ہماری لیڈر شپ نے اچھے اخلاق کی تربیت دی ورنہ تنویر الیاس اسلام آباد میں داخل نہ ہو سکیں جہاں ان کی بلند و بالا عمارت کھڑی ہے
عطا تارڑ صاحب کے اس 👆 بیان پر سر پیٹنے کا دل چاہ رہا ہے۔۔ تکبر بھرے بیانات ایسے دے رہے ہیں جیسے پاکستان ان کی ملکیت ہو
آخری دفعہ فون پر جب تم سے بات ہوئی تو تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم جلد واپس آؤ گے اور میرے ساتھ مل کر یہ کیس لڑو گے۔تم نے کہا تھا ڈاکٹر اللہ پر بھروسہ رکھنا یہ مصیبت بھی جلد گزر جائے گی۔��ج اسی مقدمے میں عدالت حاضر ہو رہا ہوں تو تمہیں تمہارا وعدہ یاد کروانا تھا-یار آ کر ایک جپھی دے جا
تعلیم حاصل کرو اور تھوڑا شعور پیدا کرو ورنہ ساری زندگی With ناظم صاحب، With مئیر صاحب، With MNAصاحب , صاحب With MPA اور With ACصاحب with Sho صاحب کہتے کہتے گزر جائے گی..!
ایسے لوگ احساس کمتری کا شکار ہوتے...!