سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
1-
ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرد واحد اپنی طاقت بچانے کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا دے۔ یحیی خان نے بھی اپنی طاقت بچانے کے لئے عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمن کو دھوکہ دیا تھا۔ حمود ا��رحمان کمیشن رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایک شخص نے اپنی طاقت اور اقتدار کی طوالت کے لیے ملک کو دولخت کر دیا۔ اس ایک شخص کی غلط پالیسی کی وجہ سے اس وقت ہمارے 90,000 فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا تھا۔ بھٹو نے 50,000 بے گناہ جانوں کے ضیاع کا خود اعتراف کیا تھا حالانکہ اصل گنتی اس سے کہیں ذیادہ تھی۔ ملک کی معیشت کو اس وقت اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا ۔ آج تک ہم اس نقصان کا ازالہ نہیں کر پائے۔آج بھی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ آج پھر ایک شخص اپنی طاقت کو بڑھانے اور اقتدار کو طول دینے کے لیے نظام کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے اور نظام کو تباہ کر رہا ہے۔
اس ملک کا مٹھی بھر اشرافیہ ملک کے تمام نظام وسائل، اقتدار اور طاقت پر قابض ہے۔ اس قبضہ گروپ کا جب دل چاہتا ہے آئین کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے، ججوں کو دھمکیاں دیتا ہے، جمہوریت کی عکاس پارلیمنٹ کے تقدس پر حملہ آور ہو جاتا ہے، عوامی نمائندگان کو اغواء کر لیتا ہے، ہمارے ایم این ایز کے گھر کی خواتین کو اٹھا لیتا ہے۔ اخلاقیات سے عاری یہ مافیا خود کو آئین اور قانون سے بالاتر گردانتا ہے۔ اسی چھوٹے سے طبقے ، اس اشرافیہ نے اس ملک کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔آج بھی اپنی ذات کے لئے یہی سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ واحد ادارہ بچا ہوا ہے اب اس پر بھی حملہ آورہو رہے ہیں۔
۲-
ملک میں ظلم و بربریت کا نظام نافذ ہے۔ ترقی اور عہدوں سے نوازنے کا پیمانہ عدلیہ میں تحریک انصاف کے خلاف فیصلے اور حکومت میں فسطائیت ہے۔ اس بات کی تین واضح مثالیں قاضی عیسی فائز، محسن نقوی اور ہمایوں دلاور ہیں-
قاضی فائز عیسی نے ہمارے اوپر مظالم کرنے والوں کو تحفظ دیا ۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان چھینا۔ انسانی حقوق کی پا��الیوں کے خلاف ہماری درخواستیں نہیں سنیں۔ الیکشن میں دھاندلی پر سابق کمشنر راولپنڈی نے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔اب اسی چیف جسٹس کو دوبارہ مسلط کرنے کے لیے فارم ۴۷ حکومت اور اس کے ہینڈلرز ہر ممکن ہتھکنڈہ اپنا رہے ہیں۔ میرے پاکستانیوں آج اگر آپ قاضی فائز عیسی کی ایکسٹینشن کے خلاف نہ نکلے تو ہمیشہ غلام رہیں گے۔
محسن نقوی نے سب سے زیادہ ظلم ہم پر کیا ہے۔ ظل شاہ کو پولیس نے تشدد کرکے قتل کیا،لاش سڑک پر پھینکی اور ایف آئی آر بھی میرے ہی خلاف کاٹی ۔ہم پر ظلم کرنے کے عوض محسن نقوی کو وزیر داخلہ اور پی سی بی کا چیئرمین بنایا گیا۔
ہمایوں دلاور کی و��ہ سے میں اور بشری بی بی آج غیر قانونی طور پر پابند سلاسل ہیں۔اس کے عوض ہمایوں دلاورکو اربوں مالیت کی زمین تحفے میں دے دی گئی ۔خیبر پختونخواہ اینٹی کرپشن کے پاس اسکے سارے ثبوت موجود ہیں ۔ اب ایف آئی اے نے خیبر پختونخواہ اینٹی کرپشن پر کیس کر دیا ہے۔
۳-
نواز شریف کو انھوں نے دبکا لگا کر روکا ہوا ہے،نہیں تو کب کا باہر بھاگ گیا ہوتا۔ مجھے یہ نہ بتائیں کہ کس کس کے پیسے اور جائیدادیں باہر ہیں ، مجھے یہ بتائیں کہ آج اس ملک کے جو ارباب اختیار ہیں ، جو اس نظام کے لاڈلے ہیں ان میں سے کس کے پیسے اور جائیدادیں ملک میں ہیں۔ سعد اللہ بلوچ کی بیوی اور بیٹی کو اٹھا لیا گیا ہے۔ انکو شرم نہیں آتی یہ اسمبلیوں میں گھس گئے اور پارلیمینٹرینز کو پکڑ لیا ۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا،کسی نے پہلے کبھی پارلیمنٹ سے کسی کو گرفتار نہیں کیا۔
۴-
پوری قوم کو کہتا ہوں آزادی بچانے کےلئے سٹریٹ مومنٹ کے لیے نکلنا ہوگا ۔ ہماری تحریک جمہوریت کے ��ئے جہاد ہے۔عدلیہ سے کہتا ہوں قانون کی حکمرانی کے لئے کھڑے ہوں ۔ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ پوری پارٹی تیار رہے سڑکوں پر آنے کا اعلان جلد کریں گے۔ یاد رکھیں حقیقی آزادی کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے۔ میں اور میری بیوی جیل میں ہیں اور جیل میں رہنا ہمارے لئے عبادت ہے۔ اگر آپ کو بھی جیلیں بھرنی پڑتی ہیں تو اس سے دریغ نہ کریں۔ اگر آپ قربانی نہیں دیں گے تو آپ اور آپ کی آنے والی نسلیں غلام رہیں گی۔
I have been offered deals time and again, told either to leave the country or remain silent, and in return my cases would be withdrawn. Yet from the very first day, my position has been that I will only emerge from these cases through the courts, never as the result of any deal. This is why 300 fabricated cases have been filed against me. Any other person could not have withstood such persecution, but I know that I am innocent and that I stand on the side of truth.
