هم نے نے اٸین کی بالادستی کی بات کی ہے هم نے حق کی بات کی ہے هم نے جمهوریت کی بات کی ہے هم اُن کے خلاف ہے جو اٸین کو نہیں مانتے هم اُن کے خلاف ہے جو ظلم کرتے ہے هم اُن کے خلاف ہے جو بادشاہ بنے ہوۓ ہے ہہاں ہمیں جمھوریت چاۓ منظور پشتون کی گرفتاری قابل مزاحمت ہے
@ManzoorPashteen
اجکل جتنی مشکلات PTi برداشت کررہی ہے ۔
ماضی میں تمام جماعتوں نے یہ مشکلات دیکھی ہیں ۔
اگر تمام جماعتیں یک زبان ہوکر صرف 6مہینے یہ مشکلات برداشت کرلیں ۔
میں یقین سے کہتا ہوں کہ فوج سیاست میں مداخلت بند کردیگا ۔
بس معمولی جرات چاہیں ۔
یہ شخص دو سال تک فقط اپنی قوم کی آواز بننے کے جرم میں جیل میں رہا۔ نہ اسے مچھروں نے کاٹا، نہ اے سی کا مسئلہ درپیش ہوا، نہ سانس اکھڑی، نہ کمر میں درد کی شکایت ہوئی اور نہ گھر کے کھانے کی فرمائش کی۔
وفاقی وزیر سب بننا چاہتے ہیں، علی وزیر کوئی نہیں۔
مزاحمت زندہ باد
@Aliwazirna50
26مئی 2019 کو رمضان کے روزے تپتی دھوپ میں پاکستانی فوج نے خڑکمر نارتھ وزیرستان میں پشتون مظاہرین کو گولیوں سے بوند ڈالا، 16 مظاہرین شہید اور 47 زخمی ہوے۔
کل 26 مئی 2023 صبح 9بجے خڑکمر میں خڑکمر واقعے،اُس کے بعد ریاستی جبر،کریک ڈاؤن اور ناانصافیوں کے حوالے سے جلسہ ہے۔
سب شرکت کرے۔
عمران خان کو جرنیل پاشا، فیض اور باجو کے ساتھ یاری اور کردار پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے.
ماضی میں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، پی ٹی وی اور لاتعداد اداروں پہ حملے ہوئے لیکن GHQ کا گیٹ کیوں آج اتنا مقدس ہے؟
پی ٹی آئی پہ کسی قسم کی پابندی کی مخالفت کی جائے گی.
#StopStateTerrorism
History will remember this man MNA @Aliwazirna50 from waziristan as the man of resistance & courage who spent 26 months in jail and refused to bow down to the tyrants of his time and stand firm on his stance like a rock.
سیاسی انجنئیرنگ میں کسی نے ڈیل کردیا اور کوئی ڈیل کی تلاش میں ہے،کسی نے پارٹی بدل لی اور کوئی آنےوالے حکومتوں میں حصہ لینے کےلئے فوج کی چاپلوسی میں مظاہرے اور بیانات دےرہا ہے۔
مگر دوسری طرف ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے آئے روز پشتونوں کے قتل عام پر سب خاموش ہے۔
آج خیبر میں ٹیچر شہید
ضلع ملیر پولیس سراسر غیر قانونی طور پر کراچی PTM کا جو پروگرام آج شیرپاؤ کالونی میں 12مئ کے حوالے سے ہونے جارہا ہے ۔۔
اس پروگرام کو نہیں ہونے دے رہے ہیں ۔
ہم کراچی PTM آج یہ ��رسی ہر صورت میں شیرپاؤ کالونی میں مناے گے۔
پختونخوا ٹانک پینگ علاقے میں مقامی کنسٹرکشن ٹھیکیدار وریشم گُل کو قتل کر دیا گیا۔
ڈالری جنگوں کا باقاعدہ آغاز ہوچُکا ہے۔جسکے آخر میں پشتون تباہ برباد ہوجائینگے اور جنرلوں کو آسٹریلیا میں جزیرے اور پاپا جونز کمپنیاں مِل ج��ئینگے۔
