I think you must know or rather have asked about it. My choice is that I will follow Makkah’s instructions. You think that there are some bigger mullahs over here than them. I don’t want to go into that argument that which mullah is big or which is small, don’t demean the rest. My religion and I am not answerable to anyone rather than Allah. Just “Live and let live”. Do whatever you want, I have nothing to do with it and that’s the norm everyone should follow. Rest we can have a debate on this topic I am always ready.
Credit where it’s due — JAI HINDH India’s victory reflects not just a strong tournament performance, but the strength of a well-structured cricketing system. Consistency, depth, and preparation across the campaign were evident. It’s a reminder that sustainable success in sport is built on strong foundations. Congratulations to the team on a deserved title.
تاریخ کے کٹہرے میں ہم سب نے کھڑا ہونا ہے۔
2021 سے لے کر 2026 تک ہم مسلسل کہتے آئے کہ یہ خوش فہمی نہ پالیں کہ افغانستان میں آپ کی “دوست حکومت” آگئی ہے۔ دہشتگرد کبھی دوست نہیں ہوتا، دہشتگرد صرف دہشتگرد ہوتا ہے۔
ہم نے خبردار کیا تھا کہ نظریاتی وابستگیوں اور وقتی مفادات کی بنیاد پر بنائی گئی پالیسیاں آخرکار ریاست اور عوام دونوں کو نقصان پہنچائیں گی۔ آج وہی عناصر، جنہیں کل تزویراتی گہرائی یا دوستی کا نام دیا جارہا تھا، نہ جانے کس کس عنوان سے آپریشنوں کی زد میں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھا؟
جب تک ریاستی پالیسی کی بنیاد یہ نہیں ہوگی کہ دہشتگرد کا نہ کوئی دوست ہوتا ہے، نہ کوئی مذہب، نہ کوئی قوم تب تک ہم یہی غلطیاں دہراتے رہیں گے۔ تب تک ہمارے اپنے لوگ بے گھر ہوں گے، ہمارے بازار ویران ہوں گے اور ہمارے نوجوان قبروں اور کیمپوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔
ریاست کی ذمہ داری وقتی بیانیہ بنانا نہیں، مستقل اصول اپنانا ہے۔ اور اصول صرف ا��ک ہونا چاہیے:
دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز، غیرمشروط اور دوٹوک موقف۔
ورنہ تاریخ صرف یاد نہیں رکھتی، فیصلہ بھی سناتی ہے۔
افغان بارڈر پر کشیدگی، فائرنگ اور عسکری کارروائیوں کے باعث چترال کے سرحدی علاقے ارندو اور دیگر ملحقہ دیہات کے مکین بے گھر ہو کر دروش اور لوئیر چترال کے مختلف مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ یہ خاندان اس وقت کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اے این پی لوئیر چترال کے ذمہ داران اور خدائی خدمتگار آرگنائزیشن اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کی حتی المقدور امداد کر رہے ہیں، مگر یہ ایک محدود کوشش ہے۔ مقامی افراد کے مطابق نہ صوبائی حکومت کہیں دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام سامنے آیا ہے۔
دروش میں ایک کالج کے دو ہال آئی ڈی پیز کے لیے مختص کیے گئے ہیں جہاں خواتین اور مرد ایک ہی جگہ قیام پر مجبور ہیں، جو نہ صرف غیر مناسب بلکہ انسانی وقار کے بھی منافی ہے۔ بنیادی سہولیات، خوراک، طبی امداد اور علیحدہ رہائش کا انتظام فوری طور پر ناگزیر ہے۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ان متاثرہ خاندانوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی حالتِ زار پر رحم کریں اور ان کے باعزت قیام، خوراک، صحت اور سکیورٹی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے۔
آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کشمکش جاری ہے، اس کا پس منظر پچاس برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ ان حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان ابواب کو پڑھنا ضروری ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ چار نسلوں سے ہم چیخ چیخ کر اپنی ریاست کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، مگر ہماری آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
باچا خان نے برملا کہا تھا کہ یہ روس اور امریکہ کی جنگ ہے، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ مگر نہ قوم نے اس بات پر توجہ دی اور نہ ہی مقتدر حلقوں نے۔ پھر ولی خان نے خبردار کیا کہ اگر آپ کسی کے گھر بارود بھیجیں گے تو بدلے میں آپ کو پھول نہیں ملیں گے، مگر انہیں "روسی ایجنٹ" قرار دے دیا گیا۔ اسفندیار ولی خان نے اسمبلی کے فلور پر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میرے بچے کو کارتوس اور کلاشنکوف نہیں، قلم دیا جائے؛ اسے خودکش جیکٹ نہیں، اسکول بیگ دیا جائے۔ مگر انہیں "امریکی ایجنٹ" کہہ کر رد کر دیا گیا۔
لاکھوں خدائی خدمتگاروں، پختون قوم پرستوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تشدد کا راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
