بیرسٹر گوہر کی کل اسمبلی میں کی جانیوالی تقریر سننے لائق ہے ضرور سنیں اور شیئر کریں
اب کوئی نیچے آ کر یہ نہ کہے کہ اسکا کیا فائدہ ہوتا ہے
یہ احتجاج ہر جگہ پر ریکارڈ کروایا جاتاہے کل کو لوگ اسی کا حوالہ بھی دیا کریں گے
اس انٹرویو میں امریکی عہدیدا�� پاکستان سے منرلز نکالنے کی بات کر رہی ہے۔ انکی پوری سٹڈی اور تیاری ہے۔
اب یہ کونسے منرلز نکالنا چاہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے آپ اس انٹرویو کا 40 سیکنڈ بعد والا حصہ سنیے۔
یہاں یہ خاتون ایک نیا ایکو سسٹم ڈویلپ اور تربیت یافتہ ورکرز اور ٹریننگ کی بات کر رہی ہیں۔ یہ چیزیں صاف بتاتی ہیں کہ اب امریکی کمپنیاں پاکستان سے ریئر ارتھ منرلز نکالنا چاہتی ہیں جن کو نکالنے سے بدترین تابکاری پیدا ہوتی ہے اور پورا ایکو سسٹم حتیٰ کہ پورا ماحول اور نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے کئی ملکوں سے یہ منرلز نکالنے کو کوشش کی مگر وہاں کی عوام اور عالمی تنظیمیں راستے میں آگئیں۔ اب ا��کی نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود منرلز پر ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ امریکہ کو سپر پاور برقرار رہنے کے لیے یہ منرلز ہر حال میں چاہئیں اور یہی منرلز امریکہ میں وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود وہاں سے تابکاری خطرات کی وجہ سے نہیں نکالے جا رہے۔ امریکی عوام اسکی شدید مخالف ہے۔ مگر پاکستان میں اب یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے باقی تفصیلات وی لاگ میں۔۔۔
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
اپنی بیٹی آمنہ ہاشمی کے ہمراہ گھر سے روانہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ
سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا۔
Sunan Abi Dawud 4344
Currently, my Aunties are still abducted. Family and lawyers have received no update on how they are, nor why they are incarcerated. Concerning my father, there is complete silence.
My brother and I have had no contact with him for more than six months. We do not even know the true state of his health.
Meanwhile, thousands of Pakistanis are peacefully taking to the streets to protest against his illegal and politically motivated imprisonment.
However, the people of Pakistan have not given up. No barricade, intimidation or repression can muzzle the people’s demand for justice and their democratic right to be heard.
There can be no lasting peace or stability while their democratic will is suppressed and their chosen leader remains behind bars.
شہباز شریف کی منافقت ملاحظہ ہو۔ 👇
جب اقتدار سے باہر تھے تو عوام کو لانگ مارچ کی فضیلت بیان کرتے تھے۔
اور آج فارم 47 پر زبردستی اقتدار پر مسلط ہو کر عوام کو احتجاج سے روک رہے ہیں۔
The hypocrisy is unbelievably ridiculous
Leaving all other issues and much noise aside, the primary reason for the failure of the talks around 3am this morning between the government team and the PTI-TTAP team was the following: the PTI-TTAP team stood firm on its principled position that anti-terorrism actions in KPK would be based on agreement between the federal government and the KPK government and would be framed on the basis of consultation with, and the buy-in of, the different political parties represented in the KPK assembly. This was not acceptable to the government team that insisted that all actions unilaterally initiated by it would have to be owned by the provincial government. The PTI-TTAP team was clear that we have zero tolerance for terrorism and are committed to rooting it out. We also have a clear position against so-called collateral damage in the form of innocent lives and internal displacement of the local population. Policies and actions aimed at fighting terror must have the support of the local population and be based on ground intelligence. The wisdom provided by the jirga held in the KPK assembly of all the political and tribal notables of the province, including the merged districts, must be heeded. This was not acceptable to the federal government.
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اور��زئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پور�� خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