تربت: ناصر آباد میں مسلح افراد نے دو ٹریلر گاڑیوں پر فائرنگ کرنے کے بعد نذرِ آتش کردیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سے تربت کے متصل علاقوں میں سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
#بلوچستان
سوراب کے علاقے گدر میں گذشتہ روز مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے تین گاڑیوں کے قافلے کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہ گدر گریڈ اسٹیشن کے قریب سے گزر رہے تھے۔ حملے میں فورسز کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
حملے میں ہلاک ایک اہل��ار کی شناخت رفیق خان کے نام سے ہوئی ہے۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
چاغی کے علاقے یکمچ میں کوئٹہ-تفتان مرکزی شاہراہ پر بلوچ آزادی پسندوں کی ناکہ بندی جاری
آزادی پسندوں کی ایک بڑی تعداد، جن میں خواتین جنگجوؤں بھی شامل ہیں، نے یکمچ شہر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
#بلوچستان
تربت: بلوچ آزادی پسندوں کا شاہراہوں پر کنٹرول، معاشی مفادات سے منسلک بڑی گاڑیوں پر حملوں میں اضافہ
گزشتہ روز تربت کے علاقے شاپک میں سامان لے جانے والے ٹرکوں پر فائرنگ کرکے انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔
اس سے قبل اس روٹ پر متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کرکے تباہ کیا گیا تھا، جن کی ذمہ داری بی ایل ایف نے قبول کی تھی۔
#بلوچستان
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جانب پاکستانی فوج پر متعدد حملوں کی ویڈیو فوٹیجز جاری
Footage of attacks carried out by the Baloch Liberation Army across Balochistan from 4 Aug to 16 Sep 2026.
Download:
HD:
https://t.co/NWYKcyGWql
https://t.co/zZflDIYDy0
Low:
https://t.co/Qs96w82mIt
نوکنڈی میں شاکر ہوٹل کے قریب پاکستانی فورسز، ایف سی کے ایک قافلے کو مسلح افراد نے حملے کا نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں ایف سی کا ایک اہلکار، نائیک/این سی ایس مالی سلام ہلاک، جبکہ ایف سی کے 7 اہلکاروں سمیت 5 دیگر افراد زخمی ہوئے۔
#بلوچستان
بی ایل ایف کی اعلیٰ تربیت یافتہ بلوچ خواتین جنگجوؤں کو پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس نوعیت کا حملہ بلوچ خواتین کی جانب سے اس سے قبل تربت میں بھی کیا گیا تھا، جو انتہائی قریب سے کیا گیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بی ایل ایف کی جانب سے خوا��ین جنگجوؤں کو اعلیٰ فوجی تربیت دی گئی ہے، جو انتہائی تیزی سے فوجی قافلوں اور کیمپوں پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ماشکیل میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے عسکری یونٹس “کاڈ” اور “قربان یونٹ” نے مشترکہ کاروائی کے دوران پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا، جس کے دوران 18 اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا۔
تفصیلی بیان:
ماشکیل میں کاڈ اور قربان یونٹ کا فرنٹیئر کور 58 ونگ کے کیمپ پر حملہ، 18 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی، دو سرمچاروں نے جامِ شہادت نوش کیا: میجر گہرام بلوچ
یکم اکتوبر 2026 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے نو تشکیل شدہ خواتین یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) اور ہراول دستے قربان یونٹ کے سرمچاروں نے واشک کے علاقے ماشکیل گوریندر میں قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 58 ونگ کے اہم فوجی کیمپ کو کامیابی کے ساتھ مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔
س��مچاروں نے دشمن کے کیمپ کو مختلف اطراف سے مکمل گھیرے میں لے کر راکٹوں گرینیڈ لانچروں اور دیگر خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن فوج کے 18 اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی کے دوران حواس باختہ فوج کے کچھ اہلکار اپنا اسلحہ نیز کیمپ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ قابض فوج کی کمک کے لیے آنے والے قافلے کو بھی سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے اور کمک کے لیے آنے والا قافلہ پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ بعد ازاں قابض فوج نے اپنے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر پنجگور منتقل کر دیا۔ قابض فوج اپنے ہلاک اہلکاروں کی تعداد اور شناخت چھپا رہی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ قابض فوج بلوچستان میں ایک شکست خوردہ جنگ لڑ رہی ہے۔
اس تاریخی اور پرعزم مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے دوران تنظیم کے دو بہادر سرمچار شہید ساجد عرف مہران ولد خالد ساکن بلیدہ اور شہید عبدالخالق عرف نوتک ولد سنجر ساکن پروم نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کا یہ عظیم ایثار اور لازوال قربانی بلوچستان کی آزادی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔
کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کا اس اہم حملے میں مرکزی کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں خواتین اب محض سیاسی یا نظریاتی حد تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ جابرانہ پالیسیوں اور ریاستی جبر کے خلاف میدان جنگ میں باقاعدہ فرنٹ لائن پر آ چکی ہیں۔ شہید بانک کریمہ بلوچ کے نام سے منسوب یہ ڈویژن بلوچ خواتین کے بے مثال عزم استقامت اور مزاحمتی جذبے کا روشن استعارہ ہے۔
