ہمارا ہدف اپ کو بہترین دینی، معاشرتی، ادبی، تاریخی، معلوماتی علمی و اصلاحی اور اردو میں صحیح احادیث حوالے کے ساتھ کوئی اچھا قول یا سبق اموز تحریریں پیش کرنا ہے
ہر ایک سے اپنے جیسے اخلاق اور ردعمل کی توقع نہ رکھیں مٹی ایک ہے لیکن روحیں مختلف ہیں,
انسان ایک ہی مٹی سے بنے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اندر سے خوبصورت ہے تو کوئی باہر سے۔
جب تم ایسے آدمی کو دیکھو جو نماز کو ضائع کرتا ہے تو وہ اللّٰه تعالی�� کے اور حقوق کو بھی سب سے زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰه عنه:
موسوعة ابن ابى الدنيا (٣٤٠/١)
اس دنیا میں سب سے بڑا خسارہ رب کو کھو دینے کا ہے اپنے اندر رب کے قرب کی جستجو پیدا کریں اور مت بھولیں کہ ہدایت صرف انہیں کو ملتی ہے جن کے دل میں تڑپ ہوتی ہے انسانوں کا کھو جانا خسارے میں شامل نہیں ہوتا جنت کا کھو جانا اصل خسارہ ہے۔
اگر لوگ آپ سے دوری اختیار کر رہے ہیں تو انہیں کرنے دیجيئے کیونکہ آپ کی تقدیر، آپ کی قسمت، وقت اور زندگی کی ڈور کسی کے چھوڑ جانے کی محتاج نہیں ہے.....!!
نماز نہیں چھوڑنی چاہیے بے نمازی ��ضرات اور کچھ نہیں تو کم از کم فرض تو نا چھوڑیں فرض سے شروع کریں اور جیسے جیسے اللّٰہ پاک توفیق دیں سنت اور نفل بھی پڑھے فرض پڑھ لینےسے کم ازکم کفر میں تو مبتلانہیں ہو گا کیوں کے نماز چھوڑنا کفر کے برابر ہے اللّٰہ پاک ہم کو دل سے سمجھ کے نماز +++
توبہ کی نشانیاں یہ ہیں
ماضی پر رونا گناہوں میں مبتلا ہونے سے ڈرنا بُری صحبت تَرک کرنا اور صالح دوستوں کا ساتھ اختیار کرنا
امام شقيق البلخي رحمه الله
(سير أعلام النبلاء : 315/9)🌻
اپنے آپ کو کسی ایسی سرگرمی میں شامل نہ کرے جس سے کسی دوسرے کا نقصان ہو آپ کی لاپرواہی کسی قیمتی جان کے جانے کا سبب ہو سکتی ھے پتنگ بازی، ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ، تیزی رفتاری اور بہت کچھ، ایسی چیزو سے خود کو بچائیں۔
جیو اور جینے دو.....🫠
جس ملک میں %50 سے زیادہ لوگ بدمعاش بننے، بدمعاشوں سے تعلقات رکھنے اور بدمعاشی کی گفتگو کو فخریہ طور بیان کرتے ہوں وہاں محبت، خلوص، تعمیر، ترقی اور تہذیب پروان نہیں چڑھتی۔ 💯💔
سنو میرے ساتھیو۔ ❤️🫀
لا تُرهِقوا أنفسكم!
فإن الجنةَ تكفي لشفاءِ كلِّ آلامنا وحسراتنا
ہلکان مت ہوئیے! جنت ہمارے تمام دکھوں و حسرتوں کا مداوا کرنے کو کافی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔♡
پیسوں کے قرض تو ادا ہو جاتے ہیں،
مگر رویوں کے قرض کبھی ادا نھیں ہوتے۔💯
عارضی دنيا کے مکانات پیسوں سے بنتے ہیں،
جو صرف امیر لوگ ہی بنا سکتے ہیں۔
اور آخرت کے محلات نیک اعمال سے بنتے ہیں،
جو غریب بھی بنا سکتے ہیں۔
🧡🤍💚🧡🤍💚🧡🤍💚
یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی انتہائی عاجزی، اللہ کے فیصلوں پر کامل بھروسے اور انسانوں کے اختیار کی حدود واضح کرتی ہے آپ ﷺ اللہ کے رسول ہونے کے باوجود اپنی ذات کے بارے میں بھی کوئی حتمی بات نہیں کہتے تھے بلکہ ہر چیز کو اللہ کی مشیّت پر چھوڑتے تھے یہ ان نام نہاد پیروں، مرشدوں اور جعلی++
روحانی پیشواؤں کے لیے کھلی دلیل ہے جو اپنے مریدوں کو جنت کی گارنٹی دیتے ہیں اور خود کو بخشش کا ضامن سمجھتے ہیں جب اللہ کے محبوب نبی ﷺ نے اپنی نجات کے فیصلے کو بھی اللہ کے سپرد کر دیا تو یہ خود ساختہ بابے اور پیری م��یدی کے کاروبار کرنے والے کون ہوتے ہیں جو لوگوں کو جنت کے خواب ++