کسی کا عشق، کسی کا خیال تھے ہم بھی
گئے دنوں میں بہت با کمال تھے ہم بھی
.
ہماری کھوج میں رہتی تھیں تِتلیاں اکثر
کہ اپنے شہر کا حسن و جمال تھے ہم بھی
.
زمیں کی گود میں سر رکھ کر سو گئے آخر
تمہارے عشق میں کتنے نِڈھال تھے ہم بھی
.
ضرورتوں نے ہمارا ضمیر چاٹ لیا
وگرنہ قائلِ رزقِ حلال تھے ہم بھی
.
ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دُھن میں
کہ زندگی میں کبھی لازوال تھے ہم بھی
پروین شاکر
تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے
چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو
نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے
لہو لہو کے سوا کچھ نہ دیکھ پاؤ گے
ہمارے نقش قدم اس قدر عیاں ہوں گے
سمیٹ لیجئے بھیگے ہوئے ہر اک پل کو
بکھر گئے جو یہ مو��ی تو رائیگاں ہوں گے
اچاٹ دل کا ٹھکانا کسی کو کیا معلوم
ہم اپنے آپ سے بچھڑے تو پھر کہاں ہوں گے
ہیں اپنی موج کے بہتے ہوئے سمندر ہم
تمام دشت جنوں میں رواں دواں ہوں گے
یہ بزم یار ہے قربان جائیے اس پر
سنا ہے اشکؔ یہاں دل سبھی جواں ہوں گے
ابراہیم اشک
“You should not be afraid of someone who has a library and reads many books; you should fear someone who has only one book; and he considers it sacred, but he has never read it”
— Friedrich Nietzsche
"All of us are selective sinners. We choose the sins we are comfortable with and judge others that commit ones we are not comfortable with."
— Shams Tabrizi
جو کچھ تمہارے پاس ہے، وہ سب ختم ہوجائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا، ہم اُنہیں اُن کے بہترین کاموں کے مطابق اُن کا اجر ضرور عطا کریں گے۔
سورۃ النحل