(کاجل کوٹھا سے اقتباس) از بابا محمد یحی خان
الہی یہ کس نگر کے لوگ ھوتے ہیں :
درویشی ریت کا ذرا سا ذرا نہیں ھوتی اور نہ ھی مٹھی بھر ریگ کی مانند ھے یہ تو ادب، خدمت، اطاعت اور ریاضت کے ان گنت اربوں کھربوں زروں کا خشک صحرا ھوتا ھے۔۔ چکا چوند اُجالے میں سراب اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں قطبی تارا۔۔۔ حاصل گھاٹ تو کبھی نیل کا ماٹ، دلق اویسی تو کبھی کاسہ قیس یہ فغان یعقوب بھی ھے اور کبھی صبر ایوب بھی۔۔ یہ درفش کاویانی بھی ھے اور عصائے سلیمانی بھی ھے، یہ ہنر آزری بھی اور سحر سامری بھی ھے۔
میں درویشی کی راہ کا کمزور سا مسافر ھوں۔۔ زاد راہ ھے نہ ہمت و سکت، در در بھٹک رہا ھوں، ٹھوکریں، رسوائیاں، رتجگے، جان ماریاں میرا نصیب ہیں۔۔ مجھے یہ حکم ھے کے چ��تے رھو۔۔۔ اللہ کی زمین، آسمان، پہاڑ، دریا، صحرا، جنگل ویرانے، گل خانے تمھارے منتظر ہیں، جاؤ ان سے آشنائی پیدا کرو، پیادہ، جانوروں کی پیٹھ، گول پہیوں والی مشینوں پہ، آہنی پروں والے پرندوں پہ، سمندروں کے سینے پہ تیرتے ھوے راج ہنسوں پہ کہ درویشی، دریوزہ گری نہیں۔۔۔۔ دیدہ دری اور رفو گیری ھے۔
گندہ کرنا ایسا مشکل نہیں جتنا مشکل پاک صاف کرنا ھوتا ھے۔۔۔ سرسراتی ہوا کی مانند مست خرامی بھی کبھی ایسی سوہان روح نہیں ھوتی جیسی حالت قید و قیام، روح فرسا ھوتی ھے، کہہ بول لینا دینا ھی اتنا دکھ درد کا باعث نہیں ھوتا جتنا ک چپ گمُ ، جان جلاتی ھے۔۔ چکی کا قطب خود تو دھرا، کھڑا ، گڑا اور پڑا رہتا ھے۔۔ مگر مدار کے اندر پتھر پاٹوں کو جمائے، چلائے، بھگائے رکھتا ھے۔۔۔۔۔ آسمان، ستاروں سے ذمین، زروں سے۔۔۔۔۔ سمندر، قطروں سے اور دشت دمن، اشجار و اثمار سے جل تھل ھوتے ہیں ۔۔۔۔۔
(کاجل کوٹھا سے اقتباس) از بابا محمد یحی خان
میں باپ ہوں میں نے خواب بیچے
تو خواب سب کے خرید لایا
میں وہ ہوں جس نے عذاب جھیلے
تو آپ لوگوں نے چین پایا
مجھے جو بدلے میں مل رہا ہے
صلہ یہ کیا ہے انعام کیا ہے۔؟
میرا بتاؤ مقام کیا ہے۔۔؟
کبھی سنو مجھ سے لاڈلو تم
میرا فسانہ میری کہانی
کبھی تو پوچھو کہاں گئی ہے
میری وہ رنگوں بھری جوانی
تو یاد رکھنا ��مہاری خاطر
تمہارے بچپن پہ وار دی ہے
تمہیں میں پہلے جوان کر لوں
یہ کرتے کرتے گزار دی ہے
گزر گئی ہے تو سوچتا ہوں
گزر رہی جو شام کیا ہے۔؟
میرا بتاؤ مقام کیا ہے۔۔؟
امریکی مصنفہ اور صحافی "ایرما بومبیک" نے لکھا:
میرے والد کچھ نہیں کرتے تھے، پھر بھی مجھے ان کی اتنی کمی کیوں محسوس ہوئی؟
- جب میں چھوٹی تھی، تو مجھے لگتا تھا کہ والد فریج کے بلب کی طرح ہوتے ہیں۔ ہر گھر میں فریج کا بلب ہوتا ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ جب ہم فریج کا دروازہ بند کرتے ہیں تو وہ کیا کرتا ��ے۔
- میرے والد ہر صبح گھر سے نکلتے تھے، اور شام کو واپس آکر ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔
- جب کوئی اچار کا مرتبان نہیں کھول پاتا تھا تو وہ اسے کھول دیتے تھے۔
- وہ گھر میں واحد شخص تھے جو اکیلے ��ہہ خانے میں جانے سے نہیں ڈرتے تھے۔
- شیو کرتے وقت وہ اپنے چہرے کو زخمی کر لیتے تھے، لیکن کوئی بھی آگے بڑھ کر انہیں چومتا یا ان کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔
- جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو وہی فارمیسی جاکر دوائی لاتے تھے۔
- وہ ہمیشہ مصروف رہتے، گھر کے دروازے کے پاس گلاب کی شاخیں کاٹتے رہتے، اور ہم انہیں کانٹوں کی چبھن سے تکلیف میں دیکھتے۔
- وہ میرے سکیٹ بورڈ کے پہیوں کو چکنا کرتے تاکہ وہ تیزی سے چل سکے۔
- جب مجھے اپنی سائیکل ملی، تو وہی اسے پکڑتے اور میرے ساتھ دوڑتے، اور ایک ہزار کلومیٹر تک دوڑنے کے بعد میں نے اسے خود سنبھالنا سیکھا۔
- وہی میری سکول کی رپورٹ کارڈز پر دستخط کرتے تھے۔
- انہوں نے میری بے شمار تصویریں کھینچیں، لیکن خود کسی میں نظر نہیں آئے۔
- وہی میری ماں کی ڈھیلی کپڑے لٹکانے کی رسیوں کو ٹھیک کرتے تھے۔
- مجھے دوسرے بچوں کے والدین سے ڈر لگتا تھا، لیکن اپنے والد سے نہیں۔
- ایک بار میں نے ان کے لئے چائے بنائی، جو دراصل میٹھے پانی کا ایک گلاس تھا، اور انہوں نے چھوٹے سے کرسی پر بیٹھ کر اسے لذیذ کہا اور بہت آرام دہ نظر آئے۔
- جب میں "گھر گھر" کھیلتی تھی، تو میں "گڑیا ماں" کو بہت سے کام دیتی تھی، لیکن "گڑیا باپ" کو کیا کام دوں، یہ نہیں جانتی تھی۔ اس لئے میں اسے کہتی کہ میں کام پر جا رہا ہوں، اور پھر اسے بستر کے نیچے پھینک دیتی۔
ایک صبح، جب میں نو سال کی تھی، میرے والد کام پر جانے کے لئے نہیں اٹھے۔ وہ اسپتال گئے اور اگلے دن انتقال کر گئے۔
میں اپنے کمرے میں گئی، اور بستر کے نیچے "گڑیا باپ" کو تلاش کیا، جب میں نے اسے پایا، تو اس کی دھول جھاڑی، اور اسے بستر پر رکھا۔
مجھے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا جانا مجھے اتنا درد دے گا، لیکن ان کا جانا اب بھی مجھے بہت تکلیف دیتا ہے، اور مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے۔
یہ کبھی نہ سوچنا کہ تم کسی شخص کو مکمل طور پر جانتے ہو اور یہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کہ تم اس کی شخصیت کے تمام پہلوؤں سے واقف ہو۔ اس کے افعال اور رویے کو اپنے تصور کے مطابق مت سمجھنا، بلکہ اس کی حقیقت کے م��ابق دیکھنا۔ اور اسے ایسے سانچے میں مت ڈالنا جو اس سے میل نہ کھاتا ہو اور اس کا حصہ نہ ہو...! یقین رکھو کہ:
ہر انسان میں جسے تم جانتے ہو، چاہے تم اس کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہو، ایک اور انسان بھی ہوتا ہے جسے تم نہیں جانتے۔
تم پر بڑا رحم ہے کہ تمہارے لئے کسی کے دل میں رحم موجزن ہوــ کسی کی بےغرض آنکھوں سے تمہارے لئے احساس کی نمی پھوٹے .. اور وہ سجدہ ریز تمہارے لئے گڑگڑا کر تمہاری خیر کے لئے دعا گو ہو .. اور اگر ایسا ہو تو جان لو مان لو .. تمہارا رب تم سے بہت محبت کرتا ہے ..
یہ احساس یہ نمی یہ رحم اسی ذات کے خزانوں میں سے ایک خوبصورت عطا ہے اور جس دل کو یہ عطا کر دے اس دل کے لئے ازخود آسانی ہو جاتی ہے اور تمہارے لئے بوسیلہ اس احساس کے آسانی ہوتی ہے ..بڑی عطا ہے. بڑی کارسازی ہے .. رب قدردان ہے سچ کا .. احساس کا .. محبت کا .. اور یہ کیسی عجب بات ہے رب ہی تو عطا کرنے والا ہے سچ رحم احساس اور محبت کا .. الحمدللہ رب العالمین سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم!