ہماری زمین سے تیل اور گیس دریافت ہو گئی لیکن بااثر لوگوں نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے ۔۔۔۔ اٹک کے گاؤں جنڈ کے غریب شخص کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی حیران کن کہانی ۔۔۔ جنڈ ضلع اٹک کے رہائشی تنویر گل کے بقول ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے علاقے میں گیس کمپنی پی پی ایل کھدائی کرنے آئی تو ہماری ذاتی ملکیتی زمین سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ۔ علاقہ کے کچھ لوگوں نے ہم سے کوڑیوں کے مول زمین لینا چاہی مگر ہم نے انکار کردیا تو پھر علاقہ پٹواری جاوید اختر نے کچھ غنڈوں اور پولیس کے ساتھ ملکر ہماری زمین پر جعلی کاغذات اور علاقہ پولیس کی مدد سے قبضہ کر لیا ، اس ناانصافی پر میں نے اسسٹنٹ کمشنر اٹک کو درخواست دی انہوں نے جانچ پڑتال کروائی اور اپنی رپورٹ میں مخالفین کے قبضے کو غیر قانونی قرار دے دیا ساتھ ہی پولیس کو ہدایت کی کہ اصل مالکان کو قبضہ واپس دلایا جائے لیکن پولیس کی بااثر لوگوں سے ملی بھگت کی وجہ سے کوئی کارروائی نہ ہوئی الٹا مجھ پر مختلف نوعیت کے چار مقدمات مختلف تھانوں میں درج کرکے مجھے گرفتار کر لیا گیا ۔ 6 دن حراست میں رکھا گیا اس دوران تش۔دد کیا گیا اور زمین کی ملکیت سےدستبردار ہونے اور اس پر قبضے کا کسی فور�� پر ذکر نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگرمیں نے انکار کردیا تو پولیس نے جعلی مقدمات میں چالان کرکے جیل بھیج دیا ۔ تنویر گل کے بقول میرے بوڑھے والدین اور بیوی نے بھاگ دوڑ کرکے بڑی مشکل سے میری ضمانت کروائی ۔۔۔۔
تنویر گل نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے ، انکی اہلیہ نے وزیراعلیٰ صاحبہ سے اپیل میں کہا ہے کہ یا تو ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ، ہمارا حق ہمیں دلایا جائے اور ہماری جان کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور یا پھر ہمیں صاف انکار کردیا جائے تاکہ ہم پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کی طرف رخ کر جائیں ۔