محترمہ مریم صاحبہ یہ وقت بھی گزر جائے گا، ایسا نا ہو کہ کل آپ کے بھی پلیٹ لیٹس کہی گر جائے۔ وہ کسی نے کہا خوب کہا تھا کہ اپوزیشن م��ں ہوتے ہے تو پاؤں پڑتے ہے اور جب اقتدار میں ہوتے ہے تو بدمعاشی کرتے ہے۔ افسوس
@MaryamNSharif
#قصور_مولانا_آ_رہا_ہے
عجیب بات یہ ہے کہ محرم صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی ہوتا ہے لیکن گستاخیاں صرف پاکستان میں ہوتی ہیں، جہاں باقاعدہ قانون موجود ہے اس کے خلاف لیکن انتشار اور فساد برپا کرنے کیلئے ہر سال صحابہ کی شان میں گستاخیاں کھلے عام ہوتی ہیں، اگر ان کے خلاف کوئ بولے تو FIR ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے ان گستاخوں کی بدمعاشی بڑھ رہی ہے، آئے روز ملک میں ��سادی ٹولہ ان کو سپورٹ کرتا ہے، قانونی ادارے ہوش کے ناخن لے اس ڈوبتے سسکتے ملک میں اور انتشار نہ پھیلا جائے۔۔
عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ ک��و تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔
ہ��دوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی ��لاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب
ھم نے روز اول سے امریکی پشت پناھی میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور اور غیر مبہم مخالفت کی ھے لیکن خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں پیدا ھونے والا توسیع پسندانہ عزائم کا تاثر بھی مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے ناقابل قبول ھے اور ایران کو اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاھئیں کیونکہ پاکستان کی نظر میں یہ حملے غیر ضروری کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن رھے ھیں۔
سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست وگریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ھے ھم بار بار اس کی نشاندھی کررھے ھیں کہ اسلامی ممالک کو آپس میں تحمل اور برداشت کے سا��ھ اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا مظاھرہ کرنا ھوگا اور اپنی آزادی وحریت اور خودممختاری کے اعلی ترین قومی اور ملی مقاصد کے حصول کے لیے ایک اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف جانا ھوگا جہاں اسلامئ دنیا سیاسی اقتصادی اور معاشی میدانوں میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکے۔
ھم ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ھوئے ان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ھوئے سعودی قیادت وحکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکرتے ھیں
وہ زمانہ چلا گیا جب کوئ بھی اٹھ کر علماء پر بکواس کرلیتا تھا، الحمدللہ اب آپ سب اتنے تیز ہوگئے ہیں کہ کالا ڈالہ بھی اتنا جلدی سافٹ وئیر اپڈیٹ نہیں کرتا جتنا جلدی آپ سب کی مدد سے ہوجاتا ہے۔۔
اب دل خوش ہوجاتا ہے جب اتنی بڑی تعداد میں آپ سب سپورٹ کرتے ہیں، مجھے آج بھی یاد ہے 10 سال پہلے ہم بولتے تھے کوئ سنتا نہیں تھا، لیکن اب سین ہی کچھ الگ ہے۔۔
زندہ باد جگر کے ٹکڑوں۔۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی کی (مشترکہ اجلاس کی کارروائی) تقریر ٹی پر نہیں چلائی گئی،
لیکن چھوٹا سا کلپ سینیئر صحافی کے ہاتھوں آیا۔ آپ بھی سنئے !
