@muzamil_45@Khushal_Khattak کنجر پہلے تو یہ بتاؤ یہ پنجابی طالبان کس کی پیداوار ہیں۔ بقول فوج کے دہشتگردی ہندوستان کے تعاون سے ہو رہی ہے۔ اور آپکی میڈم کہہ رہی ہیں ہمیں ہندوستان سے زیادہ پختونخواہ سے ڈر ہے۔
ناجائز نظام کی پیداوار فارم 47 کی جعلی وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے ساتھ لگنے والے پاکستان کے تینوں دیگر صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دیا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے مودی اور انڈیا کو کلین چٹ دے دی ہے۔
اس کے بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اور اس نظام کو بنانے اور چلانے والوں کی سوچ پر بھی مز��د سوال کھڑے کر دئیے ہیں !!
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران بھی نوازشریف سمیت یہ ٹولہ غائب رہا تھا اور جنگ کے خاتمے تک کوئی بیان نہیں آیا۔اور ڈان لیکس کے زریعے بھی دہشتگردی کا الزام پاکستان پر لگا دیا تھا- یہ ہمیشہ قومی مفاد کے آگے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں - پاکستان، پاکستانی اور پاکستانی ادارے صرف ان کے لئے تبھی قابل احترام رہتے ہیں جب تک یہ ان کی ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ PMLN کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے-
ان لوگوں کو 8 فروری 2024 کو ناصرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور کی عوام بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اس شرمناک شکست کے باوجود ایسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کو اقتدار پر بٹھانے اور انگلی پکڑ کر چلانے والوں کے لیے یہ ایک مزید سبق ہے کہ عوام کے ووٹ اور عوام کے ��یصلے کی قدر نہ کر کے ملک مضبوط نہیں تباہ ہو جاتے ہیں۔
@Mardan_DC محترم DC Mardan، ڈاکٹر آصف غفور،تعلق تخت بھائی مردان،ایک فارم پر ویٹرنری خدمات انجام دے رہے تھے۔ فارم پر ان کے ساتھ مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ آپ سے گزارش ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں
@CSKPOfficial محترم چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، ڈاکٹر آصف غفور،تعلق تخت بھائی مردان،ایک فارم پر ویٹرنری خدمات انجام دے رہے تھے۔ فارم پر ان کے ساتھ مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ آپ سے گزارش ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں
@CSKPOfficial چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ سے مطالبہ ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس ل��تے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ڈاکٹر آصف غفور کو انصاف فراہم کیا جائے۔
@CSKPOfficial ڈاکٹر آصف غفور، تعلق تخت بھائی، مردان، ایک فارم پر باقاعدگی سے ویٹرنری خدمات انجام دے رہے تھے۔ جانوروں کے علاج کے لیے ادویات بھی فراہم کرتے رہے۔ تقریباً 15 دن بعد دوبارہ فارم بلائے جانے پر ان کے ساتھ مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
@Mardan_DC ڈپٹی کمشنر مردان سے مطالبہ ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ڈاکٹر آصف غفور کو انصاف فراہم کیا جائے۔
@Mardan_DC ڈاکٹر آصف غفور، تعلق تخت بھائی، مردان، ایک فارم پر باقاعدگی سے ویٹرنری خدمات انجام دے رہے تھے۔ جانوروں کے علاج کے لیے ادویات بھی فراہم کرتے رہے۔ تقریباً 15 دن بعد دوبارہ فارم بلائے جانے پر ان کے ساتھ مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
@Mardan_DC مون سون کی شدید بارشوں کے دوران فارم کے کچھ بچھڑے بیمار ہوئے تو ڈاکٹر آصف نے فوری طور پر پہنچ کر ان کا علاج کیا۔ زیادہ تر جانور صحت یاب ہوگئے، تاہم ��ین بچھڑوں کی حالت انتہائی تشویشناک تھی، جس پر فارمر کو خصوصی نگہداشت اور مسلسل نگرانی کی ضرورت سے آگاہ کیا گیا۔
@Mardan_DC Deputy Commissioner Mardan
ڈاکٹر آصف غفور، جو تخت بھائی، مردان سے تعلق رکھتے ہیں، ایک فارم پر باقاعدگی سے ویٹرنری خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ اپنی ذاتی کلینک سے بھی فارم کے جانوروں کے لیے ادویات فراہم کرتے رہے، حتیٰ کہ بڑی رقم کی ادویات ادھار بھی دیں۔
@KPESED صبح 7 سے 9 بجے سمر کلاسز کا شیڈول بنا دیا گیا،جیسے پوراصوبہ دفتر کے ساتھ آباد ہوکئی خواتین اساتذہ صرف۲گھنٹے کی کلاسز کلیے روزانہ40 سے 50 کلومیٹر سفر کریں گیااوپر سے ایسے اسکول بھی ہیں جہاں بجلی تک موجود نہیں لیکن اے سی کمروں میں بننے والی پالیسیوں میں زمینی حقائق کہاں نظر آتے ہیں
@KPESED سالانہ امتحانات ختم، نتائج مکمل، مگر درسی کتب آج تک طلبہ تک نہیں پہنچ سکیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اساتذہ بچوں کو کیا پڑھائیں گے؟ ہوا میں نصاب یا خالی بستوں کو لیکچر؟
@KPESED خیبر پختونخوا حکومت نے موسمِ گرما کی تعطیلات کا اعلان تو کر دیا، مگر ساتھ ہی جون میں سمر کیمپس چلانے کا حکم بھی جاری کر دیا۔ یعنی چھٹیاں بھی ہوں گی اور اسکول بھی کھلے رہیں گے۔ شاید اب “تعطیلات” کا مطلب بھی بدل چکا ہے۔
@DCPeshawar@infokpgovt@PMRUKP@CSKPOfficial@Sanaullah_019 چارسدہ اڈہ کو اس کی موجودہ جگہ سے منتقل کر کے کسی کشادہ اور موزوں مقام پر شفٹ کیا جائے، تاکہ شہر کے اندر ٹریفک کے بہاؤ کو نارمل کیا جا سکے۔
امید ہے کہ ان تجاویز پر غور کیا جائے گا تاکہ پشاور شہر کو مزید بہتر اور منظم بنایا جا سکے
@DCPeshawar@infokpgovt@PMRUKP@CSKPOfficial@Sanaullah_019 •شعبہ بازار کو رنگ روڈ کے ساتھ کسی مناسب مقام پر منتقل کیا جائے، جبکہ موجودہ جگہ کو ایک منظم فوڈ سٹریٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جس سے شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
•کوہاٹ روڈ اور چارسدہ روڈ پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے انڈر پاسز تعمیر کیے جائیں