@khanzamankakar جھوٹ، نفرت اور اشتعال پر مبنی بیانیے وقتی شور تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر پائیدار امن، اعتماد اور استحکام ہمیشہ سچ اور ذمہ دارانہ رویوں سے ہی قائم ہوتے ہیں۔
@Waqarkhan پروپیگنڈا وقتی شور تو پیدا کر سکتا ہے، مگر حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ دہشتگرد شہری آبادی کو ڈھال بنا کر فرار ہوئے، جبکہ ریاستی ادارے پوری صورتحال پر مؤثر انداز میں قابض ہیں۔ اصل حقائق جلد سب کے سامنے ہوں گے۔
@Hanzalamalik97 Field Marshal Syed Asim Munir's presence in Tehran reflects Pakistan's tradition of extending condolences and maintaining diplomatic engagement with neighboring countries during times of grief. May peace, stability, and regional cooperation continue to prevail.
Field Marshal Syed Asim Munir COAS & CDF of Pakistan arrives in Tehran, #Iran to attend the funeral prayers of Iranian’s Supreme Leader Ali Khamenei
Upon arrival, Iran's Minister of Defense, Minister of Interior, & senior civil-military officials warmly welcomed FM Syed Asim Munir.
تہران میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پرتپاک استقبال اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اور ایران علاقائی استحکام، باہمی تعاون اور اعلیٰ سطحی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ ایسے دورے اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔
Field Marshal Syed Asim Munir COAS & CDF of Pakistan arrives in Tehran, #Iran to attend the funeral prayers of Iranian’s Supreme Leader Ali Khamenei
Upon arrival, Iran's Minister of Defense, Minister of Interior, & senior civil-military officials warmly welcomed FM Syed Asim Munir.
گوادر گرینڈ جرگے میں اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت اور عوام کی مؤثر شرکت نے آواران سے متعلق "نو گو ایریا" کے تاثر کو رد کر دیا۔ یہ اجتماع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ منفی ب��انیے کے برعکس زمینی حقائق مختلف ہیں۔
"We, in all sincerity, are ready to talk on all issues through what we call the Composite Dialogue, but it takes two to tango. It is not enough for Pakistan to be willing if the other side is not prepared to engage. They have become so narrow-minded that even sports are now subjected to this Hindutva philosophy.
This region is home to over two billion people, and we are all bound by the principles of the United Nations. That institution was created for precisely such purposes. The UN Security Council's primary mandate is the maintenance of international peace and security, so this is an issue on which the global community must engage in order to help preserve peace in the region. The Indus Waters Treaty is not merely, a water-sharing arrangement, but a vital instrument of regional peace, stability and cooperation. Let us reaffirm that shared waters must never be weaponized. They must remain a bridge between nations, guided by cooperation, dialogue and respect for international law, for the benefit of present and future generations."
Deputy Prime Minister Muhammad Ishaq Dar
#IndusWatersTreaty
Ladies and gentlemen, at a time when climate change is accelerating, glaciers are melting at unprecedented rates, and water scarcity is becoming one of the defining challenges of our era, the need to protect this treaty is of the utmost importance. It was therefore felt necessary to bring national experts together on this forum today to discuss the sanctity of water, the challenges posed by climate change and water scarcity, and, most importantly, the sanctity of the agreement known as the Indus Waters Treaty."
#IndusWatersTreaty
"Our friends went to the court, and we went to the court. The Court of Arbitration, from our point of view, gave a mixed judgment. Sometimes it ruled in our favour, and sometimes it ruled in favour of our neighbouring country. Everyone accepted that we would go with whatever the international court decided.
The court passed a judgment and placed limits on the technical design of the flow of water. It set clear limits and decided how it was going to be managed. No country can unilaterally decide what the design is going to be. No country can decide how it is going to stop the flow of water from one country to another.
And guess what? One country stood up and said, "I do not accept that jurisdiction. I do not accept the court's jurisdiction." So, what then is the jurisdiction of international courts of justice? None?
Does that mean tomorrow any country, including any nuclear state, can simply stand up and say, "I don't accept your jurisdiction. I don't accept the world order. I don't accept treaties. I don't accept rights. I don't accept justice. I simply don't accept"?
So, ladies and gentlemen, to me, the treaty has been revealed, and with it, all the treaties of the world have been revealed. This is not just a message for us. We can take care of ourselves, as we have seen. No one can stop our water. But what about the rest of the world? If this precedent has been set, and if the new world order is to be shaped according to this new precedent, then what about the rest of the world?"
