چیئرمین عمران خان نے گزشتہ ہفتے اپنے خطاب میں پیش گوئی کی تھی کہ؛
”مجھے گرفتار کر لیں پھر بھی تحریک انصاف کا امیدوار جیتے گا“
خیبرپختونخوا میں آج کا بلدیاتی انتخاب ان کے مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا اور یہ ثابت کرتا ہے کہ رب العزت کے بعد طاقت کا حقیقی سرچشمہ عوام ہی ہیں۔
#PTISMT
مجھے اب یہ شمار کرنے میں بھی دِقّت کا سامنا ہے کہ عدالت کیجانب سے گرفتاریوں کی معطّلی کے بعد حکّام نے شہریار آفریدی کو کتنی مرتبہ گرفتار کیا ہے۔
پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ انکے نمائندوں کو محض اس لئے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف سے ناطہ توڑنے یا میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکاری ہیں، کس سطح کی بےانصافی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عوام اس صریح ظلم و فسطائیّت کا انتخاب کے روز (بھرپور) جواب دیں گے، ان شاء اللہ
The blatant use of collective punishment to enforce reign of terror continues in Pakistan today.
This time the victim is Farrukh Afridi, whose only crime is being a brother of PTI’s undaunted leader Shehryar Afridi. Farrukh was abducted from his residence last night, and was taken to an undisclosed location, his whereabouts still unknown.
Meanwhile, Shehryar Afridi is slapped with another 3 MPO case by DC Rawalpindi.
In an increasingly desperate bid to suppress PTI, this regime is stooping to new abysmal lows each day, and there appears to be no respite in sight as law of the jungle prevails in the country.
I was sent a box of shoes from someone I know, it was delivered to my house by their driver, two days later the police turned up at the drivers house, harassing and threatening his poor family and forcing him to say that he came to deliver a box of drugs at my place.
This is what happens when criminals run a country. Not only do they post crooks who are incompetent to important positions, but they also try convince the nation that everyone is as crooked as them.
It shows the desperation of this criminal enterprise, just to get me disqualified or jailed, they are willing to fall to great depths.
عمران خان کے وکیل انتظار حسین: ہمیں کاغذات تک نہیں دکھائے جا رہے کیا ایسے سماعت چلے گی؟
جج ہمایوں دلاور: Shut Up
انتظار پنجوتہ: You Shut up
ایتھے رکھ او ملنگی۔
انشاءاللہ جب پاکستان تحریک انصاف کو پھر سے اقتدار میسّر آئے گا تو سیرتِ رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق کو بھی نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جائے گا۔
تاکہ ہر شہری کو یہ ادراک ہو کہ حقیقی آزادی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب شہری آئین کے فراہم کردہ حقوق سے آگاہ اور اپنی جانوں کے عوض ان کے دفاع پر آمادہ و تیار ہوں۔
میں نے ۹ مئی سے بہت پہلے گزشتہ سردیوں میں یہ ویڈیو ریکارڈ کروائی۔
اور مجھے ذرا سا بھی تعجب نہیں کہ تب سے سب کچھ اسی سکرپٹ کے مطابق ہورہا ہے جس کا ذکر میں نے اس ویڈیو میں ک��ا۔
آج رات پونے دس (9:45pm) بجے میں اپنے خطاب میں اسی سازش سے پردہ اٹھاؤں گا۔
اسرائیل نے بطور قابض قوت مقبوضہ علاقے میں اہلِ فلسطین کے خلاف، بھارت کیطرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بدترین ریکارڈ کے ساتھ جس دیدہ دلیری سے پاکستان کو نشانہ بنانے کی جسارت کی ہے وہ ہر لحاظ سے شرمناک ہے۔ یونیورسل پِری آڈک ریویوز (UPRs) اقوامِ متحدہ کے نظمِ کار کا بنیادی جزو ہیں اور آج سے پہلے کسی ریاست نے پاکستان کو اس گھناؤنے انداز میں ہدف بنانے کی جرات نہیں کی جس کی جسارت اسرائیل نے کی ہے۔ (اسرائیل کی یہ حرکت) نہایت قابلِ مذمت ہے۔
اسرائیل اہلِ فلسطین کا قتلِ عام جاری رکھے ہوئے ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہر قسم کے عالمی قوانین ��ور (اقوام و ریاست کیلئے خاص) آداب و اطوار سے ماوراء (بے نیاز) ایک جارح/بدمعاش ریاست ہے۔
ہمارے لئے اس میں مقامِ افسوس یہ ہے کہ اس سے پاکستان کو اندرونی و بیرونی طور پر تباہی کے سپرد کرتی موجودہ بدعنوان اور فسطائی سرکار کے ہاتھوں ہماری سفارتکاری کے پورے ڈھانچے کا انہدام ہی ظاہر نہیں ہوتا بلکہ (بطور قوم) جنگل کے قانون، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول ہی کارفرما رہتا ہے، کیجانب ہمارا زوال بھی عیاں ہوتا ہے۔
توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے جج کے اس فیصلے سے کہ معاملہ قابلِ سماعت (Maintainable) تھا، تعصّب اور بدنیّتی واضح ہیں کہ الزام میرے سر تھونپا جائے اور (نہایت عجلت میں تقاضہ ہائے عدل سے روگردانی کرتے ہوئے کئے گئے ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے) مجھے خطاوار قرار دیا جائے۔
اوّل تو ہائیکورٹ کی جانب سے اس اعلان کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہماری نظرِ ثانی کی استدعا منظور کرلی گئی ہے، کے ذریعے میرے وکلاء کو گمراہ کیا گیا مگر جب تحریری حکمنامہ آیا تو معاملہ ازسرِنو کارروائی/فیصلے کیلئے پھر سے انہی جج صاحب کو بھجوا دیا گیا جو پہلے ہی ہمارے خلاف فیصلے کیصورت میں اپنی سوچ واضح کرچکے تھے۔
دوم: میری درخواست پر فیصلے کیلئے ٹرائل کورٹ کو 7 یوم کی مہلت دی گئی اور میرے وکیل نے معاملے کو پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی مگر اس حقیقت کے باوجود کہ (معاملے پر ہائیکورٹ کے اس حکمنامے کو) سپریم کورٹ کے روبرو چیلنج کیا جاچکا ہے جہاں اسے نمبر بھی لگ چکا ہے اور 7 روز کی مہلت ختم ہونے سے قبل اس کی (سپریم کورٹ میں) سماعت کے امکانات بھی روشن ہیں، میرے وکیل کو سماعت کا موقع (حق) دیے بغیر نہایت عجلت میں 3 ہی روز میں فیصلہ صادر کر دیا گیا۔
اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ تو یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ کے ان جج صاحب کیخلاف تعصّب کی بنیاد پر (ہماری جانب سے) دائر کی گئی درخواست پر غور نہ ہی کوئی فیصلہ کیا گیا بلکہ فی الواقع میری قانونی ٹیم کو سماعت کا موقع دیے بغیر ہی تمام معاملات نمٹائے جارہے ہیں جو کہ کسی بھی مقدمے پر منصفانہ کارروائی (Fair Trial) اور فطری انصاف (Natural Justice) کے اصولوں سے صریح انحراف ہے۔
ان سب (واقعات و حقائق) سے میرے خلاف تعصّب اور جانبداریت کا ایک واضح سلسلہ کھل کر سامنے آتا ہے جس کی بنیادوں میں یہ ہ��ف پوشیدہ ہے کہ مجھے نااہل قرار دیا جائے اور ملکی سیاست سے باہر رکھا جائے۔
جس انداز میں پولیس ملک بھر میں ہمارے ایم پی ایز کے گھر لوٹ رہی ہے وہ نہایت شرمناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پختون یار کی رہائشگاہ کو توڑ پھوڑ سے پوری طرح غارت کردیا گیا اور وہاں سے 40 لاکھ روپے مالیت کا سونا چُرا لیا گیا جبکہ بابر سلیم کے دو گھروں پر پولیس نے 9 مرتبہ یلغار کی۔
چنانچہ وہ لوگ جنہیں اس ملک کے عوام اپنے جان و مال کے تحفّظ کیلئے تنخواہیں دیتے ہیں وہی ان پر حملے کرنے، انہیں ہراساں کرنے اور لوٹنے میں مصروف ہیں۔
اس سب کے سامنے تو آئین و قانون سے محروم زیادہ تر ممالک (بنانا ریپبلکس) بھی قابلِ احترام دکھائی دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کل اپنے تفصیلی فیصلے میں میری 9 مئی کی گرفتاری کو مکمل طور پر غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیا۔
میری گرفتاری کے بعد ملک بھر میں کئے جانے والے احتجاج کی نوبت محض اس لئے آئی کہ ہائیکورٹ کے اندر سے مجھے اغواء کرکے ایک غیرقانونی اور غیرآئینی کام کیا گیا۔
سوال جس کا جواب درکار ہے وہ یہ کہ مجھے غیرقانونی طور پر گرفتار کرنے پر کیا کسی کا محاسبہ کیا گیا؟ ایک غیرآئینی کام کرنے پر کیا ڈی جی نیب یا وزیرداخلہ سے باز پرس کی گئی؟
اس کے برعکس جب لوگ میرے اغواء کےخلاف نکلے اور انہوں نے پرامن احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کیا تو اسے میری جماعت کیخلاف کریک ڈاؤن کے ایک جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ محض اڑتالیس گھنٹوں میں میرے 10 ہزار سے زائد کارکنان اور ذمہ داران کو اٹھا لیا گیا اور ان پر حملے کئے گئے۔
چنانچہ میں پھر سے کہتا ہوں کہ جب بھی (اس سارے معاملے کی) آزادانہ تحقیق کی گئی میں ثابت کروں گا کہ میری گرفتاری سے جلاؤ گھیراؤ اور بعدازاں کریک ڈاؤن تک سب محض مجھے اور میری جماعت کو انتخابات سے باہر رکھنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔
Yesterday in its detailed verdict, the Supreme Court declared my arrest on 9th May completely unlawful and unconstitutional.
The protests that happened across the country post my arrest only took place after an illegal and unconstitutional act was committed by abducting me from the precincts of the High Court.
The question that needs to be asked is, has anyone been held accountable for illegally arresting me? Was DG NAB or Interior Minister questioned for commiting an unconstitutional act?
Instead, in reaction when people came out and exercised their constitutional right to protest peacefully against my abduction, it was used as a pretext to start a crackdown against my party.
Within 48 hours, over 10,000 of my workers and leaders were picked up and attacked.
Therefore, I reiterate, whenever any independent inquiry takes place, I will prove that from my arrest to the arson and then the crackdown, everything was preplanned only to keep me and my party out of the elections.
شمال میں جھیل اور جنوب میں کوہِ نمک کے قدیم سلسلے کے ساتھ میانوالی میں نمل یونیورسٹی کی کرکٹ گراؤنڈ پاکستان کی خوبصورت ترین (کرکٹ) گراؤنڈز میں سے ایک بنے گی،انشاءاللہ!