Even the false Toshakhana case has now completely collapsed. Witnesses presented by the prosecution, Brigadier Ahmad and Colonel Rehan, themselves admitted that the Toshakhana gifts were not taken to my residence but deposited in the Toshakhana, and all documentation is complete.
Therefore, acquittal in this case should be granted in a single day, and in particular, bail for Bushra Begum should be approved, as she is a woman and is facing nothing but baseless allegations of aiding and abetment.
I am fully aware that the so-called courts under the 26th Amendment deliver dictated verdicts, not according to the law but according to Asim Law. The sequence has already been planned: first, conviction will be announced in the second Toshakhana case, and only then will bail in the Al-Qadir Trust case be approved. This is the script, and the judiciary is currently functioning not on the basis of law, but according to this script.
Former Prime Minister Imran Khan, speaking with family and lawyers at Adiala Jail – 24 September 2025
2/2
بانی چئیرمین عمران خان کے ٹیلی گراف میں چھپنے والے آرٹیکل کا اے آئی ورژن
“میں یہ بات واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یا میری اہلیہ کو کچھ ہوا تو جنرل عاصم منیر اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ لیکن مجھے کوئی خوف نہیں کیونکہ میرا ایمان مضبوط ہے۔ میں غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا“
کمشنر راولپنڈی کا اعترافی بیان جس میں انہوں نے یہ تسلیم کرتےہوئے مستعفٰی ہونے کا اعلان کیا کہ انہوں نے انتخابی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کی،جس کے نتیجےمیں محض راولپنڈی ڈویژن میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 13 نشستوں سے محروم کیا گیا۔
ان کا یہ بیان ملک بھر میں انتخابی نظام کے ساتھ کئے جانے والی نہایت منظّم چھیڑ چھاڑ کی ایک ہوشربا روداد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ��ومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی ایسی نشستیں جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی، کو جعلی سازی اور دھوکے دہی سے ہروایا گیا اور عوام کو ان کے جائز مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ساکھ، اس کی بہتری اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے فارم 45 کی روشنی میں نتائج جاری کرتے ہوئے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے میں ملوث افراد کیخلاف مؤثر اور بامعنی عدالتی کارروائی کابھی مطالبہ کرتی ہے۔
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے م��ں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
“ہم عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، ہم بہنیں تو نہیں چھوڑیں گی، عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے اس پر ہمارا احتجاج کرنا ضروری ہے، عمران خان کا علاج اور ان کی قیدتنہائی کے خاتمے کی ڈیمانڈ ہم فروری سے کررہے ہیں، ہم ایک آئینی اور قانونی چیز مانگ رہے ہیں، یہ عمران خان کا حق ہے کہ ان کا علاج ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ہو، قید تنہائی کا خاتمہ ہو۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
Inaugurated Skardu international airport. InshaAllah, this will take mountain tourism to a level where it will bring in foreign exchange for the country & raise the local community's standard of living. I want to thank the people of Skardu for their generous welcome.
⚡️ Drop Site News has published for the first time the full Cable I-0678 — the classified Pakistani diplomatic telegram dated March 7, 2022, that Imran Khan has cited as evidence of a U.S.-backed conspiracy to remove him from power.
The cable, sent from Pakistan’s ambassador in Washington to the Foreign Secretary in Islamabad, documents a luncheon meeting between Ambassador Asad Majeed Khan and U.S. Assistant Secretary of State for South and Central Asia Donald Lu.
According to the cable, Lu told the ambassador that Washington’s grievances with Khan’s government could be set aside if Khan were removed through a no-confidence vote. “I think if the no confidence vote against the Prime Minister succeeds, all will be forgiven in Washington because the Russia visit is being looked at as a decision by the Prime Minister,” Lu said, per the cable.
“Otherwise, I think it will be tough going ahead.”
In his own assessment, the ambassador wrote that Lu “could not have conveyed such a strong demarche without the express approval of the White House” and had “spoken out of turn on Pakistan’s internal political process.”
The cable was marked Secret, No Circulation, and distributed to Pakistan’s Secretary to the Prime Minister, Foreign Secretary, Chief of Army Staff, Director General of the ISI, and the Director of the SSP Section.
Khan was removed via no-confidence vote on April 9, 2022, six weeks after the meeting. He has been imprisoned since 2023, and has been held in solitary confinement since last year.
🔗 Read the full Drop Site report tracing how the U.S.-Pakistan relationship moved from mutual suspicion to full political embrace at the link below.