ٹنڈوالہیار:: سندھ کا نوجوان منشیات کے دلدل میں پھنستا جا رہا ہے اور یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
آئس، کوکین، چرس، شراب اور دیگر منشیات نے نوجوان نسل کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ��ے کہ کم عمر بچے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں رہے۔
شکارپور میں 13 سالہ بچے کی شراب نوشی کے باعث موت نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
13 سال کے بچے تک شراب پہنچی کیسے؟ اسے شراب کس نے فراہم کی؟ یہ منشیات اور نشہ آور اشیا نوجوانوں تک پہنچانے والا نیٹ ورک کون چلا رہا ہے؟
حکومت کو صرف بیانات نہیں بلکہ عملی کارروائی کرنا ہوگی۔
نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ سندھ کے مستقبل کو منشیات کے حوال�� نہیں کیا جاسکتا۔
صوبائی امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی کے علامہ راشد محمود سومرو کی ٹنڈوالہیار میں پریس کانفرنس
ٹنڈو الہیار : سندھ میں امن و امان کی صورتحال عوام کے لیے سب سے بڑا سوال بن چکی ہے۔
ایک طرف ڈاکو کلچر عروج پر ہے، دوسری جانب اسٹریٹ کرائم، قبائلی لڑائیاں اور قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔
سندھ حکومت کے ہوم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ صوبے میں قبائلی تنازعات کے نتیجے میں تقریباً دس ہزار افراد قتل ہوچکے ہیں۔
دس ہزار انسان ہیں، اعداد نہیں۔
اگر عوام اپنے گھروں، بازاروں اور سڑکوں پر محفوظ نہیں تو حکومت کی اولین ذمہ داری کیا ہے؟
امن سفارش، سیاسی دباؤ اور رشوت سے نہیں بلکہ میرٹ، قانون کی بالادستی اور مضبوط پولیس نظام سے قائم ہوتا ہے۔
جب افسران کی تعیناتی میرٹ کے بجائے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی رشوت اور سفارش سے ہوگی تو پھر امن و امان کیسے بہتر ہوگا؟
سندھ کے عوام کو امن چاہیے، اعلانات نہیں۔
جےیوآئی صوبائی امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی کے ہمراہ علامہ راشد محمود سومرو کی ٹنڈوالہیار پریس کلب میں پریس کانفرنس
حکومت بجٹ میں بڑے بڑے اعداد و شمار پیش کرتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ سرکاری اسپتال میں عام مریض کو حقیقت میں کیا مل رہا ہے؟
ٹنڈوالہیار کے سول اسپتال کے حوالے سے حکومتی بجٹ میں داخل مریضوں کے ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے لیے کروڑوں روپے مختص کیے جانے کا ذکر موجود ہے، جبکہ مینو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اسپتال کے مریضوں کے لیے علاج کے ساتھ ولیمے کا کھانا بھی منظور کیا گیا ہو۔
اگر بجٹ میں کروڑوں روپے مریضوں کے کھانے کے لیے مختص ہیں تو پھر عوام کو اس رقم کے استعمال، مینو، معیار اور نگرانی کا مکمل حساب ملنا چاہیے۔
عوام کا پیسہ عوام کی امانت ہے۔
حکومت کے بجٹ میں اعداد لکھ دینا کا��ی نہیں، عوام کو ان اعداد کا عملی فائدہ بھی نظر آنا چاہیے۔
علامہ راشد محمود سومروکی ٹنڈوالہیار پریس کلب مین پریس کانفرنس
محسن نقوی کو کس نے اجازت دی ہے کہ وہ صوبوں کی تقسیم کی بات کرے کہ اگر کسی سوال کا جواب دینا ہے تو واضح جواب دیا جائے۔ وزیر کی نوکری عوام کی خدمت کے لیے ہوتی ہے۔ اگر نئے صوبے کے قیام کا اختیار سندھ اسمبلی کے پاس ہے تو سندھ اسمبلی کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ نئے صوبوں کے قیام کے حق میں ہے یا مخالفت میں۔ اگر تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی جماع��یں، صحافی، سول سوسائٹی اور عوام نئے صوبے کے مطالبے کے حق میں یا مخالفت میں ہیں تو فیصلہ عوام کی رائے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی نوکری سندھ کے عوام نے کرنی ہے، سندھ کی راہ سندھ کے عوام نے طے کرنی ہے اور سندھ کی تقدیر کے فیصلے چند افراد کی مرضی سے نہیں ہو سکتے۔ سندھ کی تقدیر کا فیصلہ سندھ کے عوام کریں گے۔
