اداروں کی پھرتیاں فیلڈ مارشل کے قتل کی سازش انہوں نے سوئزرلینڈ میں پکڑ لی لیکن اپنے ہی ملک میں ہر دوز دہشت گردوں کے ہاتھوں بیگناہ شہید ہو رہے ہیں بچیاں یتیم ہورہی ہیں لیکن کوئی روکنے والا نہیں ہے کوئٹہ شوہر شدید زخمی بیوی رات ساڑھے گیارہ بجے پولیس کو فون کرتی ہے اور پولیس صبح پانچ بجے پہنچتی ہے سوچیں ��ارے رات ایک ماں اپنی بچیوں کو شوہر کے خون سے لت پت لباس میں بچیوں کو سینے سے لگائے ویرانے میں بیٹھی رہی شوہر کی لاش سامنے پڑی یہی اگر کوئی وزیر کوئی جرنیل اور بڑے آدمی کی فیملی ہوتی تو سارے ادارے دس منٹ میں پہنچ جاتے ۔اب تو پاکستان کے نظام قانون اداروں پر لعنت بھیجنے کو بھی دل نہیں کرتا
اگر یہ دنیا صرف امتحان نہیں... بلکہ ایک عظیم مشن بھی ہو؟
حضرت آدمؑ سے شروع ہونے والی ایک بھولی ہوئی حقیقت، جو زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنا سکھاتی ہے۔
**مکمل ویڈیو یوٹیوب پر دیکھیں۔**
کیسے کیسے چہرے بینقاب ہو رہے ہیں ۔ یہ پہلی بار نہی ہے انصار برنی ٹرسٹ سے بچہ برامد کیا گیا ہو ۔ پہلے بھی یہ شخص کافی متنازعہ رہا ہے ۔
یہ وائرل ویڈیو ہے جس میں ایک بچہ جو کراچی سے ہی گم ہوا اور تین ماہ سے انصار برنی کے پاس تھا مگر بچے کا نام و پتہ بتانے کے باوجود اس نے والدین کے حوالے ن��یں کیا گیا یہاں تک کہ پولیس کو برآمد کرنا پڑا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ولی اللہ معروف چند دن کی محنت سے گمشدہ لوگوں کو انکے پیاروں سے ملوا دیتا ہے یہ پولیس یہ ادارے کیوں نہی یہ کام کر سکتے ۔
یہ ٹرسٹ والے بچے ورثا تک کیوں نہی جانے دیتے ۔ یہ صرف اس ایک بچے کا قصہ نہیں ہے، ایسے ہزاروں بچے شیلٹر ہومز میں پڑے ہوئے ہیں؟
جنکو انصار برنی میں مسیحا نظر اتا ہے تو اس شخص کا تعڑف میں کرادیتا ہوں
انصار برنی نے 1980 میں انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل قائم کیا تھا اور اپنا تعارف ایک ایسے شخص کے طور پر دیا جس نے خود جیل کی سلاخیں دیکھیں تھیں اور اسی تجربے نے اسے مظلوموں کا محافظ بنایا۔ اس ٹرسٹ کے تحت قیدیوں کو قانونی امداد دی جاتی تھی گمشدہ بچوں کو بازیاب کرایا جاتا تھا اور انسانی حقوق کا جھنڈا بلند کیا جاتا تھا۔
جون 2024 میں ایف آئی اے کی اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل نے صارم برنی کو کراچی ایئرپورٹ پر ��س وقت گرفتار کیا جب وہ امریکہ سے واپس آ رہے تھے۔ شکایت امریکی قونصل خانے نے درج کروائی تھی اور الزام تھا کہ بچوں کو غیرقانونی گود لینے کے عمل کے ��ریعے اسمگل کیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق پچھلے ڈیڑھ سال میں سترہ سے اٹھارہ بچوں کو امریکہ میں غیرقانونی طریقے سے گود دیا گیا تھا۔
امریکی محکمے کے خط میں کہا گیا کہ ٹرسٹ عدالتوں کو گمراہ کر رہا تھا اور بچوں کے نام بدل رہا تھا۔ تین بچیوں کے بارے میں عدالت میں یہ کہا گیا کہ وہ ٹرسٹ کے دروازے پر لاوارث ملی تھیں اور والدین کا کوئی سراغ نہ ملا لیکن امریکی تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ بیان حقیقت کے برعکس تھا۔
ایف آئی اے کے چالان کے مطابق صارم برنی اور ان کے ساتھیوں نے تین بچیوں کے نام جان بوجھ کر بدلے اور عدالتی دستاویزات میں حقیقی والدین کا نام چھپایا گیا۔ ان بچیوں کو امریکی خاندانوں کے حوالے بغیر اصل والدین کی رضامندی کے کیا گیا اور فی بچہ تین ہزار امریکی ڈالر وصول کیے گئے۔