بلوچستان میں قائم قابض فوج کے کیمپ بلوچ قومی وسائل کے بے دردی سے استحصال بلوچ نسل کشی اور چادر و چار دیواری کی پامالی کے بنیادی مراکز ہیں۔ ان تمام فوجی اڈوں کا مکمل خاتمہ اور بلوچستان کی سرزمین سے قابض فوج کا بلا مشروط انخلا، آزاد اور خودمختار بلوچستان ہی بلوچ قومی بقا کا واحد ضامن ہے۔ جب تک بلوچ سرزمین پر ایک بھی فوجی موجود ہے اور بلوچ قوم کے سیاسی و معاشی حقوق پ�� غصبی تسلط برقرار ہے ہماری مسلح جدوجہد اور مزاحمت مزید طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے شہدا کے فکر اور فلسفے پر گامزن رہتے ہوئے بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ شہدا کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام تک یہ جنگ تمام تر محاذوں پر پوری قوت اور دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ لڑی جائے گی۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ اس کامیاب اور تاریخی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
3 اکتوبر 2026
Ref. No. BLF/October2026/000117
بریکنگ نیوز
بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ماشکیل میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے عسکری یونٹس “کاڈ” اور “قربان یونٹ” نے مشترکہ کاروائی کے دوران پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا، جس کے دوران 18 اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا۔
تفصیلی بیان:
ماشکیل میں کاڈ اور قربان یونٹ کا فرنٹیئر کور 58 ونگ کے کیمپ پر حملہ، 18 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی، دو سرمچاروں نے جامِ شہادت نوش کیا: میجر گہرام بلوچ
یکم اکتوبر 2026 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے نو تشکیل شدہ خواتین یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) اور ہراول دستے قربان یونٹ کے سرمچاروں نے واشک کے علاقے ماشکیل گوریندر میں قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 58 ونگ کے اہم فوجی کیمپ کو کامیابی کے ساتھ مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔
سرمچاروں نے دشمن کے کیمپ کو مختلف اطراف سے مکمل گھیرے میں لے کر راکٹوں گرینیڈ لانچروں اور دیگر خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن فوج کے 18 اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی کے دوران حواس باختہ فوج کے کچھ اہلکار اپنا اسلحہ نیز کیمپ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ قابض فوج کی کمک کے لیے آنے والے قافلے کو بھی سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے اور کمک کے لیے آنے والا قافلہ پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ بعد ازاں قابض فوج نے اپنے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر پنجگور منتقل کر دیا۔ قابض فوج اپنے ہلاک اہلکاروں کی تعداد اور شناخت چھپا رہی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ قابض فوج بلوچستان میں ایک شکست خوردہ جنگ لڑ رہی ہے۔
اس تاریخی اور پرعزم مشن کو پایہ تک��یل تک پہنچانے کے دوران تنظیم کے دو بہادر سرمچار شہید ساجد عرف مہران ولد خالد ساکن بلیدہ اور شہید عبدالخالق عرف نوتک ولد سنجر ساکن پروم نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کا یہ عظیم ایثار اور لازوال قربانی بلوچستان کی آزادی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔
کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کا اس اہم حملے میں مرکزی کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں خواتین اب محض سیاسی یا نظریاتی حد تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ جابرانہ پالیسیوں اور ریاستی جبر کے خلاف میدان جنگ میں باقاعدہ فرنٹ لائن پر آ چکی ہیں۔ شہید بانک کریمہ بلوچ کے نام سے منسوب یہ ڈویژن بلوچ خواتین کے بے مثال عزم استقامت اور مزاحمتی جذبے کا روشن استعارہ ہے۔
بلوچستان میں قائم قابض فوج کے کیمپ بلوچ قومی وسائل کے بے دردی سے استحصال بلوچ نسل کشی اور چادر و چار دیواری کی پامالی کے بنیادی مراکز ہیں۔ ان تمام فوجی اڈوں کا مکمل خاتمہ اور بلوچستان کی سرزمین سے قابض فوج کا بلا مشروط انخلا، آزاد اور خودمختار بلوچستان ہی بلوچ قومی بقا کا واحد ضامن ہے۔ جب تک بلوچ سرزمین پر ایک بھی فوجی موجود ہے اور بلوچ قوم کے سیاسی و معاشی حقوق پر غصبی تسلط برقرار ہے ہماری مسلح جدوجہد اور مزاحمت مزید طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے شہدا کے فکر اور فل��فے پر گامزن رہتے ہوئے بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ شہدا کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام تک یہ جنگ تمام تر محاذوں پر پوری قوت اور دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ لڑی جائے گی۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ اس کامیاب اور تاریخی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
3 اکتوبر 2026
Ref. No. BLF/October2026/000117
Major Update 🚨
Reports indicate the bodies of personnel killed in the attack on a military camp in Gorend area of Mashkhel were shifted to Panjgur by helicopter. The camp remains vacant following the attack, with reports of several additional personnel missing.
