Their enforced disappearance reveals a pattern of abuse that destroys families, and the family continues to fight for justice despite emotional exhaustion.
#ReleaseSagheerAndIqrarBaloch
کشمیری اور بلوچ قوم کا درد مشترکہ ہے اور مشترکہ جدوجہد ہی اس ظلم سے نجات کا ذریعہ ہے۔ میں کشمیریوں کی پرامن جدوجہد پر ریاستی کریک ڈاؤن اور ظلم و جبر کی مزمت کرتی ہوں۔
ہم کشمیر میں جاری ظلم و جبر، کریک ڈاؤن اور انسانی جانوں کے ضیاع کو قابل مذمت قرار دیتے ہیں کہ اپنے قومی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں پر بد ترین کریک ڈاؤن کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں صرف آٹھ جون 2026 کو گیارہ افراد ہلاک اور ستر کے قریب زخمی کئے گئے ہیں۔
جون 2026 میں ہونے والا کریک ڈاؤن اور قتل عام کشمیری عوام پر پاکستانی مقتدرہ کی جبر کی پالیسیوں کا تسلسل ہے جو اس سے قبل 2025 میں اس وقت شروع کیا گیا جب کشمیری عوام نے اپنے حقوق کے لئے احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں منظم کی لیکن مقتدرہ نے ان آوازوں کو سننے کے بجائے انٹرنیٹ کو بند کرکے بدترین کریک ڈاؤن کیا تاکہ اظہار رائے کی آزادی کو دنیا کے سامنے چھپا کر ظلم و جبر کے سائے میں مظلوم کشمیریوں کی آوازوں کو دبایا جاسکے۔
حالیہ دنوں کشمیری عوام کے حقوق کی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا تو حکومت اور ریاستی محکموں نے نہ صرف عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا بلکہ تنظیمی رہنماؤں پر مقدمات درج کئے اور سینکڑوں کارکنان کو پابند سلاسل کیا گیا جو ثابت کرتا ہے کہ قومی حقوق کے لئے پر امن جدوجہد پاکستانی مقتدرہ کے لئے قابل قبول عمل نہیں ہے۔
بلوچستان اور دنیا بھر میں بسنے والے مظلوم و محکوم قوموں کا درد مشترکہ ہے جو جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل عام، گرفتاریاں، تنظیموں کو کالعدم قرار دیکر کارکنان پر بد ترین کریک ڈاؤن کی شکل میں موجود ہے۔ لیکن اس ظلم و جبر کے ماحول میں ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرکے ان کے خلاف مشترکہ جدوجہد ہی محکوم اقوام کی نجات کا ذریعہ ہے۔
ہم بحیثیت بلوچ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور اور ہر فورم پر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
It is a pleasure to be in Paris today for talks with @jnbarrot.
We spoke about the state of talks to end the Iran war and further strengthening our common EU foreign policy decision-making.
Together, we are working to build a stronger and more united Europe - one that acts with purpose, upholds its values, and defends our shared European interests.
Later today, I will also address the Two-State Solution Conference hosted by France in support of the Palestinian and Israeli civil societies committed to peace.
آج 12 جون 2026 کو بلوچستان کے علاقے تمپ گومازی میں پاکستانی فورسز نے آپریشن کے دوران متعدد گھروں پر چھاپے مارے۔ اس دوران عورتوں، بزرگوں اور بچوں تک کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ فورسز نے گھروں سے قیمتی سامان، سونا، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹنے کے بعد کئی گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔
بلوچستان کی شاہراہیں انتہائی غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران بلوچستان سے پنجاب معدنیات لے جانے والے ساٹھ ٹرکوں کو مسلح افراد نے نذرِ آتش کر دیا ہے۔ ان واقعات میں اضافہ ایسے وقت میں دیکھنے میں آیا ہے جب مسلح تنظیم کی جانب سے کوئٹہ سے تفتان جانے والی شاہراہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اس راستے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
بلوچ وائس فار جسٹس، صغیر اور اقرار بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ان کی بازیابی کے لیے ایکس (X) پر مہم چلائے گی۔
انہیں 11 جون 2025 کو اورماڑہ کے قریب جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
سیاسی و سماجی کارکنوں، طلباء، وکلاء، صحافیوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں سمیت زندگی کے دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس مہم کا حصہ بنیں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔
تاریخ: 17 جون 2026
وقت: شام 7 بجے سے رات 12 بجے تک
#ReleaseSagheerAndIqrarBaloch
فروری 2026 کو وفات پانے والی اماں حوری، بلوچستان کا وہ چہرہ رہیں جو جدوجہد اور امید کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ 75 سالہ بی بی حوری کا بیٹا 14 سال پہلے جبری گمشدگی کا شکار ہوا تھا۔ یہ وہ ماں ہیں جو اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کو سامنے دیکھنے کی خواہش لیے اس دنیا سے چلی گئیں لیکن ان کا یہ سوال آج بھی زندہ ہے کہ انکا بیٹا کہاں ہے؟ اماں حوری کون تھیں اور ان کی زندگی کیسے گزری؟