#IndusWatersTreaty
پانی کسی قوم پر دباؤ ڈالنے کا ہتھیار نہیں بلکہ پوری انسانیت کا بنیادی حق ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی، قانونی اور پابند معاہدہ ہے جسے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق، در��ائے سندھ اور اپنے 24 کروڑ عوام کے حقِ آب کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور قومی فورم پر بھرپور آواز بلند کرتا رہے گا۔
"مجھے یتیم کہتے ہیں، مگر میں خود کو یتیم نہیں سمجھتی، کیونکہ اس قوم کے ابو، میر سرفراز بگٹی، ابھی زندہ ہیں۔"
بلوچستان کی ایک بیٹی اپنی فریاد لے کر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، میر سرفراز بگٹی، کے سامنے پہنچی ہے تاکہ اس کی شکایت پر کارروائی ہو سکے۔
دیر سے ہی صحیح اعتماد بحال ہونے میں وقت لگا، لیکن اب بلوچستان کے عوام کا ریاست اور حکومت پر اعتماد مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے حکومت سے رجوع کر رہے ہیں۔
#Balochistan
اسلام آباد میں عالمی اور مقامی ماہرین نے آبی تحفظ کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کو بے نقاب کیا، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی قانون کے تحت پابند ہے۔
#IndusWatersTreaty
بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرنے سے علاقائی امن مضبوط ہوتا ہے۔ سیمینار کے شرکاء نے پانی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تعمیری مشغولیت پر زور دیا جبکہ سندھ بسی پر منحصر تمام کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کیا گیا
#IndusWatersTreaty
سمی دین بلوچ پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ 15 برس سے مسنگ پرسنز کے مسئلے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں، انسانی حقوق کے نام پر فنڈز حاصل کیے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس مہم کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا گیا۔
ملیں دہشت گرد تنظیم بی ایل ایف کے بانی اللہ نذر سے، جو ایک وقت میں آدھا وقت پہاڑوں میں رہتا تھا اور باقی وقت کوئٹہ کے میڈیکل کالج میں، ماہرنگ کی طرح، نام نہاد ایکٹوسٹ بنا ��ھرتا تھا۔
جب اللہ نذر کو ثبوتوں کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تو وہی نام نہاد ٹولہ، جو آج ماہرنگ کے حق میں بول رہا ہے، اُس وقت بھی یہی کہتا رہا کہ اسے کیوں گرفتار کیا گیا۔
یہاں تک کہ اُس وقت کے جج نے بھی اللہ نذر کے حق میں فیصلہ دیا۔ جیل جانے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی وہ "پاکستان مردہ باد" کے نعرے لگاتا رہا۔
جب وہ جیل سے رہا ہوا تو فوراً بلوچستان کے پہاڑوں کا رخ کیا، پھر افغانستان چلا گیا، جہاں سے بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرواتا رہا۔
آج اگر اللہ نذر جیل میں قید ہوتا تو شاید بلوچستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی، اور شاید آج بلوچستان میں امن ہوتا۔ بی ایل ایف نام کی دہشتگرد تنظیم ہی نا ہوتی۔۔۔
#Balochistan
یہ ویڈیو 13 ستمبر 2007 کی ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے کا مقصد صرف آگاہی دینا ہے۔
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعلی کے عہدے سے یہ بات سامنے آئی ��ے کہ بلوچستان میں کسی حقوق یا محرومی کی جنگ نہیں ہے، یہ خالص پاکستان کو توڑنے کی سازش ہے۔ پہلی مرتبہ کسی وزیر اعلی نے دہشتگردوں کو کھل کر دہشتگرد کہا اور بلوچستان کے اندر جاری دہشتگردی اور انکے ناپاک عزائم کو بینقاب کردیا۔
اچانک سے کچھ لوگ یہ بیانیہ لیکر آگئے کہ آج بلوچستان کے جو حالات خراب ہوئے ہیں اسکے زمہ دار سرفراز بگٹی ہیں۔ میں حلفا کہتا ہوں اس ��رح کے بیان دینے والے منافق ہیں، جنہوں نے پچھلے 2 دہائیوں سے ریاستی اداروں اور قومی سطح پر عوام کو گمراہ رکھا ہوا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آج تک دہشتگردوں کو دہشتگرد نہیں کہا۔ بلوچستان میں جاری دہشتگردی کو جس طرح آج پاکستانی عوام سمجھ چکی ہے اور جس طرح یہ دہشتگرد آج ایکسپوز ہوگئے ہیں اس طرح ماضی میں کبھی نہیں ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے آج شرپسند عناصر اپنے تاریک مستقبل کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت کے خلاف طرح طرح کے پروپگنڈے کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے آج ان دہشتگرد تنظیموں میں خواتین کا استعمال ہورہا ہے، جیسے آج سڑکوں پر پاکستان مخالف ایکٹیوٹی ہورہے ہیں۔
نہیں بھائی نہیں!
یہ پچھلے 2 دہائیوں سے گند چلتا آرہا ہے، ہماری بدقسمتی یہ ہے ہمیں کوئی مخلص رہنما نہیں ملا تھا جو انکے خلاف کھڑا ہوجائے اور اقدامات لینا شروع کرے۔ ریاستی ادارے وقتی طور پر کسی علاقے میں امن لاسکتے ہیں لیکن اس علاقے میں مستقل اور پائیدار امن لوکل لیڈر شپ کی بدولت ممکن ہوتی ہے اور یہ تب ممکن ہوگا جب سرفراز بگٹی جیسے لوگ میدان میں دہشتگردوں کے خلاف کھڑے ہوکر اپنے لوگوں کو نا صرف حقائق بتائینگے بلکہ انکے بہتر اور روشن مستقبل کے لیئے اقدام کرینگے۔
جہاں کہیں یہ بیان سننے کو ملے کہ یہ دہشتگردی موجودہ دور کی ہے تو سمجھ جاو وہ آپکو گمراہ کررہے ہیں، کیونکہ ماضی میں اس دہشتگردی کے خلاف بیانیہ نہیں تھا، ان دہشتگردوں کو ناراض بھائی، حقوق اور محرومی کے نام پر تحفظ اور جواز دیتے تھے۔ آج وقت بدل چکا ہے یہ ایکسپوز ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے پچھلے 2 دہائیوں کا ملبہ اس حکومت پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں جس حکومت نے ان دہشتگردوں کے خلاف اپنے ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر مقابلہ کرنے کا عہد کرلیا ہے۔
#Balochistan
کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ نصیب فرمائے دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ پوری قوم اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان شاء اللہ، پاکستان دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