جب سہیل آفریدی پشاور کو بین الاقوامی شہر بننے جا رہا تھا۔ اور 200 ارب منظور کئے۔ ج�� فاٹا کی ترقی کے لئے 1000 ارب روپے کا اعلان کیا۔ اور کام بھی تیزی سے شروع ہوا۔ تو اسی وقت گورنر راج لگا دیا گیا۔
قبائیل کے نام نہاد مَشر کل سہیل آفریدی کے سامنے کہہ رہے تھے عمران خان کا شکریہ جس نے ایک قبائیلی کو وزیر اعلی بنایا آج اُسی قبائیلی کو اغوا کرنے والوں سے طاقت کی بھیک مانگ رہے ہیں موقع پرست اپنے فائیدے کے لیے قوم کا سودا کرنے والے ! یہ دیکھیں انکی حقیقت !
@DunyaNews ان میں سے یہاں بیٹھا کوئی بھی شخص عوامی یا عوام کا منتخب کردہ نہیں ہے۔ بلکہ مسلط شدہ ہیں۔ لیکن ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ ہم پر بحیثیت قوم اللہ کی طرف سے عزاب ہے۔
DSP شہید عمران الدین آخر تک دہ��تگردوں سے لڑا۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے اس بہادر بیٹے نے اپنے کیریئر میں بے شمار آپریشنز کئے۔ کئی بار جان خطرے میں ڈالی اور آج شہید ہوگیا۔ عمران الدین دہشتگردوں کے خلاف دہشت کی علامت تھا۔
شہید عمران الدین کو سب سے بڑا ایوارڈ نشان حیدر دینا چاہیے۔
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے ��رنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
ملتان میں بچے کو کچلنے وال�� توقیر کے انکاؤنٹر پر خوش مت ہوں اور نہ ہی اسلام آباد میں لائبہ خودکشی والے کیس میں مجرم کے انکاؤنٹر پر: کیونکہ یہ ان مجرمان کیساتھ آپ کے عدالتی نظام کا بھی قتل ہے کہ اب انصاف گولی سے ملے گا ، پھر جج کیوں بٹھا رکھے ہیں اتنی تنخواہ اور مراعات پر؟
لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں جب مجرم طاقتور ہو تو گولی نہیں چلتی پھر وہ جج کے بیٹے کی گاڑی سے بچیاں کچلنے والا کیس ہو یا پھر رضا ڈار کیس ہو....
نہ وہاں گولی چلی نہ میڈیا ٹرائل : صرف خاموشی
🚨وزیرستان سے معدنیات کے ٹرالے بھر بھر کر لے جائے جا رہے ہیں، افسوس دہشتگردی کا بہانہ بنا کر گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے والے معدنیات لوٹنے میں مصروف ہیں
شفیع جان اور مشال یوسفزئی دونوں کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، ایک صوبائی اسمبلی اور ایک سینیٹ کی رکن ہیں۔ شفیع جان پر ٹی وی پروگرامز میں آنےپر پابندی ہےجبکہ مشال یوسفزئی کو ٹی وی پروگرامز میں اکیلے بٹھا کر لمبی گفتگو کروائی جاتی ہے۔
ایک ہی جماعت کےدونوں ارکان کےلیے الگ الگ معیار کیوں؟
دنیائے صحافت کا ایک بڑا نام "Christiane Amanpour" کل جب 43 سال بعد CNN سے الگ ہونے لگیں تو ایک ہی بات کی کہ:
"Remember: always be truthful, not neutral"
اب سمجھ نہیں آ رہی کہ اس صحافی کو پاکستانی پٹواری کہیں گے یا یوتھیا یا لفافا صحافی؟
جب ظلم ہو رہا اور سچ آپ کے سامنے ہو مگر آپ طاقت ور کیساتھ کھڑے ہو جائیں تو اُسے صحافت نہیں کہتے : صحافت میں نیوٹرل نام کی چیز نہیں ہوتی بلکہ "سچ" کا ساتھ دینا ہوتا ہے.
ہم جلوس نکالتے ہیں یہ سیدھی سر میں گولیاں مارتے ہیں۔ یہ قاتلوں کی حکومت ہے۔ ٹی ایل پی کے کارکنان کو مارا گیا، 120 سے زائد کشمیریوں کو مارا گیا، یہ قاتل ہیں۔ فرانس میں مظاہرے ہوئے کسی نے گولی نہیں چلائی۔ اس حکومت کے خلاف نہ اٹھنا جرم ہے، محمود اچکزئی
آج پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج کے خلاف اور وزیراعلیٰ و سپیکر کے اغوا کے خلاف پٹیشنز میں ججز نے فوری کاروائی شروع کرنے کی بجائے 20 اور 10 دن کے نوٹس دے دئیے
26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہائی کورٹس مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں آ چکی ہیں
سب کام چھوڑ کر جو کیسز سننے چاہییں ان میں اتنا نان سیریس کنڈکٹ ظاہر کرتا ہے کہ ججز کو کہاں سے کنٹرول کیا جا رہا ہے
The Chief Executive of a provincial government and the Speaker of the Assembly were abducted from their official residence by the regime which has made a mockery of our country. The entire nation will be watching Justices Arshad Ali and Farah Jamshed of the Peshawar High Court. They must ensure the recovery of CM Sohail Afridi and Speaker Babar Saleem Swati and hold all those responsible for their abduction accountable.