However, the army has not yet officially confirmed the casualties. Photos of the slain personnel are circulating on social media. Reports indicate both male and female attackers were involved, though no insurgent organization has claimed responsibility. The Karima Armed Assault Division, the women's wing of the Balochistan Liberation Front, has previously claimed responsibility for last similar attacks.
بریکنگ نیوز
ماشکیل میں پاکستان فوج کے گوریندر پوسٹ (58 ونگ) پر مسلح افراد کا شدید حملہ، آٹھ اہلکار، نائک واحد، نائک مہتاب، نائک نوبت علی، حوالدار ناصر، لانس نائک مشتاق، لانس نائک انعام، سپاہی مزمل، سپاہی دانیال ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔
تاہم مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔
#بلوچستان
بلوچستان کے ضلع حب کی سب تحصیل دُریجی کے علاقے دیوانہ شاہ میں مسلح افراد کا پولیس اہلکاروں پر حملہ
حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا، جبکہ مسلح افراد سرکاری اسلحہ اور موٹر سائیکلیں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
#بلوچستان
تربت: ناصر آباد میں مسلح افراد نے مین شاہراہ پر ٹریلر گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ ایک گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا گیا، جبکہ دوسری کے ٹائر برسٹ کر دیے گئے۔
#بلوچستان
ماشکیل کے علاقے گوریند میں پاکستانی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں بعذیعہِ ہیلی کاپٹر کے پنجگور منتقل کردیے گئے ہیں جبکہ حملے کے بعد کیمپ مکمل طور پر خالی ہے اور متعدد فوجی اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حملے میں آٹھ اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا تھا۔ ہلاک اہلکاروں کی شناخت نائک واحد، نائک مہتاب، نائک نوبت علی، حوالدار ناصر، لانس نائک مشتاق، لانس نائک انعام، سپاہی مزمل اور سپاہی دانیال کے ناموں سے ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ اس حملے میں مر�� اور خواتین جنگجو شامل تھی، تاہم ابھی تک کسی پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس سے قبل بلوچستان لبریشن فرنٹ کے خواتین ونگ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن “کاڈ” کے جنگجوؤں نے متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
#بلوچستان
بی ایل ایف کی جانب سے کاڈ کے اعلان کے بعد بلوچ خواتین جنگجوؤں کے مختلف علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری
گزشتہ ہفتے تربت، قلات اور خضدار میں چار حملوں میں نو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔
گزشتہ روز ایک سنگین حملے میں پاکستانی فوج کے کم از کم آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق، یہ حملہ بھی بلوچ خواتین جنگجوؤں نے کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ خواتین کی ایک بڑی تعداد بی ایل ایف کے کاڈ میں شامل ہے، جبکہ انہیں انتہائی خطرناک تربیت دی گئی ہے۔ یہ خواتین جنگجو فوجی کیمپوں اور قافلوں پر حملے کے وقت انتہائی تیز رفتاری سے کارروائی سرانجام دیتی ہیں۔
بریکنگ ابڈیٹ
ماشکیل میں بلوچ خواتین جنگجوؤں نے گذشتہ روز پاکستانی فوج کے کیمپ کو شدید نوعیت حملے میں نشانہ بنایا۔ جس میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے ۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
ماشکیل میں پاکستان فوج کے گوریندر پوسٹ (58 ونگ) پر مسلح افراد کا شدید حملہ، آٹھ اہلکار، نائک واحد، نائک مہتاب، نائک نوبت علی، حوالدار ناصر، لانس نائک مشتاق، لانس نائک انعام، سپاہی مزمل، سپاہی دانیال ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔
تاہم مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
ماشکیل میں پاکستان فوج کے گوریندر پوسٹ (58 ونگ) پر مسلح افراد کا شدید حملہ، آٹھ اہلکار، نائک واحد، نائک مہتاب، نائک نوبت علی، حوالدار ناصر، لانس نائک مشتاق، لانس نائک انعام، سپاہی مزمل، سپاہی دانیال ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔
تاہم مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔
#بلوچستان