وعدہ کرتا ہوں کہ میں عمران خان کے ناحق قید اور بیماری کو نورمالائز نہیں ہونے دوں گا، جو مجھ سے ہوگا وہ خان کے لئے ضرور کروں گا لیکن خاموش کبھی بھی نہیں بیٹھوں گا
🚨Repost, copy, post it again
I as a Pakistani civilian ask a simple Question from the state of Pakistan that
#Where_is_imrankhan@IHRF_English you must take action against this illegally obtained government.
@UNHumanRights
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
9 مئی،28 نومبرD چوک،مریدکے اور اب راولاکوٹ عاصم خنزیر خ و ن کا پیاسا ہے پاکستانیوں اگر اس خنزیر سے اپنا ملک اور اپنا خاندان بچانا ہے تو سب پاکستانیوں کو ملکر اس کے خلاف نکلنا ہوگا دوسرا کوئی راستہ نہیں
#گولی_کیوں_چلائی#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
اب ڈائن یعنی مریم اور چیندق سلیم کا کیا ہوگا کیونکہ مریم کا کہنا تھا کہ سائفر بھیجنے والے اب ڈر رہے ہیں کہ بیچارے سائفر کیساتھ پاکستان میں زیادتی ہو جاتی ہے اور چیندق کہہ رہا تھا کہ سائفر اگر سچا ثابت ہوا تو میں صحافت چھوڑ دوں گا۔
#سائفر_ایک_حقیقت#یرغمال_خان_کو_رہا_کرو
March 7, 2022 Pakistani Diplomatic Cypher (Transcription)
The cable is labeled Secret.
——
I had a luncheon meeting today with Assistant Secretary of State for South and Central Asia, Donald Lu. He was accompanied by Deputy Assistant Secretary of State Les Viguerie. DCM, DA and Counsellor Qasim joined me.
At the outset, Don referred to Pakistan’s position on the Ukraine crisis and said that “people here and in Europe are quite concerned about why Pakistan is taking such an aggressively neutral position (on Ukraine), if such a position is even possible. It does not seem such a neutral stand to us.” He shared that in his discussions with the NSC, “it seems quite clear that this is the Prime Minister’s policy.” He continued that he was of the view that this was “tied to the current political dramas in Islamabad that he (Prime Minister) needs and is trying to show a public face.” I replied that this was not a correct reading of the situation as Pakistan’s position on Ukraine was a result of intense interagency consultations. Pakistan had never resorted to conducting diplomacy in public sphere. The Prime Minister’s remarks during a political rally were in reaction to the public letter by European Ambassadors in Islamabad which was against diplomatic etiquette and protocol. Any political leader, whether in Pakistan or the U.S., would be constrained to give a public reply in such a situation.
I asked Don if the reason for a strong U.S. reaction was Pakistan’s abstention in the voting in the UNGA. He categorically replied in the negative and said that it was due to the Prime Minister’s visit to Moscow. He said that “I think if the no-confidence vote against the Prime Minister succeeds, all will be forgiven in Washington because the Russia visit is being looked at as a decision by the Prime Minister. Otherwise, I think it will be tough going ahead.” He paused and then said “I cannot tell how this will be seen by Europe but I suspect their reaction will be similar.” He then said that “honestly I think isolation of the Prime Minister will become very strong from Europe and the United States.” Don further commented that it seemed that the Prime Minister’s visit to Moscow was planned during the Beijing Olympics and there was an attempt by the Prime Minister to meet Putin which was not successful and then this idea was hatched that he would go to Moscow.
I told Don that this was a completely misinformed and wrong perception. The visit to Moscow had been in the works for at least few years and was the result of a deliberative institutional process. I stressed that when the Prime Minister was flying to Moscow, Russian invasion of Ukraine had not started and there was still hope for a peaceful resolution. I also pointed out that leaders of European countries were also traveling to Moscow around the same time. Don interjected that “those visits were specifically for seeking resolution of the Ukraine standoff while the Prime Minister’s visit was for bilateral economic reasons.” I drew his attention to the fact that the Prime Minister clearly regretted the situation while being in Moscow and had hoped for diplomacy to work. The Prime Minister’s visit, I stressed, was purely in the bilateral context and should not be seen either as a condonation or endorsement of Russia’s action against Ukraine. I said that our position is dictated by our desire to keep the channels of communication with all sides open. Our subsequent statements at the UN and by our Spokesperson spelled that out clearly, while reaffirming our commitment to the principle of UN Charter, non-use or threat of use of force, sovereignty and territorial integrity of States, and pacific settlement of disputes.
[continues below]
انصافینز سب انگریزی میں یہ ٹرینڈ #ImranKhanUnjustlyJailed شروع کریں اور عمران خان کے ناحق قید، بیماری اور قید تنہائی پر بھرپور آواز اٹھائیں��
آپ عمران خان کی رہائی کے لئے جو بھی کر سکتے ہو وہ ضرور کریں لیکن خاموش نہیں بیٹھنا
مراد جب ہم سوشل میڈیا پر قیادت سے اڈیالہ جیل یا خان صاحب حوالے سے کمپین چلانا شروع کر دیتے ہیں تو یہی قیادت پھر پلٹ کر ہم پر وار کرتے ہیں جن میں سلمان اکرم راجہ،شیر افضل مروت،شفیع جان سر فہرست ہے
مطالبہ ہے کہ کمان علیمہ خانم کی ہاتھ میں دیا جائے مزید کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی ��رخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،��ی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا ��کتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لی��ے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے ��ل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-