آج جو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں، یہ کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔ ہم نے جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ انتہاپسندی کے بیج بوئے گئے، نفرت کو ہوا دی گئی، اور پوری ایک نسل کو ذہنی طور پر جنگ اور تشدد کے بیانیے کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر خدانخواستہ یہ آگ آج دوبارہ بھڑک اٹھی تو پھر یہ کسی سرحد، کسی قومیت اور کسی ریاست کی تمیز نہیں کرے گی۔
ہم آج بھی یہ مؤقف دہراتے ہیں کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی امن پسند ہے۔ جو جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ عالمی قوتوں کی جنگ ہے، اور اس کے لیے اس خطے کو برسوں سے میدان بنایا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں قائم حکومت واقعی عوام کی مرضی کی نمائندہ ہے؟ کیا پاکستان اور خصوصاً پختونخوا میں بیٹھی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوام کی رائے سے وجود میں آئی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان حکومتوں کے قیام میں عوامی منشا سے زیادہ دیگر قوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
میں آج بھی دونوں اطراف کے مقتدر حلقوں سے یہی گزارش کروں گا کہ جو بھی پالیسیاں بنائی جائیں، ان میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی چاہتے ہیں۔
اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اپنی مسلمانی کی خاطر امن کو ترجیح دیں۔ اگر آپ پختون ہیں تو پختونولی کی روایات کو یاد رکھیں، جن کی بنیاد عزت، رواداری اور جرگے کے ذریعے مسائل کے حل پر ہے۔ اگر آپ افغان ہیں تو افغانیت کا تقاضا بھی امن ہے، اور اگر آپ پا��ستانی ہیں تو پاکستانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کی آگ میں نہ جھونکا جائے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں بنی۔
میں اپنی قوم سے بھی یہی کہوں گا کہ اس وقت میرے بس میں جو ہے، میں وہ کر رہا ہوں۔ اگر اس سے بڑھ کر کچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہوش، صبر اور شعور کا دامن نہ چھوڑیں اور نفرت کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
@ImranRiazKhan گلی کے کوچے میں پیدا ہونے والا چوری کے راستے سے باہر ملک بھاگنے والا دو ٹکے کے یوٹیوبر تم لوگ اسٹیبلشمنٹ کے ناجائز اولاد ہے کام تمام کرنے کے بعد اب تم کو گ ا ن ڈ میں ل ن دینے سے بھاگے ہو اور تم لوگوں کو کس منہ سے طعنہ دیتے ہیں
اب فیصلہ کرنا ہوگا
اب قوت دیکھانا ہوگا
اب یکجہتی کے ساتھ نکلنا ہوگا
اب مزید بارود کا کھیل منظور نہیں
اب امن اور امن کے نعرے کے ساتھ اور سفید جھنڈوں کے ساتھ نکلنا ہوگا
اگست 23 اسلام اباد امن لانگ مارچ
#PashtunAmanMarch2Islamabad
اب 23 اگست کو اسلام اباد میں پختون قوم خود فیصلہ کرے گے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ یہ عوام نہ کسی حکومت کو تسلیم کرتی ہے، نہ کسی ادارے کی مسلط کردہ جنگ کو۔
ایمل ولی خان
#قامي_امن_جرګ��
#PashtunAmanMarch2Islamabad
کون سی سازش؟ کون نہیں چاہتا کہ تمہاری حکومت اور فوج کا اعتماد بحال رہے جو روز اول سے بحال ہے۔ کیا آپ ان شہریوں کی سازش کی بات کر رہے ہیں جن کے بچے کل مارے گئے؟ میں پھر دہرا رہا ہوں — بدقسمتی سے، تم پی ٹی آئی کے کارکنوں کے بھی وزیراعلٰی نہیں ہو، بلکہ ان لوگوں کے وزیراعلٰی ہو جن کے خلاف وہ کارکن کھڑے ہوئے۔
ایک باشعور انسان اگر گنڈاپور کا گزشتہ رات اور آج کا بیان سن لے، تو اُسے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ "سافٹ ویئر اپڈیٹ" سے کیا مراد ہوتا ہے۔ گنڈاپور چاہے سو مرتبہ آپریشن کے حق میں دلیل دے، لیکن جب ایک قوم کسی آپریشن کو اجتماعی طور پر مسترد کر دے، تو وہ فیصلہ اٹل ہو جاتا ہے۔
ہم نہ اس آپریشن کو مانتے ہیں، نہ کسی نئی جنگ کو۔
اب 23 اگست کو اسلام آباد میں پختون خود فیصلہ کر��ں گے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ یہ عوام نہ کسی حکومت کو تسلیم کرتی ہے، نہ کسی ادارے کی مسلط کردہ جنگ کو۔
#PashtunAmanMarch2Islamabad
وادی تیراہ، ضلع خیبر میں سیکورٹی فورسز کی مارٹر فائرنگ سے ایک معصوم بچی کی شہادت اور اس کے بعد مظلوم عوام کے پرامن احتجاج پر فائرنگ کے نتیجے میں چھ بے گناہ مظاہرین کی شہادت کی اطلاع افسوسناک اور بدترین دہشتگردی ہے۔
کیا قبائلی عوام کو اپنے جگر گوشوں کے قتل پر احتجاج کا حق نہیں؟ کیا پرامن اور آئینی احتجاج کا جواب سیدھی فائرنگ اور مظاہرین کے قتل عام سے دیا جائے گا؟ فوجی آپریشنز، سویلین آبادی پر بمباری، مارٹر گولوں کی فائرنگ اور ڈرون حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔
اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور بے حسی پر سوال اٹھتا ہے، جنہوں نے ’’ایکشن اِن ایڈ سول پاور ایکٹ‘‘ کے ذریعے فورسز کو ہر گھر میں گھسنے اور عوامی آزادیوں کو پامال کرنے کا کھلا لائسنس دے رکھا ہے۔ اگر صوبائی حکومت کچھ اور نہیں کر سکتی تو کم از کم یہ کالے قوانین واپس لے تاکہ مزید بے گناہ قبائلی عوام کو نشانہ نہ بنایا جائے۔