آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے ��وبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی ��واز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ��و گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے ��ے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
یار، یہ کلپ تو دل میں اتر گیا۔ جب اس ننھی بچی سے لیموں خریدے تو اس کے چہرے پر آنے والی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے ساری دنیا کی دولت مل گئی ہو۔ اس کی معصوم مسکراہٹ نے یاد دلا دیا کہ بعض اوقات ہماری چھوٹی سی مہربانی کسی کی پوری دنیا روشن کر دیتی ہے۔ ❤️🍋
انسان اپنے آخری دن کی صبح بھی ویسے ہی اٹھتا ہے جیسے ہمیشہ اٹھتا تھا۔
وہ چائے یا قہوہ پیتا ہے، گھر والوں سے باتیں کرتا ہے، ہنستا ہے، مسکراتا ہے، مستقبل کے منصوبے بناتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ یہ اس کی زندگی کی آخری صبح ہے، آخری مسکراہٹ ہے، آخری گفتگو ہے، آخری سانسوں کا دن ہے۔
زمین پر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے، مگر آسمان پر اس کے نام کا آ��ری حکم صادر ہو چکا ہوتا ہے۔
پھر اچانک وہ لمحہ آ جاتا ہے جس سے کوئی بادشاہ بچ سکا، نہ کوئی فقیر، نہ کوئی طاقتور، نہ کوئی کمزور
موت کا حکم نامہ لیکر
فرشتے اترتے ہیں۔
اگر بندہ مؤمن ہو تو رحمت کے فرشتے جنت کی خوشخبری لے کر آتے ہیں، اور اگر بداعمال ہو تو عذاب اور انجام کی خبر سنانے والے فرشتے اس کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔
یہ اس سفر کا پہلا مرحلہ اورآغاز ہے جس سے واپس لوٹ کر کوئی نہیں آیا۔
پھر روح نکلنے کا دوسرامرحلہ شروع ہوتا ہے۔
ملک الموت اللہ کے حکم سے روح کو جسم کے پاؤں سے کھینچنا شروع کرتے ہیں۔
آنکھوں کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔
زبان خاموش ہونے لگتی ہے۔
طاقت جواب دینے لگتی ہے۔
وہ شخص جو کل تک اپنے فیصلوں پر ناز کرتا تھا، آج اپنے ہاتھ تک نہیں ہلا سکتا۔
وہ سب کو دیکھ رہا ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ دنیا اس کی نظروں سے دور ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔
پھر تیسرا وہ مرحلہ آتا ہے جب روح سینے سے اوپر اٹھتے ہوئے ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جس کا نقشہ قرآن نے کھینچا ہے:
﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ﴾
"ہرگز نہیں! جب جان ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے، اور لوگ کہتے ہیں: کون ہے جو اسے بچا لے؟(آج کوئی نہیں بچا سکتا )اور وہ خود یقین کر لیتا ہے کہ اب جدائی کا وقت آ گیا ہے۔"
اس وقت ڈاکٹر بے بس ہو جاتے ہیں۔
دوائیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔
مال و دولت خاموش کھڑے رہتے ہیں۔
اولاد کچھ نہیں کر سکتی۔
دوست کچھ نہیں کر سکتے۔
دنیا کا ہر سہارا ٹوٹ جاتا ہے۔
پھر روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے۔
کمرے میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔
کوئی روتا ہ��۔
کوئی دعا کرتا ہے۔
کوئی بے بسی سے چہرہ دیکھتا رہتا ہے۔
مگر موت کا سفر کسی کے لیے نہیں رکتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِن��ُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ﴾
"ہرگز نہیں! جب جان حلق تک پہنچ جاتی ہے، اور تم اسے دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ہم اس سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔"
یہ چوتھا مرحلہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو وہ سب کچھ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے جس پر وہ زندگی بھر ایمان لانے یا انکار کرنے کے درمیان کھڑا رہا تھا۔
پھر اچانک...
