جب ہم بات کرتے ہیں، تو ہمیں قتل کر دیا جاتا ہے یا اغوا کر لیا جاتا ہے۔" (قمبر زاہد)
بیٹا لاپتہ، چیرمین زاہد بلوچ
ہمیں گیارہ سال ہو گئے، لیکن ہم نے اپنے باپ کا سایہ تک نہیں دیکھا�� ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں
@hTanveerAwan @MahrangBaloch_ @BalochYakjehtiC
اسلام آباد : قلات سے تعلق رکھنے والی یہ ماہین بلوچ ہے جو اپنے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے بابا کی تصویر سینے سے لگائے سو رہی ہے اسے سیاست کی باریکیوں کا نہیں پتا ہے مگر اتنا ضرور جانتی ہے کہ اتنے دنوں کے دھرنے احتجاج کے باوجود اپنے بابا کو بازیاب نہیں کروا سکی ۔۔اور میں نہیں چاہتی ماہین بلوچ بڑی ہوکر سمی دین کی طرح پندرہ سال گزرنے کے بعد بھی اپنی والد کی بازیابی کا مطالبہ کرتی پھرے !
ماہین کل اپنے بابا کی تصویر لیے خالی ہاتھ در شاہی سے واپس اپنے گھر جارہی ہے اور ماہین کو یہ بھی پتا ہے کہ ریاست نے ہمارے مطالبات کو ایڈریس نہیں کیا ہے ماہین یہ بھی جانتی ہے کہ جدوجہد کے بغیر زندگی بے معنی ہے ماہین سب لمحوں کے سب رویوں کو جانتی ہے اور اسلام آباد پولیس نے تو ماہین کو بہت کچھ سکھا دیا ہے اور ہاں ماہین بلوچ کو اسلام آباد پریس کلب کی طرف سے کل جاری ہونے والی ٹو��یفکشن کا بھی علم ہے
آئیں ملکر ماہین بلوچ سمیت ہر اس بچے کی ہر اس ماں کی ہر اس بہن کی آواز بنیں جن سے اس ریاست نے سکون سے زندگی کا حق چھین لیا ہے #MarchAgainstBalochGenocide
Our all Facilities including with, Stage, carpets along with the Car, a driver, and other amenities were snatched away.
We are facing this behaviour since the beginning of our march from Turbat to Islamabad. In this Struggle, we are perpetually being targeted, harassed, threatened and tortured despite being peaceful in every moment.
#MarchAgainstBalochGenocide
اسلام آباد : کل منقعد ہونے والے ہمارے international oppressed peoples
کانفرنس کے لیے @ICT_Police نے ساونڈ سسٹم قبضے میں لے لیے ہیں ہمارے دھرنے سے لے کر ایسا ابتک چوتھی دفعہ ہوا ہے کہ ہمارے ساونڈ سسٹم بھی ریاستی عتاب کا شکار ہوئے ہیں مگر انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا جب زبانیں کاٹنے سے آوازیں نہیں دب جاتی تو ساونڈ سسٹم کو قبضے میں لے کر کیسے مظلوم اقوام کی آواز کو ��ابند سلاسل کرسکتے ہیں؟
ایک طرف وزیر اعظم دنیا بھر میں تقریریں کرتا پھر رہا ہے کہ اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے جبکہ یہ آزادی ہم سے دارالخلافہ میں چھینا جارہا ہے ایسے ہتھکنڈوں سے ہماری آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ہے
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
*کُمہار مَٹّی سے کُچھ بنا رہا تھا، کہ اُس کی بیوی نے پاس آکر پُوچھا، کیا کر رہے ہو،*
👈 کمہار بولا حُقَّہ کی چِلَم بنا رہا ہُوں،
آج کل بہت بِک رہی ہے،
کمائی اچھی ہو جائے گی،
👈 بیوی نے جواب دیا کہ
زِندگی کا مقصد صِرف کمائی کا ذریعہ ہی تَو نہیں،
کُچھ اور بھی ہے،
تُم میری مانو،
👈 آج صُراحی (گھڑا) بناؤ،
گرمی ہے،
وہ بھی خُوب بِکے گی،
مگر!
ساتھ ساتھ لوگوں کی پیاس بُجھانے کے کام بھی آئے گی،
👈 کمہار نے کُچھ سوچا،
اور مَٹّی کو نئے رُوپ میں ڈھالنا شروع کیا،
تَو اچانک مَٹّی نے پُوچھا،
یہ کیا کر رہے ہو،
میرا رُوپ بدل دیا،
کیوں؟
👈 کمہار نے جواب دیا،
میری سوچ بدل گئی ہے،
پہلے تُمہارے پَیٹ میں آگ بھر رہا تھا،
اب پانی بھرے گا،
اور مَخلُوقِ خُدا نفع حاصل کرے گی،
👈 مٹی بولی،
تُمہاری تَو صِرف سوچ بدلی ہے،
میری تَو زِندگی بدل گئی ھے،
مَیں تکلیف سے نِکل کر آسانی میں آگئی ہوں،
👈 آپ سوچ بدلئے زِندگی خُود بَخُود بدل جائے گی۔
* پبلک سروس میسج *
*اگر بڑی عمر میں انگھوٹے کا نشان، تھمب پرنٹس یا فنگر پرنٹس مٹ جائیں تو اس کا علاج پیش خدمت ہے۔ انتہائی آسان طریقہ ہے، دوسروں تک پہنچانے کی زحمت ضرور کریں،*
اگر یہ ریاست سمجھتی ہے کہ ہم یہاں اسلام آباد پولیس کے دھمکی آمیز لہجہ، تشدد اور گرفتاری سے خوفزدہ ہونگے اور اپنے احتجاج کو ختم کریں ��ے تو یہ ریاست کی بچگانہ سوچ ہے۔
ہم نے بلوچستان میں اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں کو کندھا دیا ہے، ہم نے اپنے دس دس نوجوانوں کے لاشوں کو ایک ساتھ دفنایا ہے، ہم نے اپنا بچپن پیاروں کے انتظار میں شدید تکلیف اور غم میں گزارا ہے، ہم نے اپنے ماؤں کی وہ تکلیف دیکھی جو ناقابل بیان ہے، ہم نے یتیم بچوں کو تکلیف دہ زندگیاں دیکھی ہے
اور آپ ہمیں یہاں تشدد اور گرفتاریوں سے ڈرانے کی کوشش کررہے ہو، تشدد اور گرفتاریوں سے وہ ڈرے جن کو کچھ کھونے کا ڈر ہو۔ ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں، ہمارا سب کچھ ہمارے پیارے تھے جو آپ نے ہم سے چھین لیے اب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
ہم اس ج��وجہد کو بلوچ نسل کشی کے مکمل خاتمے تک جاری رکھے گے اور اس کے لیے ہر قسم کے قربانی دینے کو تیار ہے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
کچھ لوگ کہتے ہیں آپ بلوچوں کے لئے بات کرتے ہیں بلوچستان میں قتل ہونے والے پنجابیوں کے لئے بات کیوں نہیں کرتے؟ ذرا اس بوڑھی بلوچ م��ں کا دکھ سن لیں اسکا دکھ پختون ، سندھی اور پنجابی ماؤں کے دکھ سے مختلف نہیں مائیں سانجھی ہوتی ہیں بلوچ یا پنجابی نہیں ہوتیں سب کے دکھ دور ہونے چاہئیں