بلاول نے کشمیریوں سے یہ کہہ کر ووٹ مانگا کہ کشمیری ہمیں ووٹ دیں، ہم قائد عوام(بھٹو) کے "روٹی، کپڑا اور مکان" کے نعرے کو پورا کرینگے۔۔ بھٹو کے اس نعرے کو 57 سال ہوگئے۔ انہوں نے 1969-70 میں یہ نعرہ لگایا تھا۔۔57، 58 سال ہوگئے اور اب اۤ کر بلاول صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہم قائدِ عوام کا وعدہ پورا کرینگے۔۔۔اۤج تک کیوں نہیں پورا کیا؟:اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1
اگر کسی کی کرپشن بے نقاب ہوگئی ہے تو اسکی فائل "ڈیل" کرنے کیلئے استعمال ہوگی۔۔کرپشن کی فائل سے اس بندے کے ساتھ ڈیل کرنا اۤسان رہے گا۔ اس کو کہیں گے کہ یہ تمہاری فائل ہے یا اسے پبلک کے سامنے کھول دیتے ہیں یا پھر یہ کر لو۔۔اس طرح سے ہمارے سیاستدان کنٹرول ہو رہے ہیں: اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1@ameerabbas84
پیپلزپارٹی اور ن لیگ، جنہوں نے 2 دن میں ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑ دیئے کہ خیبرپختونخوا والے کیسے بلیو پاسپورٹ لے سکتے ہیں تو پتہ چلا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں پہلے ہی 70 کی دہائی سے یہ(تاحیات سرکاری پاسپورٹ کی سہولت) چل رہی ہے۔۔تو وہاں پر سرکاری پاسپورٹ جائز ہے، کے پی میں ناجائز ہے؟: اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1
40سال سے ارکان کے استحقاق قانون میں تبدیلی نہیں ہوئی، پنجاب اور سندھ کی طرح خیبر پختون خوا میں قانون میں تبدیلی کی، زیادہ کچھ نہیں ڈالا، میڈیا پر قانون کو لے کر پراپیگنڈا کیا گیا۔ رکن نواز لیگ ثوبیہ شاہد کی پختون خوا قانون کی حمایت
بڑے آدمی کا بچہ کسی کیس میں پھنس جائے تو متعلقہ SHO معطل ہو جاتا ہے، ماڑے بندے کا سیدھا سیدھا فوری مقابلہ ہو جاتا ہے۔ اگر مقابلہ ہی قانون اور بہترین طریقہ ہے تو اسے لاہور کیس پر بھی فوری apply کیا جائے
عالیہ حمزہ کی بیٹیاں اسی عورت کی حکومت میں دو روز پہلے سالگرہ کا کیک لے کر گئیں نہیں مل سکیں، صنم جاوید کے بچے نہیں مل پاتے ، خان کے بیٹوں سے بات نہیں ہوتی اور ان کی بیٹی کانفرنس روم میں ملتی تھی نواز شریف سے جامی ، شہزاد اقبال اور دیگر مل کر آنے والے بتاتے ہیں کہ درجنوں ملاقاتی ہوتے تھے ۔ باتیں چیک کریں ان کی
حمیدہ بی بی 30 بچوں کو پڑھا کر ماہانہ 9 سے 10 ہزار کماتی تھی۔ 30 کے قریب بچے پڑھتے تھے جو کہ 200 سے 400 روپے ماہانہ تک فیس دیتے، حمیدہ بی بی کا شوہر محلے میں ہی پھل کی ریڑھی لگاتا ہے جو 300 سے 400 روزنامہ کماتا تھا۔ حادثے سے ہٹ کر یہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں لوگ زندگی کی سانسیں پوری کرنے کے لیے کیا کیا جتن کر رہے ہیں۔ حکومت سے پوچھیں وہ کہتے ہیں خریدا ہے اربوں کا جہاز بھئی۔۔۔ صحافی محمد عمیر
@MohUmair87
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
مریم نواز کی آج کی دکھ بھری تقریر سنیں اور کوٹ لکھپت میں نواز شریف کا کمرہ ( سیل نہیں کمرہ ) دیکھیں ۔ یہ حکمران سمجھتے ہیں لوگ تین سال پہلے کی باتیں بھی بھول گئے ؟
یہ اس عوام کی صورتحال ہے جنہوں نے نئے مالی سال میں 15264 ارب کے ٹیکسز دینے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات پر 1727 ارب کی لیوی بھرنا ہے، بجلی کے بھاری بلز بھرنا ہیں تاکہ آئی پی پیز کو ہزاروں ارب بھرے جاسکیں۔۔10 ارب سے بھی مہنگے گلف اسٹریم طیارے کے اخراجات بھی انہوں نے پورے کرنے ہیں۔۔اراکین اسمبلی/وزرا اور اعلی عدلیہ کے ججز کی اربوں کی تنخواہوں اور مراعات کا انتظام بھی انہوں نے ہی کرنا ہے۔۔۔۔۔اپنے حکمرانوں کی ذاتی تشہیر کیلئے اربوں کا پیسہ بھی انہی کا لگنا ہے مگر انکی حالت زار چیک کریں۔۔۔پورے ملک کی اشرافیہ کو پالنے والوں میں سے ایک غریب باپ اپنے جوان بیٹے کی لاش بغیر کفن تدفین کرنے قبرستان پہنچ گیا
اگرچہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں عوام کو اتنا لتاڑا کہ پورے مالی سال کی لیوی کا ہدف سال ختم ہونے سے پہلے ہی حاصل کرلیا تھا(بقول اکانومی رپورٹرز) یعنی حکومت کے پاس گنجائش تھی کہ جون کے مہینے میں ��س لیوی کو صفر یا کم از کم سنگل ڈیجیٹ تک لاکر عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ریلیف دیا جا سکتا تھا کیونکہ ہدف پورا تھا اور اۤئی ایم ایف کے اعتراض والی منطق بھی فارغ تھی مگر انہوں نے الٹ کیا ہے اور پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر لیوی کو مزید بڑھا دیا ہے۔۔اب دونوں پراڈکٹس پر مجموعی پیٹرولیم لیوی بڑھا کر 146.18 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے جبکہ کلائمیٹ سپورٹ کے نام پر دونوں پراڈکٹس پر 5 روپے مجموعی بٹورے جارہے ہیں یعنی ہدف لگ بھگ پورا ہونے کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل پر دونوں لیویز(پیٹرولیم جمع کلائمیٹ سپورٹ) کی مد میں اسوقت بھی کل 151.18 روپے فی لیٹر عوام سے نکلوائے جا رہے ہیں۔۔اس ظلم و زیادتی پر حکومت کی قصیدہ گوئی تو بنتی ہے
کراچی : رینجرز ہیڈکوارٹر گلستانِ جوہر پر دھماکہ و فائرنگ کے واقعہ بابت اطلاع
مورخہ 27 جون 2026ء بوقت 2000 بجے مقام کشور ہائٹس کے ساتھ واقع رینجرز ہیڈکوارٹر، گلستانِ جوہر بلاک 6، بالمقابل سنڈے بازار گراؤنڈ میں ایک زور دار دھماکہ ہوا
دھماکے کی شدت کے باعث قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹنے اور اطراف میں موجود درختوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے
"سوال سادہ سا ہے: جب عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 28 فروری پر واپس چلی گئی ہیں، تو پاکستان میں پیٹرول 252 روپے پر واپس کیوں نہیں آیا؟ چالیس پچاس روپے کا منافع کون کھا رہا ہے؟"اسد اللہ خان
@AUKhanOfficial1
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan