شہادت کے 359 دن بعد مشک کی خوشبو…
شہداء کی سرزمین کا یہ نہایت ایمان افروز سچا واقعہ ہے۔ جس نے دلوں کو دہلا دیا۔ 359 دن بعد ملبے سے شہید خاتون کی مشک کی خوشبو میں لپٹی لاش برآمد۔
غزہ کی معروف ماہرِ نفسیات، یتیموں کی کفالت کرنے والی اور ضرورت مندوں کے دکھ بانٹنے والی عظیم فلسطینی خاتون روان شبیر کی شہادت کے 359 دن بعد بالآخر ان کا جسدِ خاکی ان کے تباہ شدہ گھر کے ملبے سے نکال لیا گیا۔ یوں تقریباً ایک سال سے جاری دکھی خاندان کے انتظار، صبر اور درد کا اختتام ہوگیا۔
روان شبیر 6 ستمبر 2025ء کو اس وقت شہید ہوئیں جب شمالی غزہ میں ان کے خاندان کی پانچ منزلہ عمارت کو دجالی فضائیہ نے تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ شدید حملے کے نتیجے میں پوری عمارت منہدم ہوگئی اور ملبے تلے موجود افراد دب گئے۔
اس سانحے میں روان شبیر اپنے کم سن بیٹے محمد سمیت شہید ہوگئیں، جبکہ ان کے 2 بچے یامن اور جودی زخمی حالت میں ملبے سے زندہ نکال لیے گئے۔
مگر ماں کا جسدِ خاکی وہیں ملبے تلے رہ گیا۔ کیونکہ ملبہ ہٹانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ تباہ شدہ عمارتوں سے شہداء کے جسد نکالنے کے لیے بھاری مشینری اور خصوصی آلات کی شدید کمی نے اس خاندان کا انتظار 359 دن تک طویل کر دیا۔ روان کے اہلِ خانہ جانتے تھے کہ ان کی ماں، بہن اور عزیزہ کہاں ہے، مگر ان تک پہنچنے کا راستہ ہزاروں ٹن ملبے نے روک رکھا تھا۔
پھر رواں ہفتے 30 اگست کو وہ دن آیا جس کا خاندان تقریباً ایک سال سے منتظر تھا۔ ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹاتے ہوئے بالآخر روان شبیر کے جسد خاکی تک پہنچ گئیں۔
جس وقت ان کا جسد خاکی نکالا گیا، وہاں موجود لوگوں نے مشک کی ایک تیز خوشبو محسوس کی جو پورے علاقے میں پھیل گئی اور ساری فضا معطر ہوگئی۔ تقریباً ایک سال تک ملبے تلے رہنے کے باوجود ان کے بال تک خراب نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ دانت بھی نمایاں طور پر چمک رہے تھے۔
مسلمان کے لیے شہید کی عظمت کا معیار کسی ظاہری علامت کا محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود شہداء کے بارے میں فرمایا:
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔" (سورۃ آل عمران، 3:169)
قرآن کی اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ شہداء اپنے رب کے عطا کردہ فضل پر خوش ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں خوشخبری پاتے ہیں جو ابھی ان کے پیچھے دنیا میں موجود ہیں۔
روان شبیر کی زندگی خدمت خلق سے عبارت تھی۔ وہ ماہرِ نفسیات تھیں اور لوگوں کے ذہنی و جذباتی دکھوں کو سننے اور انہیں سہارا دینے کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال کرتی تھیں۔ وہ یتیم بچوں کی کفالت کرتی تھیں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتی تھیں اور اپنے وقت اور مال سے لوگوں کا سہارا بنتی تھیں۔ اہل علاقہ انہیں ایسی شخصیت کے طور پر یاد کرتے ہیں، جو دوسروں کے دکھ کو دیکھ کر خاموش نہیں رہتی تھی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کا منظر بھی ان کی زندگی کی طرح دوسروں کے دلوں کو چھو گیا۔