جےیوآئی سندھ ٹنڈوالہیار کانفرنس
سندھ مسائلستان بن چکا ہے، عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، علامہ راشد محمود سومرو
وزیراعلیٰ سے چپڑاسی تک پورا نظام عوام کی خدمت نہیں، عوام پر احسان کرنے کے لیے بیٹھا ہے، راشد سومرو
عوام کے جائز کام بھی منت سماجت اور رشوت کے بغیر حل نہیں ہوتے، سیکریٹری جنرل جے یو آئی سندھ
سندھ میں طبقاتی نظام تعلیم نے صوبے کا بیڑا غرق کردیا ہے، راشد سومرو
سرکاری، نجی اور او لیول اے لیول کا الگ الگ نظام تعلیم غریب کے بچے کے ساتھ ناانصافی ہے، راشد سومرو
سندھ میں تقریباً 70 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، سیکریٹری جنرل جے یو آئی سندھ
میرپورخاص بورڈ کے کنٹرولر نے نتائج میں تبدیلی اور کرپشن کا اعتراف کیا، راشد سومرو
مارک شیٹ تبدیل کرنے کے لیے پچیس پچیس کروڑ روپے رشوت لین�� کا اعتراف ہوا، راشد سومرو
سندھ کے تعلیمی بورڈز میں کرپشن کا حجم 10 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا اندازہ ہے، راشد سومرو
یہ میری رپورٹ نہیں، سندھ حکومت اور ہوم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ ہے، راشد سومرو
ٹنڈوالہیار سول اسپتال کے مریضوں کے کھانے کے لیے ڈھائی سے تین کروڑ روپے مختص ہیں، راشد سومرو
اسپتال کے مریضوں کا مینیو پڑھیں تو لگتا ہے جیسے ولیمے کا کھانا دیا جا رہا ہو، راشد سومرو
سندھ میں صحت کے شعبے کا حقیقی حال حکومتی دعووں سے مختلف ہے، سیکریٹری جنرل جے یو آئی سندھ
منشیات نے سندھ کے نوجوانوں اور نوجوان بچیوں کو دلدل میں دھکیل دیا ہے، راشد سومرو
شکارپور میں 13 سالہ بچے کی شراب نوشی سے موت بڑا سوالیہ نشان ہے، راشد سومرو
تیر13 سالہ بچے کو شراب کہاں سے ملی، کس نے دی اور اس تک کیسے پہنچی؟ راشد سومرو
سندھ میں ڈاکو کلچر، اسٹریٹ کرائم اور قبائلی لڑائیاں عروج پر ہیں، راشد سومرو
ہوم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں قبائلی لڑائیوں میں تقریباً 10 ہزار افراد قتل ہوئے، راشد سومرو
دس ہزار انسان ہیں، جانور نہیں، حکومت کو جواب دینا ہوگا، راشد سومرو
جب ایس ایس پی سفارش اور کروڑوں کی رشوت سے تعینات ہوگا تو امن کیسے قائم ہوگا؟ راشد سومرو
ایک ضلع کا ایس ایس پی تین، پانچ اور سات کروڑ روپے رشوت دے کر تعینات ہوتا ہے، راشد سومرو
ایس ایس پیز منتھلیاں دیں گے تو سندھ میں امن کیسے آئے گا؟ راشد سومرو
سندھ پبلک سروس کمیشن بااثر لوگوں کے بچوں کو نوکریاں دینے کا ذریعہ بن چکا ہے، راشد سومرو
سندھ کا پڑھا لکھا نوجوان چھ ماہ سے سراپا احتجاج ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، راشد سومرو
سندھ میں نہ انصاف، نہ تعلیم، نہ علاج، نہ امن اور نہ روزگار ہے، راشد سومرو
سندھ پاکستان کو سب سے بڑا ریونیو دینے والے صوبوں میں شامل ہے، راشد سومرو
ٹنڈوالہیار، ٹنڈو محمد خان اور بدین گیس و پٹرول کے وسائل سے مالا مال ہیں، راشد سومرو
تھرپارکر ملک کو کوئلہ دے رہا ہے�� کارونجھر قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے، راشد سومرو
کارونجھر کے گرینائٹ کی مالیت 201 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، راشد سومرو
اربوں ڈالر کے وسائل کو کروڑوں روپے میں لیز کرنے کی کوشش کی گئی، راشد سومرو
وسائل اور معدنیات کے بعد سندھ اسمبلی میں قوم پرستی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، راشد سومرو
سندھ اسمبلی میں بعض ارکان قوم پرستی میں جی ایم سید اور بشیر خان قریشی سے بھی آگے نکل گئے، راشد سومرو
سندھ کے عوام حکمرانوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں، راشد سومرو
نئے صوبوں کے مطالبات کی وجہ حکمرانوں کا طرز حکمرانی ہے، راشد سومرو