دیکھیں الیفیہ سہیل کی اس رپورٹ میں:
#SochVideos #MissingPersons #HumanRights #Pakistan
بلوچستان میں ریاستی جبر روز بروز ایک زیادہ سفاک اور ہولناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ نوجوان، بزرگ، مرد، خواتین، کوئی بھی اس ظلم کے دائرے سے باہر نہیں رہا۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کم سن بچوں کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سوال صرف ان بچوں کے والدین یا خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانی برادری اور پورے معاشرے کا ہے کہ آخر ان معصوم بچوں کا قصور کیا تھا؟ کیا وہ بھی ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ تھے، یا پھر ہر اس وجود کو مٹانا مقصود ہے جو اپنی شناخت، اپنی یادداشت اور اپنے وجود کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہے؟
قومی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور ففتھ جنریشن وارفیئر جیسے بیانیوں کے سائے میں ہر غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کا دفاع کرنے والے آج اس ظلم کی کیا توجیہ پیش کریں گے؟ بچوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا نہ کسی آئین میں جائز ہے، نہ کسی قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی یا انسانی اصول اس کی اجازت دیتا ہے۔ یہ عمل صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کے خلاف ایک کھلا جرم ہے۔
کسی محکوم قوم کے بچوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا طاقت کی علامت نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ریاست اپنے سیاسی اور اخلاقی جواز کے بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ معصوم بچوں کے خلاف استعمال ہونے والی طاقت دراصل ریاست کی قوت نہیں بلکہ اس کے خوف، عدمِ اعتماد اور فکری دیوالیہ پن کا اظہار ہوتی ہے۔
#EndEnforcedDisappearances
@SabihaBaloch_@Shar_hassan_B کون سے ریاستی اہلکار ؟ نام واضح طور پر کیوں نہیں لیا جاتا کہ پاکستان کی مسلح افواج بلوچستان اور دیگر بلوچ خطوں میں بلوچوں کے گھروں کی تقدس کو پامال کرکے غیرقانونی و غیرانسانی طور پر بلوچ مرد و خواتین کو اغواء کرکے اپنے فوجی کیمپوں میں لےجاکر انسانیت سوز مظالم کا شکار کررہی ہے۔
The repeated targeting of Fahad Qambarani’s family through enforced disappearances, home raids, intimidation, and threats reflects a pattern of collective punishment that is fundamentally incompatible with the principles of justice and the rule of law. Over a prolonged period, multiple members of the same family have allegedly been subjected to enforced disappearance and harassment, while women, children, and elderly relatives have been exposed to fear, uncertainty, and psychological suffering. The reported raid on the family home and the enforced disappearance of a 12 year old child raise grave concerns regarding the protection of fundamental rights.
International human rights law is clear that no individual may be subjected to punishment, coercion, or retaliation on the basis of family association. The prohibition of collective punishment is a well established principle of international law and remains binding regardless of the circumstances invoked to justify its use.
#StopCollectivePunishmnet
#EndEnforcedDisappearances
The European Commission has provided the Belgian government with a list of members of an Islamic Emirate delegation for a possible visit to Brussels to discuss the return of Afghan migrants to Afghanistan.
#TOLOnews_English
https://t.co/BsHVySayl2
Balochistan facing the worst kind of poverty in the world due to different factors imposed on it by Islamabad.
The latest Records of Highest Poverty Rate in Pakistan portraying Balochistan the poorest region,Economic Survey Reports Say @AP
https://t.co/QYe1QfBEv5 via @TBPEnglish
A 9th grade student and teenager Aqif Baloch S/O Fazal Rehman Baloch was subjected to enforced disappearance by Pakistan F.C and its CTD armed forces from the Quetta city Balochistan, according to the reports the whereabouts of the victimized 14 year student is still unknown @UN
A 9th grade student and teenager Aqif Baloch S/O Fazal Rehman Baloch was subjected to enforced disappearance by Pakistan F.C and its CTD armed forces from the Quetta city Balochistan, according to the reports the whereabouts of the victimized 14 year student is still unknown