ایک ماں… ایک ماہرِ نفسیات… یتیموں کی کفالت کرنے والی ایک خاتون… 6 ستمبر 2025ء کو اپنے گھر کے ملبے تلے چلی گئیں، مگر ان کے بچے تقریباً ایک سال تک اس انتظار میں رہے کہ کبھی تو ماں کا جسد سامنے آئے گا، کبھی تو وہ اسے آخری بار دیکھ سکیں گے، کبھی تو اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتار سکیں گے۔
بالآخر 359 دن بعد ملبے کے سے اسے نکالتے وقت مشک کی خوشبو پھیل گئی۔
غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے آج بھی نہ جانے کتنے لوگ اپنے پیاروں کے جسد تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔ روان شبیر کا جسد 359 دن بعد ملا، مگر غزہ کے بہت سے خاندانوں کے لیے انتظار ابھی ختم نہیں ہوا۔
جسم مٹی میں چھپ سکتا ہے، نام مٹایا نہیں جا سکتا۔ شہید کے بارے میں قرآن کا فیصلہ دنیا کے ہر فیصلے سے بلند ہے:
"بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔"
اے اللہ! روان شبیر، ان کے شہید بیٹے محمد اور غزہ کے تمام شہداء کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرما، ان کے درجات بلند فرما، ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرما اور ان کے خون کو ظلم کے خلاف گواہی بنا دے۔ آمین۔
نوٹ: فلسطینی خبر رساں ادارہ شمس نیوز (Shms News) نے یہ خبر شائع کی ہے، جس کا عنوان ہے:
"بعد 359 يوما تحت الركام.. رائحة المسك تسبق وداع الأخصائية روان شبير في غزة"۔
49 ارب ڈالر کی دولت، مگر کوئی وارث نہیں!
جرمنی کے سب سے مالدار افراد میں شامل ارب پتی تاجر کلاوس مائیکل کیونے (Klaus-Michael Kühne) 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ بلومبرگ کے مطابق ان کی دولت تقریباً 49 ارب ڈالر تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ نسبتاً دیر سے شادی شدہ ہوئے اور ان کی اہلیہ کرسٹین کیونے حیات ہیں۔ اپنی دولت کے لیے انہوں نے پہلے ہی جانشینی کا منصوبہ بنا رکھا تھا، جس کے تحت ان کا وسیع کاروباری اثاثہ بالآخر Kühne Foundation کے پاس جائے گا۔
یہ فاؤنڈیشن لاجسٹکس، طب، ثقافت اور ماحولیات جیسے شعبوں میں کام کرتی ہے اور ان کی اہلیہ بھی اس کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں۔
49 ارب ڈالر کی دولت… اور وارث اولاد میں نہیں، ایک فاؤنڈیشن میں!
واضح رہے کہ 49 ارب ڈالر تقریباً 13.6 کھرب پاکستانی روپے بنتے ہیں، یعنی تقریباً 13,602 ارب روپے کی میراث لیکن وارث کوئی نہیں۔
پتہ نہیں @iaqeelyousafzai تم کو کس جاہل نے بھرتی کیا ہے تم نے تو ملکی اداروں پر الزام لگا دیا۔ اتنے ریاستی اداروں کی موجودگی میں بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد میں پروگرام کیسے منعقد کر سکتا ہے؟سنو۔ تم جیسے پٹو انگریز دور میں کتے نہلانے کے لیے اور آج پروپیگنڈے کیلئے استعمال ہوتے ہو
اگر ہم منتشر ہیں، ہماری کوئی مشترک سٹریٹیجی نہیں ہے، تو پھر حکومت اس طرح کی قانون سازیاں کرے گی جس طرح پہلے بھی ہوئی ہیں اور پرسوں پھر بھی ہوئی۔
جس جگہ پر آپ کے اور ہمارے درمیان اتفاق ہوا ہے، ہم کم از کم اپنے باہمی کمٹمنٹ جو ہے، اُس پر قائم رہیں۔ حکومت کا رویہ اپنی جگہ پر، مجھے یاد ہے 1977 میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنا، پاکستان قومی اتحاد کا، تو بہت بڑی تحریک چلی اور ہزاروں لوگ جیلوں میں چلے گئے، لیکن نتیجے میں مارشل لاء لگ گیا۔
