Just a reminder that those who kill children—whether in Gaza or in Iran—carry the same ideology as Umar ibn Sa’d and Hurmala in Karbala.”
NEVER FORGET HISTORY REPEATS ITSELF ……….
انتقام صرف اسلحہ اٹھانے والے دشمنوں سے نہیں لیا جائے گا… بلکہ اُن سب سے لیا جائے گا جو حق جانتے ہوئے بھی خاموش رہے۔
وہ سب جو حق کے وقت لب سی کر بیٹھ گئے—یہ سوچ کر کہ کہیں ان کی دنیا، ان کی عزت، ان کی تجارت متاثر نہ ہو جائے—وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
ہر اُس “تاجرِ خونِ حسینؑ” سے انتقام ہوگا، جو محرم آتے ہی ذاکرِ حسینؑ بن کر امامؑ کے نام پر امام کا خون بیچتا ہے، مگر جب کربلا کا پیغام زندہ کرنے کا وقت آیا اور آج حق و باطل کے جنگ چھڑی تو اپنے مفاد کی خاطر گونگا اور بہرا بن جاتا ہے۔
اور اُن قاریوں سے بھی، جن کی آوازوں میں تو گونج ہے مگر دل قرآن کے نور سے خالی ہیں—جو آیاتِ الٰہی کو محض زبان کی زینت بنا کر شہرت کماتے رہے، مگر اُن آیات کو اپنی زندگی میں کبھی اتارا نہیں۔ جن کے لئے تلاوت طنطنہ اور دین لقلقۂ زبان ہے
اور اُن نام نہاد دین فہم لوگوں سے، جنہوں نے دین کو سمجھا نہیں مگر اس کے ٹھیکیدار بن بیٹھے—جنہوں نے لوگوں کو ایسا دین سکھایا کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے صرف اپنی ذاتی نجات کے خول میں قید ہو گئے۔
یاد رکھو! حساب ہوگا… اور ایسا ہوگا کہ ہر خاموشی، ہر منافقت، ہر سوداگری بے نقاب ہوگی—تاکہ پھر کبھی کوئی یزیدِ وقت، اسلام کے نام پر، مسلمانوں ہی کے ہاتھوں کسی حسینِ زمان کو قربان کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
@syedhadimoosavi یہ الفاظ ایک گہرے جذباتی لگاؤ اور عقیدت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ آپ کی تحریر سے اس کرب کا اندازہ ہوتا ہے جو کسی عظیم رہنما کی جدائی پر ایک مخلص پیروکار محسوس کرتا ہے۔
یہ الفاظ ایک گہرے جذباتی لگاؤ اور عقیدت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ آپ کی تحریر سے اس کرب کا اندازہ ہوتا ہے جو کسی عظیم رہنما کی جدائی پر ایک مخلص پیروکار محسوس کرتا ہے۔
لفظِ ”تعزیت“ دفتر پر لکھنا بہت گراں تھا…
دن اور رات آپ کی جدائی میں گزرتے رہے، اور ابھی تک یقین نہیں آتا کہ ہم آپ سے جدا ہو گئے ہیں۔
لیکن میں جانتا ہوں کہ جو اسباق آپ نے ہمیں دیے — ایمان، ولایت، شجاعت، استقامت اور توکل کے — وہ آج آپ کی امت میں نمایاں ہو چکے ہیں۔ انہی تعلیمات سے آپ نے ایک ایسی قوم تیار کی جو شیطانِ بزرگ اور غاصب و بچوں کے قاتل رژیم کے مقابل فولاد کی طرح ڈٹی ہوئی ہے اور مزاحمت کر رہی ہے۔
یہ قوم تمام حساب کتاب کو درہم برہم کر چکی ہے اور ایک روشن سورج کی مانند طلوع ہو چکی ہے۔ مجھے یاد ہے آپ فرمایا کرتے تھے: “مستقبل تمہارا ہے” — اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس طرح اپنا مستقبل خود تعمیر کر رہے ہیں۔
ہم نے اسرائیل کو ذلت سے دوچار کیا اور پچیس سال سے پہلے ہی اسے زوال کے دہانے پر پہنچا دیا، اور امریکہ کو رسوا کر دیا۔ آپ کی بنائی ہوئی قوم اپنے علم و فضل کے ذریعے تاریخ رقم کر رہی ہے اور آپ کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے ایک اسلامی مشرقِ وسطیٰ تشکیل دے رہی ہے۔
آپ کی روح شاد ہو اور آپ کا راستہ ہمیشہ زندہ رہے
خیلی گران بود نوشتنِ بر دفتر لفظِ تعزیت…
روزها و شبها در فراق تو گذشت، و هنوز باورم نمیشود که از تو جدا شدهایم.
