خواہشیں نہیں مرتیں، خواہشیں دبانے سے
امن ہو نہیں سکتا، گولیاں چلانے سے
ایک ظلم کرتا ہے، ایک ظلم سہتا ہے
آپ کا تعلق ہے، کون سے گھرانے سے؟
چھوٹے چھوٹے شہروں پر، کیوں نہ اکتفا کر لیں
کھیتیاں اجڑتی ہیں، بستیاں بسانے سے
یہ بھی قسمت کا لکھا ہے میں جہاں بھی جاؤں
میرے ہمراہ محبت کے خسارے جائیں
مجھ کو جنت کی تمنا ہے مگر شرط یہ ہے
میرے ہمراہ میرے دوست بھی سارے جائیں
ہم کو اک عمر اگر اور عطا ہو سرورؔ
ہم یہ چاہیں گے کہیں اور اتارے جائیں
سرور خان سرورؔ
کیوں خیالوں میں کوئی زُلف سنوارے جائیں؟
جب کوئی ہے ہی نہیں کس کو پُکارے جائیں؟
سو جنم بھی ہمیں دنیا میں اگر مل جائیں
ہم تیرے پیار کے احسان اتارے جائیں
دنیا والو ! کوئی تعزیر لگاؤ ہم پر
ہم کو دکھ ہے کہیں بے جُرم نہ مارے جائیں
فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکرِ خوباں کیوں نہ ہو
خاک ہونا ہے تو خاکِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو
دہر میں اے خواجہ ٹھہری جب اسیری ناگزیر
دل ا��یرِ حلقۂ گیسوئے پیچاں کیوں نہ ہو
زیست ہے جب مستقل آوارہ گردی ہی کا نام
عقل والو! پھر طوافِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو
اک نہ اک پھندے ہی میں پھنسنا ہے جب انسان کو
دوش پر دامِ سیاہِ سنبلستاں کیوں نہ ہو
جب فریبوں میں ہی رہنا ہے تو اے اہلِ خِرد
لذتِ پیمان بارِ سست پیماں کیوں نہ ہو
یاں جب آویزش ہی ٹھہری ہے تو ذرے چھوڑ کر
آدمی خورشید سے دست و گریباں کیوں نہ ہو