🚨🚨فرعون وقت نے رات ہوتے پیٹرول بم گرا دیا
پاکستان کی تاریخ کے ظالم ترین حکمران شہباز شریف نے آدھی رات ہوتے ہی پیٹرول کی قیمت چار روپے لیٹر اور ڈیزل کی قیمت پانچ روپے لیٹر بڑھا دی ہے اسکےبعد ڈیزل 383 روپے46 پیسے جبکہ پیٹرول 335 روپے 18 پیسے کا ہو گیا ہے
فجر کی نماز کے وقت ان حکمرانوں کی بربادی اور تباہی کے لیے اجتماعی دعا مانگا کریں اب غریب کے پاس یہی آپشن بچا ہے
میرا ہوائی جہازوں کے کنٹرول سافٹ وئر بنانے کا بیس سال سے زیادہ کا تجربہ ہے
میں نے فلائٹ کنٹرول، فیول کنٹرول، ہائیڈرولک کنٹرول اور بریک کنٹرول سافٹ ویئر پر کام کیا ہے
اس وقت شاید ہی کوئی ایسا کمرشل ہوائی جہاز ہوگا جس میں کسی نا کسی شکل میں میرا حصہ نا ہو
اب AI پر توجہ ہے 🙂👍
آپکے چاچو کو جو کے کر اے ��یں وہ سیدھی گولی چلاتے ہیں تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں کمپنی کے انڈر میں ہیں ورنہ جو نہی مانتا اس کا انجام بے نظیر ،الطاف حسین،عمران خان جیسا ہوتا ہے ،حقیقت لکھا کریں چاپلوسی بند کر دیں یہ ملک جب ہے ترقی کرے گا جب ستر سالہ خاندانی،پیری مریدی،مخدوم،سید،
انڈیا میں جنگ کے بعد بھی پیٹرول وغیرہ کی قیمت نہی بڑھی مگر دیکھ لیں عوام جوتے مار رہی اور کہہ رہی
گلی گلی میں شور ہے
مودی چور ہے
مجھے تو جلد ایسے مناظر پاکستان میں بھی نظر آ رہے ہیں
🚨حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم دے مارا ہے
بجلی گیس پیٹرول کے مہنگے ترین بل کے بعد حکومت نے موبائل کمپنیوں کو تیس فیصد تک تمام پیکج مہنگے کرنے کی اجازت دے دی ہے اب ڈیٹا پیکج 500روپے اور پندرہ دن کا پیکج 300تک مہنگا ہو جائے گا
کیسے لگے تجربہ کار ؟
میرے خیال میں مولانا کو کمپنی نے لانچ کیا ہے کیونکہ فوج خلاف بیانیہ صرف پی ٹی آئی کی نہیں تمام سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے لیکن بھر پور ہمایت پی ٹی آئی کو ملی اور عمران خان کو مقبولیت بھی فوج مخالف بیانیہ کی وجہ سے ملی یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے مولانا کو لانچ کر کے عمران خان کی
کیا مولانا فسادی ہیں یا اقتدار کی ہوس میں فوج کے خلاف ہیں؟
جذباتی ماحول تھا اس لیے اس موضوع پر زیادہ نہیں لکھا، مگر مولانا کے بارے میں دو تین دن سے بہت باتیں ہو رہی ہیں۔ کیا مولانا فوج کے پاکستان کے غدار ہیں؟
یہ ان کی ایک تقریر ہے، مکمل ضرور سنیں۔ یہ ان کی جماعت ��ے لیڈر مولانا ادریس کی شہادت کا موقع تھا۔ پاکستان فوج کے حق میں تقریر کرنے پر انہیں شہید کیا گیا تھا۔ طالبان کو علما جواب دیتے ڈرتے ہیں، عمران خان جیسے لیڈر ان کی مذمت نہیں کرتے۔
مولانا نے جذباتی ماحول میں علما کے سامنے طالبان کو مرتد قرار دیا، اسلام سے خارج کہا اور اعلان کیا کہ پاکستان بھر کے علما کا متفقہ فتویٰ ہے لکھا ہوا موجود ہے: پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا شریعت کے مطابق جائز نہیں۔ ہم پاکستان کے اندر مکالمہ چاہتے ہیں، آئین کے وفادار ہیں، اسلحہ نہیں اٹھائیں گے یہ شورش زدہ ملک میں ایک عالم جس کی فالونگ ہے اس کا ریاست کے لیے بہت بڑا اعلان تھا۔
مولانا نے پاکستان فوج کے خلاف اسلحہ اٹھانے کو غیر شرعی قرار دیا۔ یہ بہت بڑی بات تھی کیونکہ طالبان اسے مذہبی جہاد کا نام دیتے ہیں۔ اگر مولانا کو اقتدار عزیز ہوتا یا وہ فسادی ہوتے تو اس موقع پر ایسی آگ بھڑکاتے کہ کے پی جل جاتا، مگر مولانا ریاست، فوج اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ تب ریاست نے ہر جگہ ان کا یہ بیان چلایا تھا۔
یہی ٹاپک قصور میں بھی تھا کیونکہ وہ عام افراد کے لشکر اور اسلحہ کے خلاف ہیں۔ باقی آپ کی مرضی، جو مرضی رائے قائم کر لیں بہت کچھ پڑھ کر البتہ شدید افسوس ہوا ہم ملک میں کیوں فساد کی بنیاد رکھ رہے ہیں ؟
پاکستان اور سعودیہ اور ترکی وغیرہ کا وژن کے علاقے کے تمام مسلم ممالک مل کر ایک مضبوط بلاک بنائیں جبکہ ایران کی سوچ وہ علاقے کا چوھدری ہو ایران کو اس خطے میں اسرائیل کا راستہ روکنے کے لئے سب مسلم ممالک کے ساتھ مل کر بہت حکمت سے چلنے کی ضرورت ہے بلاوجہ کی لڑائی سب مسلم ممالک کی تباہی ہی لائے گی اور فائدہ اسرائیل کو ہو گا
