غیرت ہے بڑی چیز جہاں میں؟؟
یہ کوٹ ادو کے عابد حسین بھٹی ہیں، ایک غریب مرغی فروش، مگر حوصلے اور غیرت میں کسی پہاڑ سے ��م نہیں۔ وہ اپنے جوان بیٹے عمران بھٹی کی مبینہ پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد انصاف کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہر قسم کی پیشکش اور مراعات کو ٹھکرا چکے ہیں۔
ایک طرف پورا نظام ہے، جو اپنے افسران کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، اور دوسری طرف ایک نہتا، غریب مگر باہمت باپ، جو اپنے لختِ جگر کے خون کا سودا کرنے پر آمادہ نہیں۔ وقت گواہ ہے کہ ایسے معرکے صرف طاقت سے نہیں، بلکہ سچ، صبر اور استقامت سے جیتے جاتے ہیں۔
علاقے کے بعض بااثر افراد کی جانب سے دیت کی مد میں 98 لاکھ 30 ہزار روپے کی پیشکش کی گئی، مگر عابد بھٹی نے اپنے بیٹے کے خون کی قیمت لگانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں دولت نہیں، انصاف چاہیے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ماضی کی طرح دباؤ ڈالنے یا جھوٹے مقدمات کے ذریعے اس خاندان کو جھکانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن اس بار سوشل میڈیا، عوامی شعور اور میڈیا کی طاقت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کیے جا��یں گے۔
چھ ماہ بعد عمران مانی کی قبر کشائی کی گئی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے میت کو کوٹ ادو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فرانزک رپورٹ میں موت کی وجہ گلا دبانا بیان کی گئی ہے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد دوبارہ تدفین کر دی گئی۔
ایک باپ کی یہ جدوجہد صرف اپنے بیٹے کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس مظلوم کے لیے ہے جو انصاف کی امید لیے زندہ ہے۔ غربت نے عابد بھٹی کے قدم نہیں روکے، بلکہ ان کے حوصلے کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
سلام ہے اس باپ کی غیرت، استقامت اور محبت کو، جو اپنے جوان بیٹے کے خون کا سودا کرنے کے بجائے انصاف کی جنگ لڑ رہا ہے۔ دعا ہے کہ سچ سامنے آئے، قانون اپنا راستہ اختیار کرے اور ہر مظلوم کو انصاف نصیب ہو۔
#انصاف_برائے_عمران_مانی #عابد_بھٹی #کوٹ_ادو
مریم نواز کی سی سی ڈی کو اسحق ڈار کے نواسے کے ساتھ بھی وہی کرنا چاہیے جو عام پاکستانیوں کے نیفے میں اچانک ہوجاتا ہے۔۔۔
جرم تو وہی ہے تو سزا بھی وہی دے پھر
آزاد کشمیر احتجاج پورے کشمیر میں پھیل گیا!!
ہجیرہ سے لیں کر مظفر آباد تک پورا کشمیر بند رہیگا, کشمیریوں کو چھیڑنے سے پہلے, مقبوضہ کشمیر سے کچھ سبق سیکھ لیتے, وہ 78 سال سے جدا وجہد کرکے تھکتے نہیں, اب آزاد کشمیر میں تحریک شروع ہوچکی ہے!!