مولانا فضل الرحمٰن صاحب کیا کہہ رہے ہیں۔
دجال کا سسٹم آچکا ہے بس دجال نہیں آیا، مان لو میری بات دجال ایک سسٹم کا نام ہے جو تقریبا مکمل ہوچکا ہے، AI ویڈیوز، فیک اکاؤنٹ، جھوٹی خبریں، سب کی بھرمار ہے، سچ اور جھوٹ، دوست اور دشمن کا پتہ لگانا مشکل ترین ہوگیا ہے۔۔جو بولا جارہا ہے ہم مان رہے ہیں اور یہی دجال کرے گا۔۔
ہم سب روبوٹ بن چکے ہیں، سورہ کہف پڑھیں�� سمجھیں اس پر عمل کریں۔۔اور جھوٹی خبریں ماننے اور پھیلانے سے گریز کریں۔۔
حکومت ایک جائز اسلامی عمل (نکاح) کو جرم اور سزا کے دائرے میں لا کر یہ تاثر دے رہی ہے کہ اصل مسئلہ نکاح ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اسلام میں نکاح کی شرط بلوغ، رضامندی اور جسمانی و ذہنی اہلیت ہے عمر کا کوئی عدد (18 سال وغیرہ) قرآن، حدیث یا فقہ میں کہیں مقرر نہیں۔
لہٰذا 18 سال سے کم نکاح پر سزا مقرر کرنا اسلامی قانون نہیں بلکہ مغربی قانونی تصور کو شریعت پر مسلط کرنا ہے۔
علما اس قانون کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ:
یہ نکاح کو جرم بناتا ہے
جائز ع��ل پر ریاستی سزا لگاتا ہے
اور شریعت کے بنیادی اصول کو نظر انداز کرتا ہے
اگر حکومت واقعی عورت اور بچوں کے حقوق کے لیے سنجیدہ ہے تو پھر سوال یہ ہے:
سوشل میڈیا پر بیویوں اور عورتوں کو ویوز اور پیسوں کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہے؟
ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ، گھریلو تشدد اور جنسی جرائم پر خاموشی کیوں؟؟
میریج کاؤنسلنگ، خاندانی عدالتوں کی اصلاح،
تعلیم اور صحت پر توجہ کیوں نہیں؟
آسان راستہ یہ ہوتا ہے کہ نکاح پر پابندی لگا دو اور مغرب کو خوش کر لو۔
مشکل راستہ یہ ہوتا ہے کہ ظلم، جبر، جہالت اور مجرموں کے خلاف کھڑے ہو جاؤ اور بدقسمتی سے حکومت نے آسان راستہ چنا ہے۔
اسلام:
ظلم کے خلاف ہے
جبر کے خلاف ہے
نقصان کے خلاف ہے
مگر اسلام:
نکاح کو جرم نہیں بناتا
عمر کے ہندسے کو دین نہیں بناتا
بلوغ شرط ہے، نمبر نہیں۔
مسئلہ نکاح نہیں، ریاستی ناکامی ہے۔
اور علما اسی ناانصافی کے خلاف کھڑے ہیں کسی قبائلیت یا شدت پسندی کی وجہ سے نہیں، بلکہ دینی اصول کی وجہ سے۔
جتنا زیادہ میں پاکستان میں وقت گزار رہا ہوں اور لوگوں اور اداروں سے واسطہ پڑ رہا ہے، اتنا زیادہ یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ ہم صرف پیدائشی مسلمان ہیں عملی زندگی، تہذیب، نظم، اور دوسرے انسانوں کا خیال رکھنے کا ہمیں کوئ احساس نہیں۔ ہم زندگی آسان بنانے کے بجائے اسے مشکل بنانا اپنی عادت بنا چکے ہیں۔ اوپر سے لے کر نیچے تک، سب اسی رویے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
ہم اس حدیث کے خلاف چل رہے ہیں جس میں نبی ﷺ نے فرمایا:
“جو کسی کے لیے آسانی پیدا کرے، اللہ اس کے لیے آخرت میں آسانی پیدا کرے گا۔”
سوچیں، پھر آخرت میں ہم کس قدر مشکلات کا سامنا کریں گے؟
یہاں تو دنیا میں ہی ہم دوسروں کی زندگی مشکل بنانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے:
پارکنگ میں بدنظمی
قطار کاٹنا
سڑکوں پر تھوک دینا
چھوٹی چھوٹی باتوں میں دوسروں کو تکلیف دینا
خودغرضی، بدتمیزی، اور دوسروں ��ے حقوق کی پرواہ نہ کرنا
اور افسوس تو یہ ہے کہ یہ رویہ مسجد میں بھی ختم نہیں ہوتا۔
