@AUKhanOfficial1 سر ایس ایس پی حیدرآباد کی رپورٹ عدالت میں جمع ہے اور خود ایس پی نے عدالت پورا واقعہ رپورٹ میں بھی اور زبانی بھی بتایا ہے یہ حلف نامے سبکو پتہ ہے زبردستی پولیس لکھواتی ہے
116 دن گزر گئے معصوم #علی_شیر اور بزرگ خاتون #نسرین_اختر نامعلوم ریاستی قید سے رہا کب ہونگے اختیارات کے ناجائز استعمال جھوٹے مقدمات دباؤ اور انتقامی کاروائیوں کے الزامات درست ہیں تو پھر شفاف تحقیقات کیوں نہیں؟
https://t.co/Q0bVPYudjG
فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب اس ننھے کیڈٹ کی ماں کی انتہائی دکھ اور غمزدہ فریاد کو سنیں ظالموں نے اپنی طاقت اور اختیارات کا بدترین مجریمانہ استعمال کیا ہے جنرل فیض حمید کے منصف سندھ میں بھی بھیجیں بڑی تباہی مچائی ہوئی ہے پاکستانیوں کا جینا محال کیا ہوا ہے
Sir @MuradAliShahPPP@BBhuttoZardari ..!
Kindly look into this matter. This family has been knocking on every door in search of justice for the past four months, yet their pleas remain unheard.
They urgently need your attention and intervention.
یہ بہت بڑا ظلم اور بدترین انتقامی کاروائی ہے طاقت کا مجریمانہ استعمال ہے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر مظلوم ماں کی اس آہ و پکار اور آنسوؤں بھری فریاد کا فوری نوٹس لیں پورے خاندان کو ہی بدترین انتقام سے تباہ و برباد کرنے کا انتہائی شرمناک کرمنل عمل ہے سخت ترین کاروائی کریں
اس بچے اور اس کی بوڑھی نانی کے پولیس کے ہاتھوں اغوا کو اب 115دن ہو گئے۔ ایس ایس پی حیدآباد نے مکمل انکوائری کے بعد تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں تصدیق کی گئی کہ انسپیکٹر سعید نے ان دونوں کو زبردستی بس سے اتار کے اغوا کیا اور جبری طور پہ لاپتہ کر دیا۔
سندھ ہائیکورٹ کو دو رکنی بنچ جسٹس عمر حسن اور جسٹس محمد عثمان علی ہادی حقائق سامنے آنے کے باوجود لمبی لمبی تاریخیں دے رہے ہیں، آخری سماعت پہ ڈیڑھ مہینے کی تاریخ ڈال دی گئی ہے، اگر جج کا اپنا بچہ اغوا ہوتا تو بھی عدالت کا یہی رویہ ہوتا؟
بوڑھی عورت اور تیرہ سالہ بچے کا قصور یہ ہے کہ بچے کا باپ فلک شیر ایک مقامی صحافی ہے جس نے مقامی طاقتوروں کے سکینڈل بے نقاب کیے اور انہیں قانون کا سامناکرنا پڑا۔
بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ صاحب آپ کو خدا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا کہ ایک ماں 115 دن سے دن رات آنسو بہا رہی ہے کہ جس کے سگا بیٹا اور سگی ماں کا کچھ پتہ نہیں۔
@BBhuttoZardari@MuradAliShahPPP
@WTNSindhi سنڌ جو جيل کاتو ٻڌائي ته ميرپورخاص جيل جي اصل نگراني ڪنهن جي هٿ ۾ آهي؟ جيل انچارج جو به انچارج ڪير آهي؟ ۽ جيڪڏهن قيدين جي جان ۽ مال محفوظ نه آهن ته پوءِ هن رت رڱيل نظام جي ذميواري ڪير قبول ڪندو؟
@WTNSindhi آخر جيل جي چارديواريءَ پٺيان ��ا ٿي رهيو آهي؟ اتي قانون جي حڪمراني آهي يا طاقت جو راڄ؟ “سڌارن” جي نالي ۾ آخر هلي ڇا رهيو آهي؟ جيل کي مقتل گاهه بڻائڻ جي اجازت ۽ سرپرستي ڪنهن جي آهي؟
113 دن گزر گئے صحافی فلک شیر کا کمسن بیٹا انکی ضعیف ساس اور اب انکا بھائی بھی آزادی کے منتظر رہائی کے وعدے یقین دہانیاں اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود رہا نہ کیا مزید دباؤ دھمکیوں کا سامنا فیلڈ مارشل عاصم منیر فوری نوٹس لیں آخر معصوم بچے بیمار بوڑھی ماں کا قصور کیا ہے؟
113 دن گزر گئے! میرا کمسن بیٹا علی شیر ساس نسرین اختر اور اب میرا بھائی بھی آزادی کے منتظر رہائی کی یقین دہانیاں دی گئیں سندھ ہائیکورٹ حیدرآباد میں مسنگ پرسن پٹیشن واپس لینے کے تقاضے پورے کیے لاہور سے اہلِ خانہ کراچی سے وکلاء پہنچے مگر وعدہ پورا نہ ہوا الٹا دھمکیوں دباؤ کا سامنا
ساڑھے تین ماہ گزر گئے مگر ایک معصوم کمسن علی شیر اور اسکی بیمار بزرگ نانی ابھی تک جبری لاپتہ اور ریاستی تحویل میں قانون کہاں ہے؟ خاموشی ��والات کو ختم نہیں کرتی مزید سنگین بنا دیتی ہے قوم جواب مانگتی ہے انصاف مانگتی ہے #Justice #HumanRights #Mirpurkhas
@OfficialDGISPR
@HRCP87
یہ بلاول کا انسانی حقوق کی اعلیٰ مثال والا سندھ ہے جہاں صحافی فلک شیر کا معصوم بیٹا علی شیر اور انکی ساس 4 مہینوں سے غائب ہیں اغوا کار کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں ، فلک شیر کی اہلیہ اپنے بیٹے کیلئے تڑپ رہی ہیں دن رات روتی رہتی ہیں
علی شیر بھی اپنی ماں کا بلاول ہے یہ بچہ اگر زرداریوں کا ہوتا تو اب تک طوفان آ چکا ہوتا
@falaksher1980
محبِ وطن صحافی کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا کر پہلے مجرم بنایا گیا پھر معصوم کمسن بیٹے اور بیمار بوڑھی ساس کو تین ماہ سے زائد عرصے سے غائب رکھا گیا۔ یہ ظل�� صرف متاثرہ خاندان نہیں بلکہ اداروں کی ساکھ پر بھی سوال ہے
@OfficialDGISPR @DGISIPakistan @IHRF_English @HamidMirPAK