ایک سانس آتی ہے۔
اور واپس نہیں جاتی۔
آنکھیں ایک جگہ ٹھہر جاتی ہیں۔
ہونٹ خاموش ہو جاتے ہیں۔
دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔
اور دنیا اعلان کر دیتی ہے:
"فلاں شخص فوت ہو گیا۔"
بس اتنی سی بات۔
جس کے لیے دنیا چھوٹی پڑتی تھی، آج وہ چند گز ��فن میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
جس نے محل بنائے تھے، اب قبر اس کا گھر بننے والی ہوتی ہے۔
جس نے مال جمع کیا تھا، وہ دوسروں میں تقسیم ہو رہا ہوتا ہے۔
جس نے رشتے بنائے تھے، سب قبرستان کے دروازے تک ساتھ جاتے ہیں، پھر واپس لوٹ آتے ہیں۔
اور وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔
صرف اپنے اعمال کے ساتھ۔
صرف اپنے رب کے سامنے۔
صرف اپنے انجام کے ساتھ۔
پھر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
"ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔"
آج ہم دوسروں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔
کل کوئی ہمارا جنازہ اٹھائے گا۔
آج ہم دوسروں کی قبروں پر کھڑے ہوتے ہیں۔
کل لوگ ہماری قبر پر کھڑے ہوں گے۔
آج ہم دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں۔
کل ہمیں دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔
کاش انسان موت کو صرف ایک خبر نہ سمجھے بلکہ اپنی آنے والی حقیقت سمجھے۔
کاش قبر میں اترنے سے پہلے اپنے اعمال کا حساب کر لے۔
کاش آخری سانس آنے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لے۔
اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے توبہ نصیب فرما، موت کے وقت کلمہ نصیب فرما، قبر میں راحت نصیب فرما، اور قیامت کے دن اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم الشيخ سيد داود شاہ الھاشمی
کل آخری دن ہے اتوار کی رات سے حج شروع ہوجائے گا مسئلہ ان کے لیئے نہیں ہے جن کے پاس ٹچ موبائل ہیں مسئلہ ان کے لیئے ہے جو ٹیکنالوجی سے نا واقف ہیں ۔
1:- بزرگ حجاج ایک بات یاد رکھیں کہ نسک کارڈ آپ کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس کو ہوٹل سے آتے ہوئے جاتے ہوئے لازمی پہنیں ۔
2:- آپ کے ہاتھ میں نیلے کلر کی یا کسی اور رنگ کی ریبن کہہ لیں یا پرنٹڈ ڈوری جسے گھڑی کی طرح پہنا دیا گیا ہے وہ آپ کے مکتب نمبر کی آئی ڈی ہے
جب آپ من��ٰ مزدولفہ یا عرفات جائیں گے تو آپ کی پہچان اس پہ لکھے مکتب نمبر سے ہوگی اس کو دیکھ کر آپ کو صحیح راستہ بتادیا جائے گا
3:- اگر آپ گم ہوجائیں تو پریشان نہ ہوں آپ کو سبز رنگ کی جیکٹ پہنے خادم حجاج کے پاس جائیں آپ کے گلے میں ایک سبز رنگ کا کارڈ ہوگا جس پہ آئی ڈی کارڈ لکھا ہوگا
وہ بھی آپ کو آپ کے کیمپ تک پہنچانے کا کام دے گا ۔
4:- جن لوگوں کے پاس موبائل ہیں وہ مدار ایپ ڈاؤن لوڈ کرلیں اس میں منیٰ مزدلفہ عرفات اور طواف زیارہ کے لیئے تمام نقشہ اور راستے موجود ہیں
جو آپ کو منزل تک پہنچانے میں مدد دیں گے ۔
5:- پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا ہے کھائے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے ��یکن پیئے بغیر انسان ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے گا ۔
6:- اپنا بیگ ہلکے سے ہلکا تیار کریں ایک آضافی احرام ، چھتری ، پلگ شو ، بغیر خوشبو والا صابن ، ایک ٹیشو رول ، سن گلاسز ، پاور بینک ، چٹائی ، آضافی جرانیں اور ہوا والا تکیہ لازمی رکھیں ۔
7:- اگر ہوسکے تو کالے چنے اور کچھ ڈرائی فروٹ اپنے پاس رکھیں ۔
8:- ایک بات یاد رکھیں کہ حج کا معنی ہی قربانی ہے اگر آپ یہاں اپنی انا ، اسٹیٹس اور تکبر کی قربانی نہیں دیں گے تو حج کا مطلب سمجھ نہیں سکیں گے ۔
9:- کوشش کریں کہ جب آپ 8 سے 12 ذی الحج تک مناسک حج ادا کریں تو ان کی پروپر گائیڈ لائیں آپ کے پاس ہو اپنے پاس آپ کتابچہ یا پمفلٹ رکھ لیں جس پہ حج کا طریقہ درج ہوتا ہے
کوشش کریں کہ اپنا گروپ علماء حضرات کے ساتھ بنائیں تاکہ آپ کو شرعی مسائل سمجھنے میں آسانی ہو ۔