حتیٰ کہ جب ہم عبادت کے لیے مسجد جاتے ہیں، تب بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم لوگوں پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ مسجد جیسے مقدس مقام میں بھی:
واش روم یا وضوخانے میں اپنی باری کا انتظار نہیں کرتے
بے فکری سے دوسروں کے جوتوں پر پاؤں رکھ دیتے ہیں
جوتے ایسے پھینک کر اتارتے ہیں کہ نہ کوئی ترتیب ہوتی ہے نہ صفائی
چلتے ہوئے دوسروں کو دھکا، تکلیف یا بے حرمتی کا احساس نہیں ہوتا
مسجد وہ جگہ ہے جہاں ہمیں سب سے زیادہ نظم، صفائی، تحمل اور دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے، مگر بدقسمتی سے ہم وہیں سب سے زیادہ لاپرواہی دکھاتے ہیں۔
یہ تمام باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ہم نے دین کو صرف نام اور رسم کا حصہ بنا دیا ہے، جبکہ اس کا اصل مقصد اخلاق، آسانی، صفائی، عدل، اور دوسروں کا خیال رکھنا ہماری شخصیت سے بالکل غائب ہے۔
اگر ہم واقعی مسلمان ہیں تو ہمیں دوسروں کی زندگی آسان کرنے، نظم اپنانے، اور اپنے رویے درست کرنے سے آغاز کرنا ہوگا ورنہ آخرت کی مشکلات ہمارے انتظار میں ہیں۔
کل میں نے ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں بتایا تھا کہ مجھے میزان بینک کے آفیشل نمبر سے کال آئی، اور کال کرنے والا میرے بینک اکاؤنٹ کی ساری تفصیلات بتا کر مجھ سے OTP مانگ کر صفایا کرنا چاہتا تھا ، اسے بینک اکاؤنت کی ساری تصیلات پہلے سے پتا تھی
میں نے وہ کال ریکارڈ کی، ویڈیو بنائی اور عوام کو خبردار کیا۔
اس ویڈیو کو 2 ملین سے زائد لوگوں نے دیکھا ہے
اس کے بعد مسلسل انباکس اور کئی لوگوں نے کال کر کے بتایا کہ وہ بھی اسی طرح کے فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔
کسی کے 10 ہزار، کسی کے 20 ہزار، کسی کے 2-3 لاکھ اور ایک شخص کے 16 لاکھ روپے تک سکیمرز نکال چکے تھے۔
میرے کیس میں جو ATM کارڈ سکیمر کے پاس تھا، وہ میری اہلیہ کا کارڈ تھا
اور وہ کارڈ سال میں دو چار دفعہ سے زیادہ استعمال ہی نہیں ہوتا۔وہ بھی صرف اے ٹی ایم پہ
نہ وہ کارڈ کبھی کسی دکان پر سوائپ ہوا،
نہ کسی POS مشین میں لگا،
نہ آن لائن کہیں استعمال ہوا۔
اس کا مطلب بہت واضح ہے:
⚠ یہ ڈیٹا کہیں نہ کہیں سے بینکنگ سسٹم کے اندر سے لیک ہوا ہے۔
بینک ظاہر ہے خود ایسا نہیں کرتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیٹا سکیمرز تک پہنچ رہا ہے، اور یہی اصل خطرہ ہے۔
صبح میزان بینک ہیڈکوارٹر سے مجھے کال آئی۔
انہوں نے کہا کہ ویڈیو ان تک پہنچی ہے، معاملہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اور میری برانچ کی ٹیم مجھ سے رابطہ کرے گی تاکہ ہم عوام کو بہتر انداز میں educate کر سکیں۔
میں نے بینک کے نمائندوں سے ایک اور اہم بات بھی کہی کہ
اپنی طرف سے بھی سائبر سیکیورٹی کا ماہر بھیجیں، تاکہ ہم پوڈکاست کے ذریعے
لوگوں کو بتائیں کہ یہ فراڈ کیسے ہوتے ہیں، کون کون سے نئے طریقے استعمال ہو رہے ہیں، اور عوام کن چیزوں سے بچیں۔
کیونکہ جب تک عوام کو اصل میکینزم سمجھ نہیں آئے گا، یہ فراڈ ختم نہیں ہوں گے۔
دوستو… یاد رکھیں:
✔ سکیمرز آج کل بینک کے آفیشل نمبرز تک spoof کر لیتے ہیں۔
✔ کال چاہے کتنی ہی اصلی لگے —
⚠ اپنا CNIC، ATM معلومات، یا OTP کبھی بھی کسی کو نہ دیں۔
✔ بینک کبھی بھی OTP نہیں مانگتا۔
