لگتا ہے کہ پاکستان پر مسلط کیا گیا سیٹ اپ ملک میں اور خصوصی طور پر خیبر پختونخواہ میں کوئی بڑا سانحہ کروانا چاہتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا نیشنل میڈیا اس ڈرٹی گیم میں اُن کا ساتھ دے رہا ہے۔
ہماری سی ٹی ڈی اور پولیس کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش میں کس کو حملے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ کیا APS جیسے سانحے کی تیاری کی جا رہی ہے؟ کیا اپنی جعلی حکومت کو بچانے کے لیے ملک میں کسی نئے سانحے کی پلاننگ ہو رہی ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو ایک بار پھر لہو لہان کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو تجربہ گاہ سمجھ کر PML N کوئی بڑی گیم کرنے والی ہے؟
ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی ماشاءاللہ انتہائی باصلاحیت اور جدید اسلحے سے لیس ہے۔ وفاق کا ادارہ HIT صوبائی حکومت سے رقم وصول ہونے کے باجود جان بوجھ کر سامان کی فراہمی کو سست روی کا شکار کر رہا ہے۔
جو اسلحہ پولیس ڈیپار��منٹ کو دیا گیا ہے وہ مفت میں نہیں بلکہ پیسے دے کر وصول کیا گیا ہے۔ باقی سامان پیسے لینے کے باوجود نہیں دیا جا رہا۔
وفاق پر جعلی طریقے سے قابض ٹولہ ملک میں تباہی پھیلانا چاہ رہا ہے۔ پاکستان ہمارا ہے۔ پاکستانی ہمارے ہیں۔ کسی بھی قسم کا کوئی بھی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی تو آئین و قانون کے مطابق ایسا جواب دیں گے کہ پوری عمر سر نہیں اُٹھا پاؤ گے۔
ہمارا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن طور پر آواز بلند کرنے اور اجتماع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم اسی آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آواز عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔
عوامی مینڈیٹ کو کچل کر ملک پر مسلط ہونے والے وفاقی وزراء کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے یا شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے فارم 47 حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مطالبات سنے، آئینی حقوق کا احترام کرے اور سیاسی معاملات کا حل مکالمے، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرے۔
اس وقت پاکستان کا ہر ذی شعور شہری آئین کی اصل حالت میں بحالی اور ناحق قید سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے- پاکستان کا نوجوان روزگار اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مزدور اپنے معاشی حقوق اور باعزت زندگی کی جدوجہد کر رہا ہے۔ کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ اور معاشی تحفظ چاہتا ہے۔ اور ہر شہری انصاف، مساوات، آئینی آزادیوں اور باوقار زندگی کا حق مانگ رہا ہے۔ ان آوازوں کو دھمکیوں سے نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مکالمے اور مؤثر حکمرانی سے جواب دیا جانا چاہیے۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن رہے گا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔ ہم ریاستی اداروں اور فارم 47 حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کریں گے، پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔
ملک اس وقت بہتر ہوگا جب دھمکیوں کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے گی؛ جب عوامی رائے کا احترام ہوگا؛ جب پارلیمنٹ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرے گی؛ جب عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی یقینی ہوگی؛ آئین بحال ہو گا اور سیاسی اسیران رہا ہوں گے اور جب صحافت کو آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
ہم کسی تصادم کے خواہاں نہیں۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے: آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی، سیاسی اسیران کی رہائی ، بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوام کی آواز کا احترام۔
دباؤ، دھمکی یا خوف ہماری پُرامن اور آئینی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہم قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تُو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں۔
ناجائز نظام کی پیداوار فارم 47 کی جعلی وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے ساتھ لگنے والے پاکستان کے تینوں دیگر صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دیا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے مودی اور انڈیا کو کلین چٹ دے دی ہے۔
اس کے بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے�� اور اس نظام کو بنانے اور چلانے والوں کی سوچ پر بھی مزید سوال کھڑے کر دئیے ہیں !!
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران بھی نوازشریف سمیت یہ ٹولہ غائب رہا تھا اور جنگ کے خاتمے تک کوئی بیان نہیں آیا۔اور ڈان لیکس کے زریعے بھی دہشتگردی کا الزام پاکستان پر لگا دیا تھا- یہ ہمیشہ قومی مفاد کے آگے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں - پاکستان، پاکستانی اور پاکستانی ادارے صرف ان کے لئے تبھی قابل احترام رہتے ہیں جب تک یہ ان کی ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ PMLN کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے-
ان لوگوں کو 8 فروری 2024 کو ناصرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور کی عوام بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اس شرمناک شکست کے باوجود ایسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کو اقتدار پر بٹھانے اور انگلی پکڑ کر چلانے والوں کے لیے یہ ایک مزید سبق ہے کہ عوام کے ووٹ اور عوام کے فیصلے کی قدر نہ کر کے ملک مضبوط نہیں تباہ ہو جاتے ہیں۔
عاجل..
الدول التي أعلنت -حتى الآن- دعمها لمشروع التحالف البحري الدفاعي:
* المملكة ا��عربية السعودية.
* دولة الكويت.
* مملكة البحرين.
* دولة قطر.
* جمهورية باكستان الإسلامية.
* جمهورية تركيا.
* جمهورية مصر العربية.
* المملكة الأردنية الهاشمية.
* الجمهورية اليمنية.
* جمهورية بنغلاديش الشعبية.
* جمهورية نيجيريا الاتحادية.
* جمهورية السودان.
* جمهورية جيبوتي.
* جمهورية الصومال الفيدرالية.
للعام الثالث على التوالي...
اسم "محمد" يتصدر قائمة أسماء المواليد الذكور في بريطانيا، بعد ارتفاع عدد المواليد الذين حملوا الاسم بنسبة 4% مقارنة بالعام الماضي.
-
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے ��یٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
شوکت خانم کینسر اسپتال کراچی کو دسمبر 2026 تک آپریشنل کرنے کے لئے 9 ارب روپے کی ضرورت ہے لاہور و پشاور کے بعد کراچی کا اسپتال بھی آپ کے عطیات کا منتظر ہے اس رمضان میں اپنی زکوٰۃ اور عطیات شوکت خانم اسپتال کو دیجئیے تفصیلات کے لئے
https://t.co/29R8bisgv1
https://t.co/ZYy4sxgJjp