10:- حج ان شاء اللہ آپ کا ہوگا لازمی ہوگا آپ سے پہلے بھی تمام لوگوں کا حج ہوا ہے و�� بھی زندہ اپنے وطن لوٹے ہیں اس لیئے پریشان نہیں ہونا ۔
جب ہم حج کی نیت کرتے ہیں تو کہتے ہیں اے اللہ اس حج کس میرے لیئے آسان فرما اور میری طرف سے قبول فرما تو اس لائن کو یقین کامل رکھ کر کہیئے گا پھر دیکھنا کہ ﷲ پاک کیسے آپ کے لیئے رستے بناتا ہے ۔
میں نے پچھلے سال حج کیا ہم بھی کنفیوز تھے الحمدللہ کوئی مسلہ نہیں ہوا بہت اچھا حج ہوا
حجاج کرام کے لیئے یہ اہم تحریر ہے ہوسکے تو ان تک پہنچا دیں باقی دعا کا طالب آپ کا بھائی
❤❤❤❤
#Hajj2026 #Hajj1447
دنیا میں فحاشی کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک کی غالب مذہب
1. تھائی لینڈ – (بدھ م��)
2. ڈنمارک – (عیسائیت)
3. اٹلی – (عیسائیت)
4. جرمنی – (عیسائیت)
5. فرانس – (عیسائیت)
6. ناروے – (عیسائیت)
7. بیلجیم – (عیسائیت)
8. اسپین – (عیسائیت)
9. برطانیہ – (عیسائیت)
10. فن لینڈ – (عیسائیت)
دنیا میں چوری کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک اور ان کی غالب مذہب:
1. ڈنمارک اور فن لینڈ – (عیسائیت)
2. زمبابوے – (عیسائیت)
3. آسٹریلیا – (عیسائیت)
4. کینیڈا – (عیسائیت)
5. نیوزی لینڈ – (عیسائیت)
6. بھارت – (ہندومت)
7. انگلینڈ اور ویلز – (عیسائیت)
8. امریکا – (عیسائیت)
9. سویڈن – (عیسائیت)
10. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)
دنیا میں شراب نوشی کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست ممالک اور ان کی غالب مذہب:
1. مالڈووا – (عیسائیت)
2. بیلاروس – (عیسائیت)
3. لیتھوینیا – (عیسائیت)
4. روس – (عیسائیت)
5. چیک ریپبلک – (عیسائیت)
6. یوکرین – (ع��سائیت)
7. انڈورا – (عیسائیت)
8. رومانیہ – (عیسائیت)
9. سربیا – (عیسائیت)
10. آسٹریلیا – (عیسائیت)
دنیا میں قتل کی بلند شرح والے ممالک اور ان کی غالب مذہب:
1. ہونڈوراس – (عیسائیت)
2. وینزویلا – (عیسائیت)
3. بیلیز – (عیسائیت)
4. ایل سلواڈور – (عیسائیت)
5. گوئٹے مالا – (عیسائیت)
6. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)
7. سینٹ کٹس – (عیسائیت)
8. بہاماس – (عیسائیت)
9. لیسوتھو – (عیسائیت)
10. جمیکا – (عیسائیت)
دنیا کی چھ خطرناک ترین گینگوں کی مذہبی شناخت:
1. یاکوزا – جاپان (لا مذہبی)
2. اگبیرس – نائجیریا (عیسائیت)
3. واہ سینگ وُو – ہانگ کانگ / چین (بدھ مت)
4. جمیکا بوس – جمیکا (عیسائیت)
5. پی سی سی – برازیل (عیسائیت)
6. آرین برادرہڈ – امریکا (انتہا پسند سفید فام عیسائیت)
دنیا کے سب سے بڑے منشیات فروشوں کی قومیت اور مذہب:
1. پابلو ایسکوبار – کولمبیا (عیسائی)
2. آمادو کاریو – میکسیکو (عیسائی)
3. کارلوس لیدر – کولمبیا (عیسائی)
4. گریسیلڈا بلانکو – کولمبیا (عیسائی)
5. خواکین گوزمان (ال چاپو) – میکسیکو (عیسائی)
6. رافائیل کارو – میکسیکو (عیسائی)
پھر بھی ہمیں کہا جاتا ہے کہ اسلام دنیا میں دہشت گردی اور تشدد کا سبب ہے، اور ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اس پر یقین کریں؟
مسلمانوں نے پہلی عالمی جنگ شروع نہیں کی، بلکہ یہ مغربی سیکولر عیسائیوں کی پیدا کردہ تھی
مسلمانوں نے دوسری عالمی جنگ بھی شروع نہیں کی، وہ بھی مغ��ب ہی نے بھڑکائی
آسٹریلیا کے بیس ملین مقامی باشندوں کا قتل مسلمانوں نے نہیں کیا، بلکہ وہ لوگ تھے جو "محبت کے دین" کے پیروکار تھے۔
جاپان کے دو شہروں (ہیروشیما اور ناگاساکی) پر ایٹمی بم گرانے والے بھی مسلمان نہیں تھے
جنوبی امریکا میں ایک کروڑ سے زائد ریڈ انڈینز کے قاتل بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ "امن کا پیغام" لے کر آئے ہوئے عیسائی مبلغ تھے۔
شمالی امریکا میں پانچ کروڑ ریڈ انڈینز کا قتل بھی مسلمانوں نے نہیں کیا
افریقہ سے 18 کروڑ افراد کو غلام بنا کر لے جانے والے بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ وہی تھے جو آزادی اور لبرل ازم کے نعرے لگاتے ہیں
