علی محمد خان سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر ان کی وضعداری کا ذاتی مشاہدہ ہے۔ کل سپریم کورٹ کے باہر ان کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ افسوسناک تھا۔ پی ٹی آئی والے دوسروں کو موروثی سیاست کا طعنہ دینے سے پہلے اپن�� آنگن میں بھی جھانک لیں۔
سرکاری جہاز کو اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے استعمال کرنے کے معاملے نے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی طور پر بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اخراجات ذاتی طور پر ادا کرنے کا مؤقف سامنے آیا ہے، لیکن سرکاری وسائل کے نجی استعمال پر اٹھنے والے سوالات بدستور موجود ہیں۔
مریم نواز کے سرکاری جہاز کے استعمال نے مسلم لیگ (ن) کے لیے بڑا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
ان کی حکومت کے بعض کاموں کو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہتر قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے سرکاری طیارے کے استعمال نے تمام کارکردگیوں پر ��انی ڈال دیا۔
پی ٹی آئی والو! ذرا آنکھیں کھولو اور حالات کا جائزہ لو۔ جب تمہارے وزیرا��لیٰ کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو اندازہ کرو 27 ستمبر کو عام کارکن کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ جذبات کے بجائے ہوش سے فیصلہ کرو، اپنی سلامتی کو مقدم رکھو اور بہتر ہے کہ گھر پر رہو۔ 🙏🏻🙏🏻
زندگی مختصر ہے اور ہر انسان اپنے حصے کی آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ اس لیے دوسروں کی زندگی میں جھانکنے اور فیصلے سنانے کے بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دیں۔ اگر کسی کے لیے آسانی پیدا نہیں کرسکتے تو کم از کم اس کی مشکلات میں اضافہ بھی نہ کریں۔ یہی سمجھ داری اور انسانیت ہے۔
جب تم کامیاب ہو جاؤ تو اپنا ماحول بدلنے سے نہ گھبراؤ، کیونکہ جو لوگ تمہیں اُس وقت سے جانتے ہیں جب تم کچھ ن��یں تھے، اُن میں سے کچھ لوگ تمہاری کامیابی کو دل سے قبول نہیں کر پاتے اور حسد کرنے لگتے ہیں۔
میں سیاست سے بالاتر ہو کر چھوٹے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتا ہوں۔ میرا مقصد کسی سیاسی جماعت کی مخالفت یا حمایت نہیں، بلکہ ایک ایسے مضبوط اور بااختیار نظام کی خواہش ہے جہاں عوام کو بنیادی سہولیات، انصاف اور ترقی ان کی دہلیز پر میسر ہو۔
لوگوں کے تلخ رویّوں کو دل پر نہ لیں، وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں۔
ورنہ دوسروں کی منفی سوچ کا زہر آہستہ آہستہ آپ کے سکون اور ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
ایسا نہیں کہ عمران خان کی حمایت زیادہ ہے، بلکہ ان کے بہت سے حامی سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک ہیں، اس لیے ان کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے۔ جبکہ دیگر جماعتوں کے کارکن نسبتاً سلجھے ہوئے ہیں اور گالم گلوچ سے گریز کرتے ہیں، اس لیے سوشل میڈیا پر کم نمایاں نظر آتے ہیں۔
کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہاں کمزور اور بے سہارا لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اصل ترقی انسانیت اور اچھے رویّوں میں ہے۔
شاہد خاقان عباسی کہتا ہے کہ اب اس کو بہت عزت ملی ہے، پورے پاکستان میں مفتاح اسمعیل کے علاوہ دوسرا کوئی بندہ اسکی پارٹی میں نہیں پہلے ایسی پارٹی کو ٹانگہ پارٹی کہتے تھے مگر جناب کی پارٹی تو ٹانگہ پارٹی بھی نہ بن سکی یہ سائیکل پارٹی ہے جس میں دو کے علاوہ تیسرے کی گنجائش نہیں ہوتی۔
اپنی زندگی کے فیصلوں کا اختیار دوسروں کے ہاتھ میں نہ دیں۔ مشورہ سب سے لیں، مگر فیصلہ اپنی سمجھ، حالات اور مستقبل کو سامنے رکھ کر کریں۔ کیونکہ زندگی آپ کی ہے، اس لیے اس کی سمت بھی آپ کو ہی طے کرنی چاہیے۔
کسٹمر کے ساتھ اچھا تعلق رکھیں، لیکن اسے ذاتی دوستی میں تبدیل نہ کریں۔ کیونکہ جب کاروبار میں جذبات شامل ہو جائیں تو آپ وقت، قیمت، ادائیگی اور فیصلوں میں رعایت دینے لگتے ہیں، اور آہستہ آہستہ منافع متاثر ہونے لگتا ہے۔