"یہ کیا بزدلی ہے کہ تم در و دیوار سے وحشت زدہ ہو، تم خود اپنے سائے سے بھی ڈر رہے ہو۔ اگر تم کل بہادر تھے تو آج بزدل کیوں بن گئے ہو؟اسلام اور بزدلی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
خوف و ہراس، بزدلی اور نامرادی کو دل سے نکال دو"
مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رحمہ اللہ
"امت مرحومہ کو ہرگز پریشان نہ ہونا چاہئے وہ لاوارثی امت نہیں، زندہ نبی کی امت اور زندہ شریعت کی پیرو ہے، جس میں دین کے معیار کی زندہ جماعتیں ہمیشہ برقرار رہیں گی"
حکیم السلام قاری محمد طیب قاسمی رحمہ اللہ
قرآن پاک نے قیامت تک انسان کو صحیح رہنے کے لیے ایک پیغام دیا ہے کہ ایک اعلی اور بلند مقصد کے لیے اپنے اندر عملی قوت پیدا کریں اور اپنی ذاتی خواہشات کو نکال پھینک دیں
مولانا عبیداللہ سندھیؒ
ہمار�� نزدیک اسلام کے دامن تقدیس پر اس سے بڑھ کر کوئی اور بدنما دھبہ نہیں ہو سکتا کہ انسانی حریت اور ملکی فلاح کا سبق مسلمان دوسری قوموں سے لیں۔اگر آپکے ہاں شمعِ کافوری جل رہی ہے تو آپکو کسی فقیر کے جھونپڑے میں ٹمٹماتا ہوا دیا چرانے کی کیا ضرورت ہے؟
مولانا ابوالکلام آزادؒ
قرآن حکیم کی تعلیم اجتماعی انقلابی تعلیم ہے اسکا فائدہ کسی خاس طبقے کو نہیں پہنچتا بلکہ اسکا فائدہ ساری انسانیت کو ایک جیسا پہنچتا ہے۔
مولانا عبیداللہ سندھی
"جس راہ میں بھ�� قدم اُٹھایا وقت کی منزلوں سے اتنا دور ہوتا گیا کہ جب مڑ کے دیکھا تو گردِ راہ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا اور یہ گرد بھی اپنی ہی تیز رفتاری کی اُڑائی ہوئی تھی"
یومِ پیدائش: 11 نومبر 1888
مولانا ابوالکلام آزاد
آزادی محض ایک حال نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اصل آزادی یہ ہےکہ ہم ہرقسم کی غلامی سےآزادہوکراپنی سوچ اورعمل میں مکمل آزادی حاصل کریں۔یہ آزادی صرف رسمی نہیں بلکہ ذہنی بھی ہونی چاہیے،جوانسان کوہرقسم کی پسماندگی اورانفرادیت سےنکال کرایک ترقی یافتہ معاشرت کی طرف ل��جائے
مولانا آزاد
قرآن ہر ظلم کا انکار کرتا ہےاور ہر مظلوم کے دل میں یہ ولولہ ا��ر حوصلہ پیدا کرتا ہے کہ ظلم کو مٹانے اور ظالم کو باز رکھنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔
مولانا عبیداللہ سندھیؒ
بازارِ حسن و عشق میں جہاں سونے چاندی کی جگہ دل صد پارہ اور جگر زخم خوردہ کا سکہ رائج ہے ، اور جہاں کی تجارت یہ ہے کہ صبر و شکیب ، ہوش و خرد ، دل و جگر دے کر غلط انداز نظر ، چینِ جبیں ایک تغافل پیشہ نگاہ خرید لیجیے کہ اس سہل قیمت پر یہ متاعِ مشکل مفت ہے!
مولانا ابوالکلام آزاد
اجتماع انسانی میں صرف خداکاقانون چل سکتا ہے،کسی حاکم کاقانوں نہیں چل سکتا۔انسانیت کا شرف اس میں ہےکہ انسان صرف خدا کےقانون کے آگےجھکے۔یہ انسانیت کی آزادی کا اعلان تھا،یہ وہ توحید ہےجسکےابراہیم علیہ السلام داعی تھےاور توحیدکایہی تخیل انکی تحریک حنفیت کاسنگ بنیادہے
مولاناسندھیؒ
اگردنیا کی ساری مصنوعی خوشنمائیاں اوجھل ہوگئی ہیں تو ہوجائیں صبح اب بھی ہر روز مسکرائے گی۔ چاندنی اب بھی ہمیشہ جلوہ فروشیاں کرے گی۔ لیکن اگر دلِ زندہ پہلو میں نہ رہے تو خدارا بتلائیے اس کا بدل کہاں ڈھونڈھیں؟اس کی خالی جگہ بھرنے کے لیے کس چولہے کے انگارےکام کریں گے؟
مولانا آزادؒ
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ایک نہایت مختصر مدت کے لئے مفلس، محروم اور بھوک سے نڈھال انسانیت کی طرف متوجہ کیا ہے تاکہ بھوکا رہ کر ان کا احساس پ��دا کیا جائے اور بھوک و بد اخلاقی کو فروغ دینے والے معاشی نظام کے خلاف نفرت پیدا کی جائے۔"
۲/۲
امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی رح فرماتے ہیں
"حقیقت یہ ہے کہ رمضان میں اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے پر پابندی کی بجائے اس کے اوقات تبدیل کئے ہیں۔ اور اس کا اثر انسانوں کے رویوں، سرگرمیوں اور اخلاقیات پر دیکھا جاسکتا ہے.
۱/۲
ولادتِ نبی اکرم
یہ ریگستان حجاز کی پادشاہت کا پہلا دن نہ تھا
یہ عرب کی عروج کےجانی کی پیدائش نہ تھی
یہ محض قوموں کی طاقتوں کااعلان نہ تھا
یہ صرف بزرگوں کی دعوت نہ تھی
جیساکہ ہمشیہ ہواہے
بلکہ خداکی ایک ہی عالمگیرپادشاہت کےعرش جلال وجبروت کی آخری اوردائمی نمودتھی
یوم وفات آزادؒ
''ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بنیادی تعلیم ہر ایک کا فرض ہے۔ یہ ہر فرد کا پیدائشی حق ہے کہ وہ کم از کم بنیادی تعلیم حاصل کرے جس کے بغیر وہ بطور شہری اپنے فرائض پوری طرح ادا نہیں کر سکتا"
یومِ پیدائش مولانا ابوالکلام آزاد رح
ہمارا مقصد امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللّٰه اور امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللّٰه سندھی رحمہ اللّٰه کے افکار کو عام کرنا ہے۔
#TwitterHeader
اگرلادینی فلسفه انقلاب کےعلمبرداراپنےبلندوبانگ دعووں کیساتھ پسمانده انسانیت کونئی زندگی کی دعوت دیتےہیں
توتم ساری انسانیت کوخداکی ایک سی مخلوق ماننےوالےاوراسے ہرذی روح کا رب جاننےوالےکوئی ایسی فکرپیش کیوں نہیں کرتےجس سےاسکی ساری مخلوق کی بھلائی ہو
21اگست-یوم وفات
مولاناسندھی رح