مسلمان دہشت گرد نہیں
بلکہ دہشت گردی کی تعریف ہی مغرب کی طرف سے امتیازی اور جانبدار ہے۔
اگر کوئی غیر مسلم حملہ کرے تو وہ ایک "انفرادی جرم" کہلاتا ہے
لیکن اگر کوئی مسلمان کسی حملے میں ملوث ہو، تو اُسے فوراً دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے
چاہے وہ اپنے دین اور امت کے دفاع میں ہی کیوں نہ ہو
ایف بی آئی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق
1980 سے 2005 کے درمیان امریکا میں ہونے والے حملوں میں
صرف 6 فیصد حملے مسلمانوں سے منسوب تھے
جبکہ یہودیوں سے 7 فیصد
لیکن ان پر میڈیا نے کبھی توجہ نہیں دی
لہٰذا ہمیں دوہرے معیارات چھوڑنے ہوں گے
تبھی ہم اسلام کی اخلاقی بلندی اور عدل کو دنیا کے سامنے درست انداز میں پیش کر سکیں گے
اس پیغام کو خود تک محدود نہ رکھیں
اس سچائی کو دوسروں تک بھی پہنچائیں،
کیونکہ میڈیا کی طاقت دولت اور مفاد پرستی نے
اسلام کی تصویر کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ
ہماری ہی قوم کے کچھ منافق اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں
یہ دراصل اسلام کے خلاف ایک جنگ ہے
اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو اس حقیقت سے خبردار کریں
جتنے ممکن ہوں اور جتنے وسائل ہمارے پاس ہوں
اور آخر میں فخر سے کہیں
میں مسلمان ہوں اپنے دین پر فخر ہے اور اپنی امت اور اس کی جدوجہد پر مجھے ناز ہے
اور اللہ کے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا نہ بھولیں۔
آپ کا ایک شیئر کسی ماں کی راحت کا سبب بن سکتا ہے۔۔۔۔
سیف اللہ ولد عمر صدیق سکنہ کانگڑہ بعمری13 سال جو کہ اج دن03:00 بجے گھر سے نکلا ہے اور تاحال واپس گھر نہیں آیا ۔کسی نے اس کو دیکھا ہو یا اس سے متعلق کوئی معلومات ہوں تو تھانہ کوٹ نجیب اللہ کے نمبر 0995.618208 یا پولیس کنٹرول روم 0995.920109 پر اطلاع دیں ۔
ذوالحجہ اسلامی کیلنڈر کا آخری اور انتہائی مقدس مہینہ ہے۔
اس میں حج کی ادائیگی، اور عید الاضحیٰ جیسے عظیم اسلامی تہوار شامل ہیں۔
اس کے ابتدائی دس دنوں کو قرآنِ مجید میں "ایامِ معدودات" اور "عشرۂ ذی الحجہ" کہا گیا ہے۔
جو تمام سال کے بہترین دن مانے جاتے ہیں۔ذوالحجہ کی فضیلت اور اہمیت کو نمایاں کرنے والی چند اہم ترین باتیں درج ذیل ہیں۔
اول 10 دنوں کی عظمت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں کیے گئے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو سال کے دیگر تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔
ان دنوں میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ثواب رکھتا ہے۔
سبحان اللہ العظیم
یومِ عرفہ ۹ ذوالحجہ یہ حج کا سب سے اہم ترین رکن ہے۔
اس دن کا روزہ رکھنے کی بہت فضیلت ہے، اور مستند احادیث کے مطابق اس کے سبب پچھلے اور آنے والے ایک سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
عید الاضحیٰ اور قربانی ۱۰ ذوالحجہ یہ دن اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی دینے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا خاص دن ہے۔
ایامِ تشریق ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ ذوالحجہ ان دنوں میں ہر فرض نماز کے بعد تکبیراتِ تشریق پڑھنا واجب ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور شکر گزاری کا خاص وقت ہیں۔
جب اللہ تعالیٰ دعا��ں کی قبولیت کے لیے عرش معلی کے دروازے کھول دیتا ہے
#MoonSighting
This inspiring story shares how one man, diagnosed with prostate cancer, chose a natural path. Through dedication to herbal remedies, sodium bicarbonate wraps, and a sugar-free diet, he achieved a cancer-free outcome. His journey highlights the power of the body's innate healing capabilities when given the right conditions.