ایران کو پاکستان سے سیکھنا چاہیے
پاکستان میں ہزار داخلی مسائل مگر یہ ایک بڑی فوج بھی رکھتا اور واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے دس مئی کو جب انڈیا پر پاکستان نے دھاک بٹھا دی اس کے جہاز گرا دیے اور عالمی طاقتوں نے ہمیں انڈیا سے جنگ بندی کرا دی تو اس کے بعد پاکستان نے ایک گولی نہی چلائی پاکستان چاہتا تو یہ جنگ جاری رکھ سکتا تھا ایک آدھ ٹیکٹیکل ویپن چلا سکتا تھا مگر پاکستان نے ایسا نہی کیا اس نے جو established کرنا تھا وہ کر دیا اور دنیا نے اسے تسلیم بھی کیا امریکی صدر نے ایک سال روزانہ اس کا ذکر کیا بار بار کہا کہ پاکستان کے کہنے پر ہم ایران پر حملہ روک رہے ہیں امریکی نائب صدر نے کہا میں روز پاکستانی حکام سے بات کرتا ہوں ہمیں ہر جگہ عزت ملی دا��لی مسائل کبھی نا کبھی حل ہو جائیں گے مگر پاکستان پر کوئی عالمی روک ٹوک نہی ہے ایران کو پاکستان سے یہ سیکھنا چاہیے
محسن نقوی صاحب سے بطور وزیر داخلہ ابصار عالم نے بہت اہم سوال کیے ہیں کہ کرکٹ کا ستیاناس ہو چکا بلوچستان کا تباہ ہے خیبر پختون خواہ میں آگ لگی ہے اور اب آزاد کشمیر کا حال دیکھ لیں اس سب کے بعد ان سے کچھ پوچھا کیوں نہیں جاتا؟
شہباز صاحب انکو کیوں رکھا؟
*فیصل آباد میں خاتون سے مبینہ مراسم پر شوہر نے نوجوان عمیری کی مونچھیں مونڈ دیں۔ تھانہ ٹھیکری والا کے علاقے 83 ج ب میں کاشف نامی شہری نے عمیر کو گھر میں پکڑ کر سزا دی اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔
#KashmirMeinTeerChalayGa
بی ایل اے کو پہلے صرف انڈیا کی سپورٹ حاصل تھی، اب غالباً شیطان العرب یعنی متحدہ عرب امارات بھی ان کے ساتھ کھڑا ہو چکا ہے
اس لئے بی ایل اے کے حوصلے بڑھ چکے ہیں
اور وہ نیشنل انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ روزانہ لاشیں بھی گرا رہے ہیں
ایف سی اہلکاروں کی بے رحمانہ شہادتیں بہت تکلیف دہ ہیں
سیکیورٹی ذرائع اگر شریف خاندان کی فکر چھوڑ کر اپنی اصل ذمہ داری پر توجہ دے لیں تو بہت سے قیمتی جانیں بچ سکتی ہیں
اور امن بھی بحال ہو سکتا ہے
#پاکستان
#بلوچستان_دہشتگردی_کے_خلاف
پنجاب حکومت نے سوائے ٹک ٹاکر کے اور کیا کیا
اسلام آباد میں گرہ کیپٹن کی شہادت،سرگودھا میں چھت گر ے کا واقع،اور اسلام آباد میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا معاملہ،اور سی ٹی ڈی کی مشکوک کاروائیاں جس میں گزشتہ ماہ آسٹریلیا سے اے ہوئی فیملی ایک بچی ان کے وجہ سے شہید ہوئی
اس وقت تیل کی ��المی قیمت 72ڈالر بیرل ہے اب یہ طے ہو گیا ہے کہ اگر تیل اس سے سستا ہو بھی گیا پاکستان میں پٹرول تین سو روپے لیٹر سے اب سستا نہی ہو گا
مگر اگر قیمتیں 72سے اوپر گئیں تو تین سو سے اوپر لے جائیں گے
افغان شہریوں کی فوری گرفتاری کا حکم۔۔۔۔؛
وزارتِ داخلہ نے 10 جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی۔۔۔۔
حکومتِ پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔
*وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، 10 جولائی 2026 سے ایسے تمام افغان شہریوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا جو بغیر کسی قانونی دستاویز یا درست ویزا کے پاکستان میں رہائش پ��یر ہیں۔۔۔۔۔۔۔*
*حکومتی احکامات کے تحت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور اسلام آباد انتظامیہ کو 'غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے پلان' (IFRP) پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔*
*نوٹیفکیشن کے مطابق، 11 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریوں اور کارروائیوں کی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو جمع کروانا لازمی ہوگا۔ اس پورے عمل کو حکومت کی جانب سے "ٹاپ پرایورٹی" (انتہائی اہم) قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔*