ایک مولانا پوری حکومت سمیت اسٹیبلشمنٹ پر بھاری رہی
قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کی تقریر بلیک آئوٹ کر دی گئی ۔جوں ہی مولانا نے نواز شریف اور آرمی چیف کا نام لیا تو نشریات بند کر دی گئی
#MaulanaOneManArmy
جلسوں میں جب نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوتے تھے تو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے ؟
کیا فوج کو نواز شریف محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے ؟
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کا اسمبلی ک�� فلور پر خطاب
#MaulanaOneManArmy
اس وقت اگر کشمیری احتجاج پر ہیں تو میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ وہاں جو باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے اُس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر حکومت نگوشیٹ نہ کرسکے، تقریروں میں وہ نوجوان ہیں اگر کسی نے کوئی حد سے آگے بڑھ کر بات کی ہے یا پاکستان کے خلاف کوئی الفاظ تعبیر ہوئے ہیں تو اُس کے حق میں بھی باتیں ہوئی ہیں، اسی اجتماع میں ہوئی ہیں، انہی مقررین نے پاکستان کے حق میں باتیں کی ہیں، اور آج وہ باقاعدہ ایک خط مجھے بھیج رہے ہیں۔
جناب سپیکر! آپ کی توجہ چاہیے، جناب سپیکر میں آپ سے مخاطب ہوں، رولز کے مطابق سپیکر سے ہی مخاطب ہونا پڑتا ہے اور اگر سپیکر ��و ہے جب وہ "چشم من در چشم تو
چشمان تو جائے دیگر"،
کشمیریوں کی جو اس وقت جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے، انہوں نے باضابطہ طور پر مجھے یہ خط بھیجا ہے اپنے قیادت کے دستخطوں کے ساتھ اور جس میں انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھے کہا ہے، یقیناً یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا، نہ میرے بس کی بات ہے لیکن میں نے اس کا مثبت جواب دیا ان کو اور کل 23 تاریخ تھی، یہ آخری تاریخ تھی انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا اور اگلا پروگرام دینا تھا، لیکن انہوں نے نہیں دیا اور ابھی ان کے درمیان میں شائد مشاورت چل رہی ہو، وہ کوئی جواب تیار کر رہے ہوں میرا جو ان کو پیغام ملا ہے اس کے بارے می��، لیکن حکومت حکومت ہوا کرتی ہے، اگر حکومت کا رد عمل مقررین نوجوانوں کی تقریروں اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر حکومت کا رد عمل جذباتی ہو جاتا ہے تو یہ حکومت کا مقام نہیں ہوا کرتا۔
جناب سپیکر! اچھا ہوا کہ اس وقت جناب وزیراعظم بھی تشریف لے آئے ہیں ہاؤس میں، موجود ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی موجود ہے اور ان کی موجودگی میں، میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ اگر اس وقت احتجاج پر بیٹھے ہوئے عوام کا ایک بڑا ہجوم ہے، ایسا نہیں کہ بلکل وہاں پر کوئی پبلک نہیں ہے ان کے ساتھ، لوگ بڑی تعداد میں راولاکوٹ میں موجود ہیں اور ان کی جو جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے اس کا باضابطہ طور پر میرے پاس خط آیا اور میں نے اس کے جواب میں ایک بیان ریکارڈ کیا، جب ان کو بھیجا، اس کو پبلش کیا میں نے، کہ میں اس میں جو کردار میرا ادا ہو سکتا ہے میں کرنے کے لئے تیار ہوں اور حکومت کے آفس کو بھی میں نے آگاہ کیا ہے، ابھی تک نہ حکومت کی طرف سے مجھے کوئی جواب ملا ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کی طرف سے کوئی رد عمل آیا ہے، سوائے اس کے کہ کل 23 تاریخ تھی اور کل انہوں نے اگلا پروگرام دینا تھا، لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا، جو انہوں نے نہیں کیا اور اس وقت انہوں نے کسی قسم کے اگلے قدم کا اعلان نہیں کیا ہے۔
تو یہ ان کی طرف سے ایک مثبت رد عمل عملی طور پر نظر آ رہا ہے اور میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے جواب کو احترام دیا اور ان شاءاللہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت اور امید افزا گفتگو ہوتی ہے تو یہ مسئلے کو حل کرنے کی طرف لے جائے گی، بات چیت ہونی چاہیے، چارٹر آف ڈیمانڈ پہ نظر رکھنی چاہیے، مقررین کی تقریروں کو بہانہ بنا کر طاقت کا استعمال یہ کبھی بھی حکومتوں کا رویہ نہیں ہوا کرتا، حکومت جو ہیں وہ ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے اور جب کشمیر کے اندر تشدد ہوگا آپ بتائیں کہ اٹھتر سال تک کشمیریوں کے کاز کی وکالت کرنا اس کو آپ ایک لمحے میں دفن کردیں گے اور وہ انــڈیا جو ہر فورم پر دفاعی پوزیشن میں ہوا کرتا تھا آج وہ جارحانہ انداز اختیار کر چکا ہے، جب ہم ان کے خلاف قراردادیں پیش کرتے تھے بیلجیم میں، انسانی حقوق کے اداروں میں، اقوام متحدہ میں، آج وہ پاکستان کے خلاف قراردادیں لا رہا ہے، پوزیشن بالکل تبدیل کر دی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ پاکستان ریاست کے طرف سے جو رد عمل گیا ہے اور جو ان کو لاشیں ملی ہیں اور مزید بھی بالکل تیار کھڑے ہیں کہ کبھی کوئی حرکت ہو تو ہم ایک سخت اقدام کریں، اس سے مسئلہ کشمیر کی پوری نوعیت تبدیل ہو گئی ہے، پاکستان کا موقف بالکل برعکس چلا گیا ہے اور انــڈیا کا موقف بھی برعکس چلا گیا ہے۔ ہم جہاں اٹھتر سال تک کھڑے تھے آج ہنــدوستان وہاں کھڑے ہونے کی طرف جا رہا ہے اور جہاں ہنــدوستان اٹھتر سال تک کھڑا تھا آج ہم پاکستان اسی مقام پر جا رہے ہیں، اس میں کچھ ہمیں حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں ہر چند کہ اگر اس میں قابل اعتراض مواد ہے، ہر چند کہ اس میں اگر کشمیر یا پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی مواد ہے تب بھی وہ خواجہ آصف نہیں ہے یہاں پر، وہ یہاں پر وزیر دفاع ہیں اور وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کا رد عمل محتاط ہونا چاہیے تھا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
مولانا سے جو باتیں ہوئیں وہ قبر میں ساتھ جائیں گی (وزیراعظم)،
اجازت دیتا ہوں راز کی باتیں ایوان کو بتا دیں (فضل الرحمان)
مولانا فضل الرحمن صاحب کا وزیر اعظم شہباز شریف پر زبردست چھکا
#MaulanaOneManArmy
مولانا سے جو باتیں ہوئیں وہ قبر ��یں ساتھ جائیں گی (وزیراعظم)، اجازت دیتا ہوں راز کی باتیں ایوان کو بتا دیں (فضل الرحمان)
بھائی دل پر پھتر رکھنے کی ضرورت نہیں بات کھل کر کرے
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفورحیدری کی بی وائی سی کے ماہرنگ اور ان کے ساتھیوں کو عمر قید کی سزا کی مذمت
عمر قید کی سزا دینا انصاف کا قتل ہے ۔ مولانا عبدالغفورحیدری
ماہرنگ اور ان کی جماعت سے سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں مگر انصاف اور قانون سب کے لئے برابر ہونے چائیے ۔ مولانا عبدالغفورحیدری
بلوچ قوم کو جان بوجھ کر مزاحمت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ مولانا عبدالغفورحیدری
ہماری نظر میں ایسے عدالتی اقدامات قانون آئین اور قومی و ملکی مفادات کے خلاف ہے ۔ مولانا عبدالغفورحیدری
حکومت ملک میں مخلتف جنگی محاذ کھول کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ مولانا عبدالغفورحیدری
بلوچستان اور کے پی میں مسائل ہونے کے بعد اب کشمیری بھی زیادتیوں کے خلاف کمر بستہ ہو گئےہیں۔ مولانا عبدالغفورحیدری
جنگیں بھی ہوتیں ہیں اختلافات بھی ہوتے ہیں لیکن اس کے لئے بامقصد مذاکرات ایک ضروری عمل ہوتا ہے اس کا اہتمام ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مولانا عبدالغفورحیدری
