پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے سکتی ہے ، پنجاب حکومت خزانے سے 11 ارب روپے بلوچستان کو دے سکتی ہے، پنجاب کے خزانے سے گلگت کو موبائل کلینک گفٹ کر سکتی ہے
مگر پنجاب میں اساتذہ کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں.
سوال کرو تو کہتے ہیں تم لوگ پراپیگینڈا کرتے ہو 😊
خدا کا واسطہ ہے میدانی اور پہاڑی علاقوں میں خوبصورتی کے نام پر سڑکوں کے بیچ میں پام کے درخت لگانا بند کریں۔
یہ درخت اس مٹی کے لئے ہیں نہ اس موسم کے لئے۔۔۔ سکھ چین ، نیم، جامن، توت، آم، کھجی، شیشم، برگد وغیرہ اس ماحول دشمن اور بھدے درخت سے کئی گناہ فائدہ مند اور خوبصورت درخت ہیں۔
اس ملک میں پنجاب سے یوں انصاف ہوتا ہے کہ کشمیر کے دریاؤں سے بننے والی بجلی کشمیریوں کو تین روپے یونٹ اور پنجابیوں کو 60سے 70 روپے
اور پنجابیوں کی گندم کشمیریوں کو 1000 کی اور پنجابیوں کو 4000 کی ۔
پھر بھی بضد ہیں کہ پنجاب ظلم کرتا ہے چھوٹے صوبوں پر
اس بھائی کو 15300 روپے بل آیا ہے۔۔کلمے کی قسم کھا کر مجبور بے بس ہوکر کہہ رہا ہے گنجائش نہیں ہے جمع کروانے کی۔
سر @CMShehbaz آپکے وزرا کا بجلی گیس پٹرول فری ہونے کے باوجود چار لاکھ میں گزارا نہیں ہوتا۔۔بتائیں یہ غریب کدھر جائیں۔؟
کیا انکو زندہ رہنے کا حق ہے یا مر جائیں۔؟
دنیا بھر میں کرسمس کے تہوار پر مسیحی برادری ہر سال 1000 ارب ڈالر خرچ کرتی ہے۔ نیو ائیر نائٹ پر 500 ارب ڈالر خرچ ہوتے۔ اس میں سے بیشتر رقم کسی کے کام نہیں آتی۔
عیدالاضحی پر ٹوٹل 100 ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ کروڑوں لوگوں کے پیٹ میں کھانا جاتا ہے لیکن ملحد کا اعتراض صرف قربانی پر ہے
چار سال سے بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جس کا آج بھی سرچارج بلوں میں لگا ہوا ہے، اور جس پر ہر سال ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، اس پر پلاننگ کمیشن کے اجلاس میں چئیرمین نیسپاک نے جو بریفنگ دی وہ "چیٹ جی بی ٹی" سے لکھوائی گئی تھی اور جس پر جناب پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال صاحب نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کروڑوں روپے میں تنخواہیں لے کر پندرہ ارب روپے کے پراجیکٹ کو سوا چھ سو ارب روپے میں مکمل کروانے والے نیسپاک کے حرام خوروں کا بھی کبھی احتساب ہو گا؟؟؟
پلاننگ کمیشن میں بیٹھے غدار، جنہوں نے بھارت کی سہولت کاری کرتے ہوئے اس منصوبے میں چار سالتاخیر کی، ان پر بات کرنے سے مسلم لیگ ن کو آگ لگ جاتی ہے۔
جب اس پراجیکٹ کی قوم کو ضرورت پڑی تو یہ بند پڑا ہے اور کوئی اس کا جواب دینے کو تیار نہیں۔
پاکستان بورے والا سے تعلق رکھنے والا نوجوان لڑکا محمد عبداللہ جوکہ یہاں ڈنمارک کی ایک ٹاپ یونیورسٹی DTU سے اسکالر شپ پر PHD کر رہا تھا 24 مئی کو ڈنمارک کے شہر Roskilde میں ڈوب کر وفات پا گیا۔ اپنے گھر والوں کا اکلوتا کمانے والا تھا۔
اسکی ڈیڈ باڈی وآپس بھیجنے کے لئے تقریباً 40000 ڈینش کراؤن (1750000pkr)کا خرچہ آنا ہے جو ہم یہاں دوست یار مل کر اکھٹا کر رہے ہیں تاکہ اسکے گھر والے پاکستان میں اسکی تدفین کر سکیں۔
جب @Official_PIA ڈنمارک سے چلتی تھی تب ڈیڈ باڈی مفت پاکستان جاتی تھی اور ساتھ فیملی کا بندہ بھی مفت تھا۔ غریب لوگوں کے لئے بہت بڑی سہولت تھی۔ @KhawajaMAsif صاحب ہی کچھ مدد کر سکتے ہیں تاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کو آسانی ہو۔ @RShahzaddk
لنکڈ ان پروفائل: https://t.co/dJuO2DlNeJ
سرگودھا 9/10 سال کی معصوم کرسچین بچی کو بااثر عمر رسیدہ شخص نے درندگی کا نشانہ بنا ڈالا بااثر لوگ صلح کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں مریم نواز شریف وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لینے کی درخواست ھے۔
لعنت ہو آپ پر۔۔۔
لعنت ہو آپ کے وزیر اعظم پر
لعنت ہو آپ کی پوری حکومت پر۔۔۔۔
بے شرمو تجربہ کاری کا دھوکہ دے کر حکومت لی اور اب مافیاز کے ٹائوٹ بن کر عوام کا خون نچوڑ رہے ہو اور مافیا کو کھلا رہے۔۔۔
اور بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے عوام دوست فیصلے۔۔۔۔۔
لعنت تہانوں جمن آلیاں تے وی
شاہ لطیف ٹاون میں ڈکیٹی کے دوران مزحمت پر گولیاں مار کر شاہ زیب عباسی نامی نوجوان کو قتل کر نے والے ڈکیٹوں کی گرفتاری کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔ یہ ان چار ڈکیٹوں کی تصاویر ہیں اوپر والی تصاویر ان ڈکیٹوں کی ہیں جنہوں نے شاہ زیب عباسی کو قتل کیا اور پنک اور پرپل کلر والے دو ڈکیٹوں نے اج کے دن شاہ لطیف ٹاون میں ڈکیٹی کی ہے۔
ویسے تو مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ NCCIA صرف سیاسی انتقام، ذاتی انتقام یا مختلف شخصیات کی ایما پر انتقامی مقدمات درج کرنے والا ادارہ ہے، اسکا عوام کے حقوق کیلئے کام کرنے سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن پھر بھی اپنے حصے کی اذان دینے کے پیش نظر عوام NCCIA اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گلوکارہ محترمہ حدیقہ کیانی صاحبہ سمیت عورتوں کے کردار بارے فیس بک پر یہ بیہودہ اور گھٹیا پوسٹ لکھنے والے ریات اللہ فاروقی نامی شخص اور اس پوسٹ کو شیئر کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے۔
@NCCIAOFFICIAL@MohsinnaqviC42