چوہدری احسن بھون نام ہی کافی ہے
یہی دیکھ لیں ابھی وہ جسٹس حسن اظہر رضوی کے بنچ میں ان کے سامنے کھڑے تھے ریلیف بھی لے لیا
تھوڑی دیر بعد آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز تعیناتی کے لئے انٹرویو پینل میں جسٹس حسن اظہر رضوی کے دائیں سائیڈ بیٹھ کر انٹرویو بھی لے رہیں ہوں گے
20 جولائی کو انہی جسٹس حسن اظہر رضوی اور دیگر کے ساتھ بیٹھ کر جج تعینات کر رہے ہوں گے پھر کچھ عرصہ بعد انہی ججز کے سامنے پیش ہو رہے ہوں گے
مفادات کا تو بالکل بھی ٹکروا نہیں ہے
پاکستان کے عوام کا ایک ہی کام ہے، اشرافیہ کی مراعات کیلئے ٹیکس دینا، کبھی پیٹرول پر بجلی پر گیس پر، ماچس کی ڈبی پر۔ وہ 11 ارب کا جہاز لیں، 4 ارب کی گاڑیاں منگوائیں، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مڈل کلاس کا کام بس اور بس ٹیکس دیتے رہنا ہے تاکہ اشرافیہ کا کھانا پینا چلتے رہے
26 ویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس مظہر نے تین بڑے فیصلے دیئے ۔
پہلا :سپریم کورٹ کے آرڈر کو کالعدم قرار دے کر سویلین کے ملٹری ٹرائلز کو جائز قرار دیا ۔
دوسرا: اسلام آباد ہائی کورٹ میں ج��ز بشمول جسٹس ڈوگر کی ٹرانسفر کو قانونی قرار دے دیا۔
تیسرا: پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے حوالے سے اپنے ہی فیصلے کی نظر ثانی کی ۔
اگر کسی کو یاد ہو دو ماہ قبل لاہور میں کسی سید عون علی نقوی کے ہاں ایک بچی ملازمہ تھی اور وہ بچی جس مالک کو عون بھائی کہہ کر پکارتی تھی وہی زین بھائی ��س کا دوسرے ملازم کیساتھ ریپ کرتا رہا بچہ حاملہ ہوئی تو زین بھائی کی مجرم اور سہولتکار ماں نے بچی کا اسقاط حمل کرایا جس کے دوران بچی کی موت واقع ہو گی، حالت نزع میں اس بچی نے اپنے مجرموں کے نام بتائے تھے ۔ پورا وقوعہ بتایا تھا۔ حالت نزع کا بیان 164 کے بیان سے بھی بڑا ہوتا ہے۔۔ پنجاب حکومت نے اس کیس ہائی پروفائل ڈکلئیر کیا تھا ، بلند بانگ دعوے کئے تھے، کیا بنا اس کا۔؟ کیا وہ عون بھائی (سید عون علی نقوی ) سی سی ڈی کے حوالے ہوا؟ کیا وہ سے فل یا ہاف فرائی ہوا؟ یا آج وہ بھی آزاد ہو کر کسی نئی گھریلو ملازمہ پر نظریں جمائے بیٹھا ہے؟
سی سی ڈی کا قانون ڈار اور نقوی میں اور سرگودھا کے ریپسٹ میں تمیز کیوں کرتا ہے
رضا ڈار کو کلین چٹ دینے کے بعد اگر سی سی ڈی پبجاب کے کسی ایک بھی ملزم کو ماورائے عدالت قتل کرتی ہے یا ٹانگ میں گولی مارتی ہے تو لواحقین اس کی ایف آئی آر سی سی ڈی کے سربراہ اور صوبے کی سربراہ پر کروائیں اور ثبوت کے طور پر ڈی آئی جی فیصل کامران کابیان ساتھ رکھیں کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ
”بھلے رضا ڈار نے اغوا کیا، اپنی نگرانی میں گینگ ریپ کا سہولتکار ہے، بھتہ خور ہے ، لیکن پھر بھی اس کا کیس سی سی ڈی کو نہیں جائے گا“
اگر فوری طور پر آپ کی ایف آئی آر نہیں درج ہوتی جو کہ نہیں ہو گی تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں ، وہاں بھی فوری طور پر بات نہیں بنتی تو کیس کو زندہ رکھنے کے لئے پوری قوت لگا دیں کیونکہ وقت کیساتھ حالات بدلتے ہیں واقعات بدلتے ہیں اور جب یہ ہو گا تو فائلوں کی گرد میں دبا یہی مقدمہ خس و خاشاک کی طرح سب اڑا کر رکھ دے گا
Its just matter of time
بات سخت ہے لیکن اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ جنہوں نے ایک عورت اور مرد کے حلال رشتے نکاح پر زمانے بھر کا گند اچھالا تھا آج وہ اغوااور زنا کا دفاع کر رہے ہیں ۔ اللہ اللہ ۔!!!
ٹھیک ہی کہا گیا ہے خدا کسی کو تب تک موت نہیں دیتا جب تک اس کا اصل سامنے نہ لے آئے۔
بھکر میں سی سی ڈی مقابلے میں 7 سالہ بچی کا قتل اور اس پر خاموشی ہو یا ماڈل ٹاؤن میں 18 سالہ ملازمہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور بعد ازاں اسقاط حمل میں اسکی وفات پر مکمل چپ، اب ڈار فیملی کے چشم و چراغ کے کرتوتوں پر "سخت ایکشن" کی خیالی کہانیاں ثابت کرتی ہیں کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کے صوبے میں امیر اور غریب کے لیے قانون الگ الگ ہیں۔
عوام دوست فلاحی ریاست ہوت�� تو حمیدہ بی بی کے ٹیوشن سنٹر کی چھت کو درست کروایا جاتا، وہاں 400, 600 روپے دیکر پڑھنے والے غریب بچوں کو بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کئے جاتے، ان کے والدین کے روزگار کے مسائل کے بارے میں سوچا جاتا۔۔۔ لیکن ہارڈ سٹیٹ میں ہر چیز کا علاج ڈنڈا ہوتا ہے۔۔۔
میں نے عرض کی تھی کہ یہ جو " پیپر لیس " اسمبلی کا بیانیہ زور پکڑ رہا ہے اس کے ذریعے بہت سے ڈاکومینٹس جو صحافی کو مل جاتے ہیں وہ اپلوڈ کے بعد غائب کر دیے جائیں اور شفافی�� اور پرواہکٹیو ڈسکلوزر دھرے کا دھرا رہ جائے گا