جاری کردہ ۔ میڈیا سیل جمعیت علماء اسلام پاکستان
میں نے یہ کٹ موشن ڈیمانڈ نمبر 43، سیریل نمبر 11 پر جمع کرائی ہے، اور اس کا تعلق حکومت کی اس ناکامی سے ہے جو سود (ربا) کے خاتمے سے متعلق ہے۔
سب کو یاد ہوگا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں ہم نے یہ شق شامل کی تھی کہ ملک کی معیشت کو سود سے پاک بنایا جائے گا، اور ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جنوری 2028 تک اس پر مکمل عمل درآمد ہو جائے گا۔ لیکن جب میں بجٹ دستاویزات کا جائزہ لیتی ہوں تو اس میں شامل تمام اسکیمیں سود پر مبنی نظر آتی ہیں، کوئی بھی اسکیم سود سے پاک نہیں۔
پھر میں یہ سوال اٹھاتی ہوں کہ آئین کے آرٹیکل 38(f)، جو سود کے خاتمے سے متعلق آئینی ذمہ داری کی بات کرتا ہے، اس کے ت��اظر میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اس ایوان میں تو ہم سے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن سرکاری دستاویزات میں ان وعدوں کا کوئی عکس دکھائی نہیں دیتا۔ میرا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ ہمیں آخر مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟ میری توقع ہے کہ آئندہ سال سود سے پاک بجٹ پیش کیا جائے گا۔ اگر میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم یا دیگر منصوبوں کو دیکھوں تو ان سب میں باقاعدہ سود کی شرح درج ہے۔
جنابِ اسپیکر! اگر تنخواہ دار طبقے کی بات کی جائے تو صرف 7 فیصد اضافہ کسی صورت کافی نہیں۔ اضافہ مہنگائی کے تناسب سے ہونا چاہیے۔ حکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق افراطِ زر 11.66 فیصد ہے، لیکن تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بھی اسی طبقے پر ڈالا جا رہا ہے، اس لیے کم از کم اس اضافے پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔
ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ نااہلی اور کرپشن ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی شرائط اور مشاورت کے تحت بجٹ بناتے ہیں، لیکن کرپشن کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر حکمت�� عملی نظر نہیں آتی۔ میری نظر میں نااہلی بھی کرپشن کی ایک شکل ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ نظام میں خامیاں کہاں ہیں، وسائل کہاں ضائع ہو رہے ہیں اور اداروں کو مؤثر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے شفافیت کو فروغ دینا ہوگا اور روایتی بجٹنگ نظام سے آگے بڑھ کر ایسا جدید ماڈل اختیار کرنا ہوگا جس سے اداروں کی کارکردگی اور دیانت داری کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
اگر ایف بی آر کی بات کی جائے تو ہر سال ریونیو کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا جاتا ہے، لیکن اکثر وہ اسے حاصل نہیں کر پاتا۔ اس کے باوجود بجٹ کے بعد ادارے کے افسران کو لاکھوں روپے کے الاؤنسز دیے جاتے ہیں۔ اس تضاد کو ختم کرنے اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مالیاتی امور پر تو بہت طویل گفتگو کی جا سکتی ہے، کیونکہ پورا بجٹ ہی اس سے متعلق ہے۔ تاہم، میں بطور جمعیت علماء اسلام کی ایک ادنیٰ کارکن، خصوصاً سود کے خاتمے کے حوالے سے حکومت کو اس کے وعدے کی یاد دہانی ک��انا چاہتی ہوں۔ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت ہم سے جو وعدہ کیا گیا تھا، اس بجٹ میں اس کی عملی جھلک نظر نہیں آتی۔ لہٰذا گزارش ہے کہ ایوان کو اس معاملے پر تسلی بخش جواب دیا جائے کہ ہمیں سود سے پاک معیشت کے قیام کے لیے آخر مزید کتنا انتظار کرنا ہوگا۔رکن قومی اسمبلی جمعیۃ علماء اسلام شاہدہ اختر علی