جب ایک بندا وکیل ہو اور مکمل طور پر جاہل ہو تو ظاہر سی بات ہے وہ ایسے ہی الزامات لگائے گا اور اسکو یہ پتہ تک نہیں ہوگا کہ ایک بڑی قومی تحریک جس نے سِرے سے کبھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا ہو اور نہ اُسکا پارلمان میں کوئی نمائندہ ہے تو وہ حکومت کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔
یہ ایک پشتون بچہ ہے آج اس پر پاکستانی فوج کے حملے کے دوران یہ خود زخمی ہے ماں بھی شدید زخمی حالت میں ہے ایک 12 سالہ بھائی بلال شہید ہوچکے ہیں۔
یہ جنرل کے گھر کا پنکھا بھی ہوتا تو اب تک اسکو ہاتھ لگانے والے کے ہاتھ توڑ دئے جاچکے ہوتے اور وزیراعظم کا دِل خون کے آنسو روتا۔
ضلع ٹانک کڑی حیدر میں ظالم فوج کی فائرینگ سے زخمی ہونے والہ محمد والد باطن خان۔
میں چیلنج دے کر کہتا ہوں کہ باطن خان یا اسکے خاندان کے کسی رکن کا دھشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مگر یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ریاست کی اپنی پیداوار دھشتگردی کی آڑ میں پشتون قوم کی نسل کُشی جاری ہے۔
ضلع ٹانک کے علاقے کڑی حیدر میں ظالم پاکستانی فوج کا مقامی پشتون آبادی پر حملہ۔
کئی بچے اور عورت��ں زخمی اور شہید۔
باطن خان بیٹنی کا 12 سالہ بیٹا شہید جبکہ ایک بیٹا، بیوی اور بہو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل۔
ٹھیک ہے جنرل کے گھر کا مور لے جانے والہ گرفتار۔
مگر APS شُہدا کے قاتل آج تک گرفتار کیوں نہیں ہوے۔؟ اور اوپر سے احسان اللہ احسان کو بنگلے۔
مور بازیابی کےلئے ریاست موجود ہے مگر ہزاروں بلوچ،پشتون،سندھی،مہاجر،شعیہ لاپتہ افراد کے بازیابی کےلئے اس ریاست میں کوئی نہیں۔
بلوچ قوم کے لئے انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے کے جرم میں کئی مہینے جیل کاٹنے کے بعد بلوچ رہنماء مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کو عدالتی ضمانت پر رہائی مِلی ہے۔
خوش امدید۔
یقیناً اس ملک میں محکوم قوموں کی حقوق کا مطالبہ ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
جہدِ مسلسل ہی محکوم قوموں کی طاقت ہے۔
میلٹری کورٹس میں سویلینز کی سماعت کل بھی غلط ت��ا آج بھی غلط ہے اور آئیندہ بھی غلط رہیگا۔
پشاور ہائی کورٹ کی اس کے خلاف فیصلہ اسکے غیرمنصفانہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
PHCفیصلے کے باوجود پختونخوا کے بہت سارے لوگ ابھی بھی ملٹری کورٹس کے متاثر ہے اور کئی سالوں سے جیلوں میں بند ہے۔
پختونخوا جنوبی وزیرستان بدر علاقے میں ایک اور خاتون فوج کے بچائے گئے لینڈ مائن دھماکے میں معزور۔
ریاستی ادارے مسلسل جنگی جرائم کر کے پشتونوں کی نسل کُشی کر رہے ہیں۔
جب تک یہ جنگی جرائم جاری رہینگے ہماری جدوجہد اِنکے خلاف جاری رہے گی۔
آج ریاست PTi کیخلاف جو غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے ۔
ماضی میں بھی اور مستقبل میں بھی یہ ہتکھنڈے دیگر جماعتوں کیخلاف استعمال ہوے اور ہونگے
آج تک کوئی جرنل_کرنل اور جج کیساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا ۔
یہ کام صرف سیاسی جمہوری لوگوں کیساتھ کیوں؟؟