یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال ��نتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہــید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ��دعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔
بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں ��ے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں ۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ میں خطاب۔
پی ٹی وی پارلیمنٹ پر نشریات بند، جبکہ نیشنل اسمبلی کی سرکاری لائیو اسٹریم بھی معطل۔ اسمبلی کے اسکرینوں اور اسپیکرز پر بھی آواز بند کر دی گئی۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم بھی شریک
#Parliament#NationalAssembly#PTV#GovtOfPakistan
آج پاکستان میں جمہوریت کدھر ہے؟ اور جب ہماری مقتدرہ کے ہاتھوں سے جمہوریت یرغمال ہوگئی ہے، جب ہماری مقتدرہ جمہوریت کی روح ک�� اپنے قبضے میں لیے ہوئی ہے اور اپنی مرضی سے جمہوریت کو سانس لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر کچھ لوگ ان کے ایجنٹ بن کر کہتے ہیں جمہوریت کفر ہے۔ تو جب جمہوریت مغرب میں ناکام ہے، کمیونزم مشرق میں ناکام ہے تو حل صرف ایک ہی ہے کہ اسلامی معشیت کو اپنائیں، اسلام کی شورائیت کو قبول کریں، اسلام کے تصورات کو قبول کریں، اسلام ایک متبادل نظام ہے جو انسان کے فلاح و بہبود اور حقوق کا محافظ نظام ہے۔
آج جب جمعیۃ علماء عوام میں مقبولیت رکھتی ہے تو کون ہے جو اسمبلی میں میرا راستہ روکتے ہیں، میں تو اسمبلی کا راستہ اپنا رہا ہوں، میں تو پارلیمان میں کردار ادا کر رہا ہوں، عوام میرے ساتھ ہیں۔ گلگت میں ہم نے دو سیٹیں جیتیں، پیپلز پارٹی بھی کہہ رہی ہے کہ یہ جمعیۃ نے جیتی ہے ہم نے نہیں، اور پھر الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ پندرہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن ہوگا، ایک دن دوبارہ الیکشن کا اعلان کیا اور دوسرے دن الیکشن کا نتیجہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا کہ یہ جیت گئے ہیں اور یہ ہار گئے ہیں۔ یہ الیکشن کمیشن انصاف کی الیکشن کر رہے ہیں؟ آپ نے بلوچستان کے ضمنی الیکشن میں ہمارے ساتھ کیا کیا ہے، آپ نے اس صوبے کے الیکشن میں میرے سامنے دھاندلیاں قبول کی ہے، یہ جتنی عوام بیٹھی ہے ان سب کا نمائندہ میں ہوں۔ یہاں پر بیٹھے عوام کی میں نمائندگی کر رہا ہوں اور آپ کو اس پر باخبر کر رہا ہوں کہ میرے سامنے انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ہم نے آپ سے کتنی سیٹیں چھینی ہیں۔ دھاندلیوں کے اعتراف کیں ہیں، جمعیۃ کے سیٹوں پر ہاتھ ڈالنے کے اعترافات کیں ہیں، یہ الیکشن میں جمہوریت کے معیار مان لوں، اسی الیکشن پر شہباز شریف حکومت کرے گا اور میں کہوں گا کہ یہ جائز حکومت ہے؟مجھے انہوں نے دعوت دی ہے کہ آؤ حکومت میں شامل ہو جاؤ�� میں نے کہا اصل نتیجہ میرے ہاتھ پہ رکھا پھر بات کریں گے اور اگر اصل نتیجہ مجھے نہیں دوگے تو میں اسمبلی میں چند سیٹوں پر آپ کو آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
چارسدہ میں عقیدت اور محبت کا سفر جاری ہے۔ قافلے ابھی راستے میں ہیں، جبکہ پنڈال میں عوام کا جوش و خروش دیدنی ہے۔ اصل منظر ابھی باقی ہے۔
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
میں آج اس عظیم الشان اجتماع کی وساطت سے ریاست سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا اور ہمارا ایک معاہدہ تھا، جس کے تحت آپ نے میری جان، مال اور عزت کی حفاظت کرنی تھی۔ کیا آپ نے مجھے امن فراہم کیا؟ کیا آپ نے میری عزت و آبرو کی حفاظت کی؟
مجھے حساب دو، مفتی شامزئی کے قاتل کہاں ہیں؟ مجھے حساب دو، باجوڑ میں میرے شہداء کے قاتل کہاں
انجنئیر ضیاء الرحمان
@ziaurrehman76
اسلام آباد: قبائلی اضلاع کے حقوق، ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ میں نظراندازی کے خلاف قومی اسمبلی میں بھرپور آواز
جمعیت علماء اسلام شمالی وزیرستان کے رکن قومی اسمبلی مفتی مصباح الدین صاحب نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر تفصیلی خطاب کرتے ہوئ�� قبائلی اضلاع کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور مالی حقوق کی عدم فراہمی پر حکومت سے جواب طلب کیا۔
انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے شمالی وزیرستان کیلئے دانش سکول کے قیام کے اعلان پر عملی پیش رفت، پیر روشان انسٹی ٹیوٹ کے لیے خصوصی گرانٹ، صحت و تعلیم کے شعبوں کے لیے فنڈز مختص کرنے، بجٹ 2026-27 میں قبائلی اضلاع پر عائد سیلز ٹیکس، قبائلی علاقوں کی سولرائزیشن کے حکومتی اعلان، این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کے حصے، مالی سال 2024-25 میں قبائلی علاقوں کے لیے مختص گرانٹس اور شمالی وزیرستان کو غریب اضلاع کی مد میں ملنے والی خطیر رقوم کے استعمال سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔
مفتی مصباح الدین صاحب نے مزید استفسار کیا کہ قبائلی اضلاع سے نکلنے والے معدنی وسائل میں متعلقہ اضلاع کو ان کا جائز حصہ کیوں نہیں دیا جاتا، جبکہ ان علاقوں کے عوام بدستور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کو یقینی بنایا جائے اور ان علاقوں کے لیے کیے گئے حکومتی وعدوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔
گلگت بلتستان انتخابات مسترد*
کل جی بی میں، گلگت بلتستان میں جو الیکشن ہوئے ہیں میں ابھی اس تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا لیکن وہاں سے جو ہمیں انیشیل اطلاعات موصول ہوئی ہیں تو اس حوالے سے ہمارا اس پر اتفاق ہے کہ ہم جی بی الیکشن کو مسترد کرتے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی وزیراعلی سہیل آفریدی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو
#JUI #PTI #GBElection