اسحاق ڈار استعفیٰ دے
اسحاق ڈار کا بیٹا رضا ڈار کا ماموں جو پنجاب کابینہ میں ہے استعفیٰ دے
سی سی ڈی بتائے رضا ڈار کو ہاف فرائی کرنا ہے یا فل فرائی کرنا ہے
عمران ریاض خان
شرمناک اور افسوسناک۔ مجھے لگا تھا حمیرا قمر صاحبہ کے جانے کے بعد APPNA میں پٹواری مائینڈ سیٹ میں کمی آئے گی ۔ مجھے لگتا ہے کہ ڈاکٹر بابر راؤ صاحب بہتر آدمی ہیں۔
ایک قومی فورم پر عمران خان کی 1992 ورلڈ کپ کی تصویر کی defacement ایک گھٹیا عمل ہے۔ سبھی کی تصاویر ��ارمل ہیں۔ صرف عمران خان کی تصویر کے ساتھ یہ کرنا پاکستانیت کی توہین ہے۔ کیا APPNA میں ڈاکٹرز اس حد تک کی کم ظرفی کو قبول کریں گے۔ یہ شرمناک ہے۔ APPNA کے ممبرز کو اس گھٹیا اقدام پر بولنا ہوگا۔ یہ آپ سب کے اجتماعی شعور کی توہین ہے۔ آپ کے علم عقل دانش شرافت اور قومی اقدار اور قومی وقار کی توہین ہے۔ 92 کا ورلڈ کپ سیاسی نہیں ہے۔ ایک قومی ہیرو سے یہ سلوک صرف کم ظرف لوگ کر سکتے ہیں۔
کور ممبر صہیب جاوید جو کہ شوکت نواز میر جب گرفتار ہوئے ان کے ساتھ تھے صہیب جاوید جو کہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے
ان کا خفیہ مقام سے ویڈیو پیغام سوشل میڈیا میں سامنے آگیا ہے۔۔۔۔۔۔
کور ممبر شوکت نواز میر کو گرفتار ہوئے 40 گھنٹے ہو گے ہیں ابھی تک نہ ہی شوکت نواز میر صاحب کو عدالت میں پیش کیا گیا
شوکت نواز میر کو گرفتار راجہ سہیل SHO نے کیا ان سے پوچھا جاۓ شوکت نواز میر کہاں پر ہے۔
عوام کا مطالبہ
#شوکت_نواز_میر#AJKRightsmovement
جتنی طاقت ریاست نے شوکت نواز میر کو پکڑنے میں لگائی اگر اتنی طاقت دہشت گرد پکڑنے میں لگائی جاتی تو ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی میں نہ مارا جاتا ! آئے روز بلوچستان میں ٹرینیں نا اُڑائی جاتیں ، کراچی کا نہتا شہری بیٹیوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ نا بنتا
شوکت میر کی گرفتاری
نیلم ویلی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اٹھمقام عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنے میں مرد اور خواتین کی بڑی تعداد میں ریلی کی شکل میں امد اور نعرہ بازی
🚨 گزشتہ تین برسوں سے ہم انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں،
مگر نظامِ عدل کی بے حسی اب حد سے بڑھ چکی ہے۔ ہمیں محض طفل تسلیوں کے پیچھے دوڑایا جا رہا ہے۔ قاضی فائ�� عیسیٰ کے حالیہ اعتراف نے اس سچائی پر مہر لگا دی ہے کہ عدالتیں آزاد نہیں، بلکہ پسِ پردہ احکامات پر عمل پیرا ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان عدالتوں سے عام آدمی کو انصاف ملنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔"
علیمہ خان
یہ وہ SHO راجہ سہیل ہیں جس نے شوکت نواز میر کو گرفتار کیا
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شوکت نواز میر کی موجود�� جگہ، ان کی خیریت اور ان کے قانونی حقوق کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
#RightsMovementAJK
ابھی اس بہن کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو دیکھی جس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
تصویر میں نظر آنے والی یہ ہماری بہن شاہدہ مختیار ہیں، جو اس وقت اسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہیں اور شدید تکلیف میں ہیں۔
شاہدہ مختیار کے مطابق، ان کے شوہر ابراہیم نے ان پر بدترین تشدد کیا، انہیں کمرے میں بند کر کے بجلی کے جھٹکے دیے اور پھر چوتھی منزل سے نیچے دھکیل دیا۔ وہ اس وقت شدید زخمی حالت میں اسپتال میں موجود ہیں، جہاں ان کا سر پھٹا ہوا ہے، آنکھ پر گہری چوٹ ہے اور ٹانگ بھی ٹوٹ چکی ہے۔ وہ ��رد سے تڑپ رہی ہیں لیکن تاحال انہیں وہ طبی اور قانونی امداد نہیں مل سکی جس کی وہ حقدار ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک اور دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ شاہدہ کے معصوم بچے ابھی بھی اس ظالم شخص کے قبضے میں ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ایک اسٹور روم میں بند کر کے اذیت دی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ابراہیم کی دوسری اہلیہ ربیعہ خان اور ان کی بیٹی اقصی بھی اس ظلم کا شکار ہو کر لاپتہ ہو چکی ہیں۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے اور انصاف کے لیے پکار رہی ہے۔
ہم اعلیٰ حکام، وزیرِ اعلیٰ، آئی جی پولیس اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ��یں کہ:
اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
ظالم شوہر ابراہیم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
معصوم بچوں کو فوری طور پر بازیاب کرا کر تحفظ فراہم کیا جائے۔
شاہدہ مختیار کو مفت اور بہترین طبی سہولیات دی جائیں۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ آواز حکامِ بالا تک پہنچ سکے اور اس مظلوم بہن اور ان کے بچوں کو انصاف مل سکے۔
یاد رکھیں، ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا ظالم کا ساتھ دینے کے برابر ہے۔