حتمی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ صارم برنی اور ان کے ساتھیوں نے عدالت کے سامنے جان بوجھ کر غلط معلومات پیش کیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک ہی معاملے میں ٹرسٹ نے دو الگ موقف اپنائے یعنی عدالت میں بچوں کو لاوارث کہا اور امریکی سفارت خانے کو بتایا کہ بچوں کو ان کے حقیقی والدین لائے تھے۔
یہ محض غلطی نہیں تھی یہ ایک منظم دھوکہ تھا جس میں دستاویزات میں تبدیلی بھی شامل تھی عدالت کو گمراہ کرنا بھی شامل تھا اور پیسے کا لین دین بھی ثابت ہوا۔
ایف آئی اے نے تحقیقات میں یہ بھی انکشاف کیا کہ صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہی نہیں تھا اور ایک صارم کی اہلیہ پر بھی الزامات عائد کیے گئے کہ وہ شیلٹر ہوم کا انتظام دیکھتی تھیں اور اس سارے عمل میں برابر کی شریک تھیں۔
نومبر 2024 میں صارم برنی کی بیوی علیہ ناہید ملک اور دیگر ساتھیوں سمیت باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئ�� جس میں دھوکہ دہی کجعل سازی جعلی دستاویز استعمال کرنے اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات شامل تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت بھی مسترد کر دی اور عدالت کا کہنا تھا کہ الزامات انتہائی سنگین ہیں اور 25 سے زائد بچوں کو غیرقانونی طریقے سے امریکہ بھجوانے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بالآخر سندھ حکومت نے صارم برنی ٹرسٹ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو اس یتیم خانے کی نگرانی سونپی گئی۔
اب ذرا سوچیں۔ وہ شخص جو قیدیوں کو رہا کراتا تھا گمشدہ بچوں کو ڈھونڈتا تھا اور انسانی حقوق کا نام لیوا تھا اسی شخص کے ادارے میں بچوں کے نام بدلے جا رہے تھے انہیں ڈالروں میں فروخت کیا جا رہا تھا اور جو والدین اپنے بچے مانگ رہے تھے انہیں خالی ہاتھ لوٹایا جا رہا تھا۔
کیا یہ شخص اتنا طاقتور ہے ہر بار پکڑے جانے پر چھوٹ جاتا ہے اور نہ میڈیا کو جرت ہے نہ صحافیوں کو کہ اس کے خلاف بول سکیں ۔
اگر امریکی کونسل خانے کا دباو نہ اتا یہ انفارمیشن بھی ہم تک نہ پہنچتی ۔ اور اج بھی ہم مسیحا سمجھتے رہتے ۔
وقت ا گیا ان شیلٹر ہومز کا اڈٹ ہو ہر بچہ کا ریکار�� حکومت کے پاس ہو ۔ اور یہ تو صرف اک ٹرسٹ ہے کراچی کی Hope این جی او کا سکینڈل جس نے 23 بچوں ف ر و خت کیا تھا ۔
مسئلہ یہی ہے کیوں کہ یتیم ہے اگے پیچھے کوی نہی ہے تو کوی پوچھنے والا نہی ہے ۔
یہ سب کچھ وفاق میں ہورہا تھاتو کیاپولیس بےخبرتھی؟ظاہری بات ہےکہ یہ ایک ایک دو روزکاکام تونہیں ہےمہینوں یاسالوں سےیہ دھندہ چل رہاہوگا۔
اسلام آباد ایف آئی اے ٹیم کاایف سیون میں چھاپہ ،چینی باشندوں سمیت پانچ افراد انسانی اعضاءکیس میں گرفتار کر لئے ،چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں تازہ، خشک اور پراسیس شدہ انسانی پلاسنٹا برآمد کرلیا ،پلاسنٹا پشاور راولپنڈی اور لاہور کے اسپتالوں سے جمع کیا جاتا تھا
پراسیس شدہ پلاسنٹا کو بھیڑ کے اعضاء ظاہر کر کے ویتنام سمیت دیگر ممالک میں بھیجتے تھے،پراسیس شدہ پلاسنٹا ادویات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا تھا،برآمد شدہ نمونے طبی معائنے کیلئے پمز ہسپتال بھجوا دیےگئے،ویلڈن ایف آئی اےٹیم۔
@ICT_Police@FIA_Agency
@KaliwalYam بہنیں اپنے بھائی کے لیے آتی ان کو پاکستان کی کسی عدالت سے انصاف نہیں مل رہا اور کیا کریں وہ بیچاری اپنے بھائی کے لیے آتی کاش جو انشا اللہ جو یہ کر رہے بہت جلد سن کے ساتھ ہونے والا ہے