اما میدانم درسهایی که به ما دادی — درسِ ایمان، ولایت، شجاعت، استقامت و توکل — امروز در ملتت جلوهگر شده است. از همین درسها، تو ملتی ساختی که در برابر شیطانِ بزرگ و رژیمِ غاصب و کودککش، همچون آهن ایستاده و مقاومت میکند.
این ملت، همهی محاسبات را بر هم زده و چون خورشیدی تابناک طلوع کرده است. به یاد دارم که میگفتی: «آینده از آنِ شماست» — و امروز میبینم که چگونه آینده را میسازیم.
بینیِ اسرائیل را به خاک مالیدیم و پیش از بیستوپنج سال، آن را به زوال کشاندیم؛ و آمریکا را بیآبرو کردیم. ملتی که تو ساختی، با علم و فضل خود، تاریخ را رقم میزند و به پیروی از گفتارت، در حال ساختن خاورمیانهای اسلامی است.
روحت شاد و راهت پررهرو باد
لفظِ ”تعزیت“ دفتر پر لکھنا بہت گراں تھا…
دن اور رات آپ کی جدائی میں گزرتے رہے، اور ابھی تک یقین نہیں آتا کہ ہم آپ سے جدا ہو گئے ہیں۔
لیکن میں جانتا ہوں کہ جو اسباق آپ نے ہمیں دیے — ایمان، ولایت، شجاعت، استقامت اور توکل کے — وہ آج آپ کی امت میں نمایاں ہو چکے ہیں۔ انہی تعلیمات سے آپ نے ایک ایسی قوم تیار کی جو شیطانِ بزرگ اور غاصب و بچوں کے قاتل رژیم کے مقابل فولاد کی طرح ڈٹی ہوئی ہے اور مزاحمت کر رہی ہے۔
یہ قوم تمام حساب کتاب کو درہم برہم کر چکی ہے اور ایک روشن سورج کی مانند طلوع ہو چکی ہے۔ مجھے یاد ہے آپ فرمایا کرتے تھے: “مستقبل تمہارا ہے” — اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس طرح اپنا مستقبل خود تعمیر کر رہے ہیں۔
ہم نے اسرائیل کو ذلت سے دوچار کیا اور پچیس سال سے پہلے ہی اسے زوال کے دہانے پر پہنچا دیا، اور امریکہ کو رسوا کر دیا۔ آپ کی بنائی ہوئی قوم اپنے علم و فضل کے ذریعے تاریخ رقم کر رہی ہے اور آپ کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے ایک اسلامی مشرقِ وسطیٰ تشکیل دے رہی ہے۔
آپ کی روح شاد ہو اور آپ کا راستہ ہمیشہ زندہ رہے
مکتب حسینی کی ایک جھلک
آج دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ زندہ مکتب کے ساتھ وابستگی کس طرح قوموں کو ناقابلِ شکست بناتی ہے۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ اپنے پیروکاروں کو وہ بصیرت دیتا ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا—یا حق کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ یا باطل کے سامنے رسوا ہو جاؤ۔
یہ مکتب غیر جانبداری کے نام پر بزدلی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ ظلم کے خلاف میدان میں اترنے کا حکم دیتا ہے—چاہے ہاتھ میں ہتھیار ہو یا مال و وسائل کی صورت میں مدد۔ ایران کے مجاہدین دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں، اور ملتِ کشمیر اپنے وسائل سے اس محاذ کو طاقت دے رہی ہے۔
یہ وہ جذبہ ہے جہاں نہ عمر دیکھی جاتی ہے، نہ حیثیت—ہر شخص آگے بڑھ کر حق کا ساتھ دیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عزت دیتا ہے، اور اسی راستے سے ہٹنا ذلت ہے۔ اللہ ملت کشمیر کے اس انفاق کو قبول فرمائے۔ آمین
#kashmir_donatefor_iran
https://t.co/dx9EyWi4KI