Cristiano Ronaldo reposted Karim Benzema's video on Instagram from the Kaaba in Mecca, the holiest place in Islam.
Hey @grok, is Ronaldo converting to Islam?
Hajj begins tomorrow!
Itinerary Hajj Day 1 - 8th Dhul Hijjah 1447: (YAWM AL TARWIYAH)
• Some of the pilgrims leave after Isha tonight, while the majority of them will leave after Fajr tomorrow.
• Hujjaj will proceed to Mina and spend the day in Mina.
#Hajj1447
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اس کے دو دروازے رکھے تھے جو زمین کے برابر تھے۔ ایک مشرقی جانب جہاں اب موجودہ دروازہ ہے اور دوسرا اس کے بالکل سامنے مغربی جانب تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ کئی صدیوں تک یہ سلسلہ رہا، یہاں تک کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی، تو انہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کعبہ کا حجم کچھ کم کر دیا اور مغربی دروازے کو مستقل طور پر بند کر کے دیوار بنا دی۔
حضرت عبدالله بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب کعبہ کی از سرِ نو تعمیر کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق اس مغربی دروازے کو دوبارہ کھول دیا تھا تاکہ لوگ آسانی سے آمد و رفت کر سکیں، لیکن ان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے اسے دوبارہ بند کر دیا اور کعبہ کو اسی نقشے پر واپس لے آیا جو قریش نے بنایا تھا۔
آج کے دور میں کعبہ کا صرف ایک ہی دروازہ ہے جو سطح زمین سے بلند ہے۔ مغربی سمت، جہاں کبھی دوسرا دروازہ ہوا کرتا تھا، وہاں اب صرف ایک ٹھوس دیوار ہے جو غلافِ کعبہ (کسوہ) سے ڈھکی رہتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کعبہ کے اندر داخل ہوں تو اس مقام پر سنگِ مرمر کی دیواروں اور ڈیزائن میں اس قدیم دروازے کی جگہ کی نشاندہی محسوس کی جا سکتی ہے
مگر باہر سے یہ مقام اب ایک مکمل دیوار کی شکل میں ہی موجود ہے۔ مذہبی اور تاریخی طور پر یہ مقام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ کی اصل ابراہیمی بنیادوں میں وسعت اور سہولت کا عنصر شامل تھا۔ سبحان الله ہم بہت قسمت والے ہیں جو اس بابرکت اور تاریخی دروازے کی زیارت کر رہے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اس کے دو دروازے رکھے تھے جو زمین کے برابر تھے۔ ایک مشرقی جانب جہاں اب موجودہ دروازہ ہے) اور دوسرا اس کے بالکل سامنے مغربی جانب تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ کئی صدیوں تک یہ سلسلہ رہا، یہاں تک کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی تو انہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کعبہ کا حجم کچھ کم کر دیا اور مغربی دروازے کو مستقل طور پر بند کر کے دیوار بنا دی۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب کعبہ کی از سر نو تعمیر کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق اس مغربی دروازے کو دوبارہ کھول دیا تھا تاکہ لوگ آسانی سے آمد و رفت کر سکیں، لیکن ان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے اسے دوبارہ بند کر دیا اور کعبہ کو اسی نقشے پر واپس لے آیا جو قریش نے بنایا تھا۔
آج کے دور میں کعبہ کا صرف ایک ہی دروازہ ہے جو سطح زمین سے بلند ہے۔
مغربی سمت جہاں کبھی دوسرا دروازہ ہوا کرتا تھا، وہاں اب صرف ایک ٹھوس دیوار ہے جو غلاف کعبہ (کسوہ) سے ڈھکی رہتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کعبہ کے اندر داخل ہوں تو اس مقام پر سنگ مرمر کی دیواروں اور ڈیزائن میں اس قدیم دروازے کی جگہ کی نشاندہی محسوس کی جا سکتی ہے
مگر باہر سے یہ مقام اب ایک مکمل دیوار کی شکل میں ہی موجود ہے۔ مذہبی اور تاریخی طور پر یہ مقام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ کی اصل ابراہیمی بنیادوں میں وسعت اور سہولت کا عنصر شامل تھا۔ سبحان اللہ ہم بہت قسمت والے ہیں جو اس بابرکت اور تاریخی دروازے کی زیارت کر رہے ہیں
صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم 💕✌️💚
I have not forgotten, and I will never forget, what Israel did to us when it bombed civilians who went to search for food from the trucks at a time when the famine had reached its absolute peak.
This happened two years ago.
Rescuers have pulled a man alive from the rubble after US-Israeli strikes hit a residential area on the outskirts of Tehran, said the Iranian Red Crescent.
The US and Israel have continued to attack Iran, despite President Trump’s claims of diplomatic progress.
"سجدہ میں، جب سر دل سے نیچے ہوتا ہے، کشش ثقل آہستہ سے خون کو دماغ کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو سوچ، فیصلے اور عکاسی کے مرکز کی پرورش کرتی ہے۔
جو نیچے کی طرح محسوس ہوتا ہے وہ بلندی کی ایک شکل ہے۔ عبادت کے ہر عمل کے اندر گہری حکمت پوشیدہ ہے۔
اسلام کتنا خوبصورت ہے 🤍🕊️
Stones collapsed from the Qibli Prayer Hall in Al-Aqsa Mosque due to ongoing Israeli excavations, with occupation authorities preventing any restoration work in the area.
Macron has not uttered one word of condemnation of the Israel-US war on Iran. He did not condemn Israel when it blew up fuel storage in Tehran, exposing millions to toxins. His current "concern" didn't follow Israel's attack on our gas facilities. It follows our retaliation. Sad!