عبادت گذار روزہ دار مگر؟
امام ابو العالیہ التابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں!
روزہ دار ہمیشہ عبادت گذار شمار ہوتا ہ�� چاہے وہ ب��تر پر ہی کیوں نہ ہو بشرطیکہ کسی کی غیبت نہ کرے.
[ مصنف عبدالرزاق ٧٨٩٥ ]
رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠(۴۱)
Our Lord, forgive me and my parents and the believers the Day the account is established."
- Surah Ibrahim 41
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴)
"Our Lord, grant us from among our wives and offspring comfort to our eyes1 and make us a leader [i.e., example] for the righteous."
- Surah Al-Furqan l 74
رَبَّنَاۤ اٰ��ِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱)
"Our Lord, give us in this world [that which is] good and in the Hereafter [that which is] good and protect us from the punishment of the Fire."
- Surah Al-Baqarah l 201
میں نے ایسا یقین کبھی نہیں دیکھا جو شک جیسا ہو، سوائےموت کے، کہ جس پر لوگ یقین تو پورا رکھتے ہیں لیکن اس کی تیاری بالکل نہیں کرتے۔
الشیخ عمر بن عبدالعزیز رحمه الله
(القرطبي: 10/64)
اللہ ہمیں اپنا ساتھ نصیب کرے!
اللہ ہی کے بھروسے پر ہر مشکل آسان ہوتی ہے، ہر تنگی آسانی میں بدلتی ہے، ہر دوری قرب�� کا روپ دھارتی ہے، ہر غم اور دکھ زائل ہوتاہے۔ پس اللہ کا ساتھ حاصل ہو تو کوئی دُکھ دُکھ نہیں اور کوئی غم غم نہیں۔
امام ابن القيم رحمه الله
(الداء والد��اء : ٤٣٦)
”تم میں سے ایک شخص اپنے ساتھی کو اپنے رویے کے بوجھ تلے کچل کر رکھ دیتا ہے، طنز و تعریض کے نشتروں سے گھائل کر دیتا ہے، لہجے کی تلخی سے سے جلا کر راکھ کر دیتا ہے ؛ پھر کہتا ہے میں تو صرف مذاق کر رہا تھا!“
الشیخ خالد بن صفوان رحمہ اللہ
أدب الدنيا والدين للماوردي : ٣١٨
اگر تم جنت میں جاؤ اور مجھے وہاں نہ پاؤ تو میرے بارے میں اللہ سے پوچھنا اور کہنا : یا رب! تیرا فلاں بندہ ہمیں تیری یاد دلایا کرتا تھا۔
الحافظ ابن الجوزي رحمه الله
ذيل طبقات الحنابلة : 481/2
انسان کو اس دنیا میں بھیجنے کا کوئی مقصد ہے.اور وہ صرف نماز، روز، زکوٰۃ اور حج نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہر خیر کا کام کرنا، صفائی کا خیال رکھنا، ہمسائیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک، لوگوں کی مدد کرنا، اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھیجا ہے
آج ہم اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اُس نے ہمیں کتنے وسائل سے نوازا ہے لیکن ہم پھر بھی مستقل ڈپریشن اور اقتصادی بحران کا شکار ہیں. اُس کی یہی وجہ ہے کہ ہم بے ایمان بنے ہوئے اور جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔
- اُستاد کاشف نسیم دلکشا