✔ ��پ کے نمبر پر آنے والا ہر کوڈ آپ کی ذاتی سکیورٹی ہے۔
براہِ کرم اس آگاہی کو زیادہ سے زیادہ آگے پہنچائیں۔
ہو سکتا ہے آپ کی ایک شیئر کسی کو لاکھوں روپے کے نقصان سے بچا لے۔
تحریری معاونت چیٹ جی پی ٹی
،حکمرانوں کو نہ سیاسی اسلام پسند ہے نہ آئینی اسلام، ،نہ محمد ص کا اسلام،نہ مدرسے کا اسلام ۔پھر حکمران قوم کو بتائیں کہ کونسا اسلام پسند ہے؟
لگتا ہے حکمرانوں کو ٹرمپ کا اسلام پسند ہے۔لیکن پاکستان میں ٹرمپ کا اسلام نہیں چلے گی۔
اف میرے خدا !! طاقت کے نشہ میں دین کو بدنام کرنے والوں کو رسوا فرما، AI کی مدد سے مسجد کی گستاخی والی ویڈیو بنانے والا کوئ مسلمان تو نہیں ہوسکتا لیکن اس طرح کے مواد کو بڑے بڑے اکاؤنٹ شئیر کررہے ہیں ، جس نے بھی اس جھوٹ میں ذرا سا بھی حصہ ڈالا ہو وہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔۔ اللہ سے معافی مانگ لو۔۔
یہ طاقت، یہ کرسی سب یہیں رہ جائے گا اور ویسا ہی انجام ہوگا جیسے پہلے لوگوں کو ہوا۔۔
میاں نواز شریف معہ اہل وعیال مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر حاضری دے رہے ہیں۔۔۔ اس منظر کو دیکھ کر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کو سبق حاصل کرنا چاہئے اور آئندہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے دولتیاں مارنے سے احتیاط کریں۔۔۔ یہی بندہ تھا جس کی فیلڈ فورس نے مسلم لیگ نون ��و احتجاجی سیاست میں کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد دی تھی اور اس مدد کی آنے والے دنوں میں بھی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ جرنیلی گھوڑا زیادہ دیر تک کسی کو سواری نہیں کرنے دیتا
#MaulanaFazlurrehman
مولانا فضل الرحمن کی توہین و تحقیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی تحریک انصاف کے سامنے ڈھیر ہونے والے نون لیگیوں کے لیے مولانا فضل الرحمان ہی امید کی آخری کرن تھے کیا احسان کا بدلہ احسان نہیں رواداری اور مروت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں اختلاف رائے بغیر توہین کے بھی ہوسکتا ��ے آپ کسی موقف سے اختلاف سو دفعہ کریں لیکن اس موقف کی آڑ میں شخصیت پر رکیک حملے نون لیگ کی قیادت کو ایکشن لینا چاہیے دین دار لوگ صرف پی ٹی آئی سے انکی دشنام اور فاشسٹ سوچ کی وجہ سے متنفر ہوئے وہی رویہ اگر نون لیگ کے کارکن اپنائیں گے تو فرق کیا ہے؟؟
کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ کرتا رہا ۔۔۔ قرضہ اتارنے کے لئے سٹے بازی کی۔۔۔ سیاست میں مذہبی ٹچ والے جھرلو کو استعمال کیا ۔۔۔حکومت لینے کے لیے جرنیلوں کی مدد سے انتخابی نتائج میں دو نمبری کی اور جب حکومت ہاتھ سے جا رہی تھی تو امریکیوں کے آشیر باد سے Blame America والی حکمتِ عملی سے کام لیا۔۔۔ یہ اس نیازی کی کل اوقات جسے کچھ لوگ مسیحا سمجھ کر پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں
ہر مسئلے کا حل یہ ہے کہ نظام کو ٹھیک کریں۔ نظام تب ٹھیک ہو گا جب ٹھیک لوگ آگے آئیں گے اور ٹھیک لوگ تب آئیں گے جب آپ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت سے قابل اور باصلاحیت لوگوں کو منتخب کریں گے۔
میں نو جوانوں کی ایسی ہی ��ماعت کا نظریہ پیش کر رہا ہوں، میں جس کا کبھی کوئی عہدہ نہیں لوں گا۔