ابتداء میں تو تمام ہمارے حلقوں کے اوپر پیپلز پارٹی کی مخالفت جو ہے، وہ جذباتی طور پر سوار تھی اور اُس کا فائدہ جنرل ضیاء الحق کو پہنچ رہا تھا، اور کچھ وقت ایک تعاون کا سلسلہ بھی چلا، اور تعاون کی بنیاد کیا تھی؟ کہ الیکشن آپ نے اُسی بنیاد پر کرنے ہیں جس پر پیپلز پارٹی اور پی این اے کے درمیان طے ہوا ہے، اور اُس نے کہا: ہم نویں دن کے درمیان الیکشن کراؤں گا اور اُسی معاہدے کی بنیاد پر کراؤں گا۔
#لعنتی_امریکی_پٹو
#وسائل_چور
#ڈیجیٹل_حرام_خور
#سلیکٹڈ_بدامنی
#کمپنی_کا_میڈیا_وڑگیا
دو مختلف مناظر،
دو مختلف اقدار،
دو قومی نظریے
یہ دونوں ویڈیوز سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے دوران بنائی گئی ہیں، مگر ان دونوں میں صرف دو مختلف مناظر نہیں، دو مختلف اقدار، دو مختلف تربیتیں اور دو مختلف قومی نظریے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک ویڈیو گزشتہ سال بونیر کی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد متاثرین کی بحالی کے دوران ایک مدرسے کے طالب علم کو تقریباً پندرہ تولے سونا ملا۔ وہ چاہتا تو اسے اپنی قسمت کا مال سمجھ لیتا، مگر دینی تربیت نے اسے یہ سکھایا تھا کہ امانت، امانت ہوتی ہے؛ خواہ وہ زمین پر پڑی ملے یا کسی کے گھر کے ملبے سے۔
اس طالب علم نے انتہائی دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ سونا اس کے اصل وارثوں تک پہنچا دیا۔ آج بھی اس مدرسے، اس طالب علم اور اس کی تربیت کو دنیا خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔
دوسری ویڈیو نیپال کی ہے، جہاں پرسوں سیلاب نے تباہی مچائی۔ منظر دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جسے ریسکیو کے نام پر انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے تھی، وہی کس قدر اخلاقی پستی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
ایک بے بس اور بے لباس خاتون، جو پہلے ہی قدرتی آفت کی زد میں ہے، اسے سہارا دینے کے بجائے اس کے کانوں سے بالیاں اتار لینا۔۔۔
یہ محض چوری نہیں، یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔
قدرتی آفات انسان کے گھروں کو تو تباہ کرتی ہیں، مگر انسان کی اصل آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس تباہی کے بیچ اپنا کردار بچا پاتا ہے یا نہیں۔
ایک طرف وہ طالب علم ہے جسے بارہ تولے سونا ملا اور اس نے اسے امانت سمجھ کر لوٹا دیا؛ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ایک بے بس انسان کی مجبوری کو بھی اپنے لالچ کا موقع سمجھ بیٹھے۔
یہ صرف دو ویڈیوز نہیں، انسانی کردار کے دو متضاد چہرے ہیں۔
ایک طرف ایمان، دیانت، امانت اور حیا کی تربیت ہے؛
دوسری طرف لالچ، اخلاقی پستی اور انسانیت سے گرتا ہوا کردار۔
ایسے مناظر دیکھ کر بے اختیار زبان پر ایک ہی جملہ آتا ہے:
الحمدللہ علیٰ نعمتِ الاسلام۔
واقعی، اسلام نے ہمیں صرف عبادات نہیں سکھائیں، انسان بننا بھی سکھایا ہے۔
عشقِ رسول ﷺ
12 ربیع الاول صرف ایک تاریخ نہیں، یہ اُس ہستی کی یاد کا دن ہے جن کے آنے سے انسانیت کو جینے کا سلیقہ ملا۔ ❤️ ﷺ
دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ، زبان پر درود، اور زندگی میں سنتِ رسول ﷺ—یہی ہماری اصل پہچان ہے۔
#محمد_حبیب_کبریا#خیر_الانبیاء#سراج_الہدیٰ#شافع_امت
#رسول_آخر_الزمان