سندھ کو حقوق دیے جاتے تو آج حالات اس نہج پر نہ پہنچتے، سیکریٹر�� جنرل جے یو آئی سندھ
19، 20 اور 21 مارچ 2027ء کو سکھر میں امن عالم اجتماع ہوگا، راشد سومرو
امن عالم اجتماع سکھر میں 50 لاکھ افراد کی شرکت کا ہدف ہے، راشد سومرو
سکھر کا اجتماع سندھ، پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع ہوگا، راشد سومرو
قرآنی قوانین، ختم نبوت ﷺ اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے عوام سکھر پہنچیں گے، راشد سومرو
میرٹ، روزگار، تعلیم، صحت، امن اور وسائل کے تحفظ کے لیے سکھر میں عوامی اجتماع ہوگا، راشد سومرو
سکھر اجتماع سندھ کے عوام کو نئی قیادت اور متبادل قوت کا پلیٹ فارم دے گا، راشد سومرو
19، 20 اور 21 مارچ کا اجتماع نااہل حکمرانوں کے ت��بوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، راشد سومرو
مولانا عبدالقیوم ہالیجوی کی قیادت میں سندھ بھر میں تنظیمی دورے جاری ہیں، راشد سومرو
جمعیت علماء اسلام عوام کے مسائل کے لیے بلاخوف میدان میں موجود ہے، راشد سومرو
مولانا فضل الرحمن عوامی مسائل پر ڈنکے کی چوٹ پر بے خوف بات کر رہے ہیں، راشد سومرو
اقتدار آئے یا جائے، مولانا فضل الرحمن کا اصولی موقف تبدیل نہیں ہوتا، راشد سومرو
حکمران ملک اور عوام کے لیے سوچیں، حکومتیں عوام کی مرضی کے مطابق بنائیں، راشد سومرو
آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔
جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔
ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی م��تقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین ک��تا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔
اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔
ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔
آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔
جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزا�� بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔
ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے ا��ر جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستق��ل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔
اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔
ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔
سندھ کے ساحلی اضلاع ٹھٹھہ، سجاول اور بدین میں جےیوآئی کے عوامی اجتماعات کے مناظر اس بات کا اظہار ہیں کہ تنظیمی سرگرمیاں تیزی سے عوامی رابطہ مہم میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ امن عالم اجتماع سکھر کی تیاریوں کے سلسلے میں صوبائی قیادت کا تحصیل بہ تحصیل دورہ ہوا ۔
#جےیوآئی_سندھ_کی_آواز #امن_عالم_اجتماع_سکھر #سندھ_راشدسومرو_کے_سنگ #مستقبل_جےیوآئی_کا
#سندھ_جےیوآئی_کیساتھ
(سمیع سواتی)
ٹھٹھہ، سجاول ، تھرپارکر عمرکوٹ، میرپورخاص اور بدین میں عوامی اجتماعات کی بڑی شرکت نے امن عالم اجتماع سکھر کی تیاریوں میں کارکنان کی متحرک سرگرمیوں کو نمایاں کردیا۔ صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی اور علامہ راشد محمود سومرو کی قیادت میں مجلس عاملہ مسلسل تنظیمی دوروں میں مصروف ہے۔
#جےیوآئی_سندھ_کی_آواز #امن_عالم_اجتماع_سکھر #سندھ_راشدسومرو_کے_سنگ #مستقبل_جےیوآئی_کا
#سندھ_جےیوآئی_کیساتھ
امن عالم اجتماع سکھر 19، 20 اور 21 مارچ 2027ء کو ہوگا۔ جےیوآئی سندھ نے پچاس لاکھ افراد کی شرکت کا ہدف مقرر کیا ہے اور صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری عوامی رابطہ مہم اجتماعات کی صورت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
#جےیوآئی_سندھ_کی_آواز#امن_عالم_اجتماع_سکھر#سندھ_راشدسومرو_کے_سنگ #مستقبل_جےیوآئی_کا #سندھ_جےیوآئی_کیساتھ
(سمیع سواتی)