میں ملاقات کے بعد کی تصویر۔
ویسے امریکہ آنے سے ایک رات پہلے انہی کے گھر میں رات 12:30am سے تقریبا رات 2 بجے تک میری اور خان صاحب کی ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں بہت سارے میر صادق اور میر جعفروں کا زکر اور notes exchange ہوئے تھے۔ تب تک خان صاحب کو بہت سوں کی حقیقت کا پتہ چل چکا تھا۔ اس آخری میٹنگ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ چاہیئے ہوئیں تو بتا دیجیے گا۔
رہی بات شہزاد اکبر کی تو انہوں نے کیوں استعفی دیا تھا اس بات کا نہ آپکو علم ہے نہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علم صرف دو لوگوں کو تھا ایک پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور دوسرا شہباز گل۔ آپ پارٹی پوزیشن میں بہت جونئیر تھے۔ آپکے سامنے انکو کب ہٹایا گیا۔ آپکا وزیر اعظم آفس سے تو کوئی دور دور تک لینا دینا نہیں تھا۔ عمران خان گرفتار ہونے سے ایک دن پہلے تک شہزاد اکبر سے رابطے میں تھے۔
چلیں آپکا یہ مسلہ تو حل کر دیا۔ ویسے یہ نان ایشو تھا۔
اصل بات خان کی رہائی اور علاج ہے۔ تو جب تک یہ مسلہ حل نہیں ہوتا۔ آپ نے بجٹ صرف مختصر مدت کے ل��ے پاس کروانا ہے۔ اور سرپلس بجٹ پاس نہیں کروانا۔ اور دوسرا KP کے لوگوں کا پیسہ جنرلز کی جیب میں نہیں ڈالنا۔
In the House of Commons, Michael Kram (@MichaelKramSK) presented a petition signed by over 1,800 Canadians demanding the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
The imprisonment of political opponents undermines democratic principles globally. International voices must persistently advocate for the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
#WhereIsImranKhan
#FreeImranKhan
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری ��کومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسم��ی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشاء اللّٰہ یہ خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی بدلو۔
عمران خان کا جیل سے پیغام:
“میرے پاکستانیو، مجھے آپ کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑنے پر 24 سال کی سزا سنا دی گئی۔
مجھے اور پاکستان کو آپ کے بس 24 گھنٹے چاہئیں!
لوگوں کے زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈلوائیں، پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 ملنے تک پولنگ سٹیشن پر رکیں، اور پھر مکمل رزلٹ آنے تک ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر پرامن طریقے سے بیٹھیں-“