Big Pharma doesn't want you to know about Dr. Jason Fung.
While Type 2 Diabetes and insulin resistance take years off your lifespan...
He's proved you can reverse them naturally without meds.
Here are his top 7 protocols to reverse insulin resistance (bookmark this):🧵
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب انسان کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے:
(1) جاری رہنے والا صدقہ،
(2) ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں،
(3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔”
(اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)
دیکھ لیجیے! ہم جن چیزوں پر فخر کرتے ہیں—جیسے خوبصورتی، مال و دولت اور صحت—قبر میں جانے کے بعد ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا، یہاں تک کہ ہماری ہڈیاں بھی مٹ جاتی ہیں۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ سب کو تقویٰ، نیک اعمال اور اچھا انجام (حسنِ خاتمہ) عطا فرمائے
خواہشِ نفس کو معبود بنا لینا — قرآن کا ایک لرزہ خیز پیغام
قرآنِ کریم میں دو مقامات پر ایک نہایت فکر انگیز مضمون بیان ہوا ہے:
"کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟"
اللہ اکبر!
زبان سے تو ہم سب کہتے ہیں: لا إله إلا الله
یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
لیکن قرآن ہمیں جھنجھوڑ کر پوچھتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انسان اپنی خواہشات، اپنے مفادات اور اپنے نفس کی چاہتوں کو ہی اپنا معبود بنا بیٹھے؟
جب اللہ کا حکم سامنے آئے اور انسان کہے:
- سود تو حرام ہے، مگر ہمارا کاروبار کیسے چلے گا؟
- پردہ ضروری ہے، مگر زمانہ کیا کہے گا؟
- جھوٹ اور دھوکہ ناجائز ہیں، مگر اس کے بغیر کام نہیں بنتا۔
تو درحقیقت وہ اللہ کے حکم کو پیچھے اور اپنی خواہشِ نفس کو آگے رکھ رہا ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں معبود کون ہے؟
نام چاہے عبداللہ ہو، عبدالرحمن ہو یا محمد، لیکن اگر زندگی کی باگ ڈور نفس کے ہاتھ میں ہو تو حقیقت میں انسان عبدالنفس بن جاتا ہے۔
یعنی خواہشات کا بندہ، نفس کا غلام۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی خواہشات پر قابو پانے، اپنے نفس کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے اور حقیقی معنوں میں اپنا بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
اعلان بچہ گمشدہ ہے.. بہت ہی پیارا بچہ جس کا نام: محمد روحان ولد سلیم
رہائشی: گمرولہ (درمان گمرولہ)، ظفروال
حلیہ: اسکول یونیفارم (سفید قمیض، خاکی پینٹ، ٹائی) اور نیلا بیگ۔
یہ بچہ 12 مئی 2026 سے ظفروال سے لاپتہ ہو گیا ہے۔
اگر کسی کو بھی اس کے بارے میں کوئی علم ہو، تو براہ کرم درج ذیل نمبر پر فوری رابطہ کریں۔
رابطہ نمبر: 03265875253
اللہ تعالیٰ محمد روحان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اسے جلد اور بخیریت اپنے والدین سے ملوائے۔ آمین
03157692460