وکلا تحریک کا آغاز ھوا چاھتا ھے۔۔ ❤
آرمی چیف نے کہا کہ ھم اب سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ اور الیکشن اپنی مقررہ تاریخ پر ھوں گے۔
آپ الیکشن کی تاریخیں نہ دیں۔ اب آپ ھمیں سیاست سے ہمیشہ کیلئے دور ھونے کی تاریخ دیں✌✌✌
میڈم ربعیہ باجوہ نائب صدر لاھور ہائیکورٹ بار۔✌
@ImranKhanPTI
وہ لمحہ جب 4 سال پہلے عمران خان نے چیف جسٹس کو شہید ارشد شریف کی شہادت کی آزادانہ جوڈیشل کمیشن کے لئے خط لکھ دیا۔
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے ♥️
کل کی عاصم منیر اور شہباز شریف کی پختونخواہ کانفرنس۔
وہاں بیٹھے جرنیلوں کا منہ دیکھیں۔
بلوچستان کے حالات بھی خراب ہیں وہاں ایمرجنسی لگاؤ، جرنیلوں کی کارستانیاں، اسمگلنگ اور وارداتوں کی داستان۔
پاکستان کی سیکیورٹی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی فوج ہے۔
میرے گھر کو کیا کیا نقصان ہوا!
https://t.co/Dja5ACLqyo
جنیوا پریس کلب میں شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت۔
اگلے سال سے شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ انسانی حقوق کے لیے خدمات سر انجام دینے والے پاکستانیوں کو ہر سال دیا جائے گا۔
مراد سعید کا شہید DSP کے بارے میں دل دہلانے والے انکشافات 🛑
مراد سعید کہتا ہے,
عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ا�� حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی ��اہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مجھے NCCIA کا نوٹس ابھی موصول ہوا ہے!
تم مجھے چپ نہیں کروا سکتے، تم پختونخوا کو بیچ رہے ہو۔ تم فوج سے امریکہ کی نوک��ی نہ کرواؤ!
https://t.co/n102Bkp67T
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا ت��کرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
��واباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے ��قبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہاد�� کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
نامعلوم (جو اب سب کو معلوم ہیں) نقاب پوش افراد کا ایم این اے اقبال آفریدی کو اور ان کے بیٹے عرفان آفریدی کو ان کے رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا ہے.
#AsimLaw
معدنیات کے ذریعے ڈاکہ ڈالنے کے لیے عاصم منیر نے ایمرجنسی لگائی۔ دن دہاڑے پاکستان پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔
اسی عاصم منیر نے عمران خان اور اُس کی بہنوں کو ڈر کے مارے قید میں رکھا ہوا ہے۔ عمران خان کی بہنوں پر ایک مقدمہ نہیں ہے، 30 دن سے اوپر ہو گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کا وزیرِ اعلیٰ ایک مسنگ پرسن بن چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے بھی قوم کو تمہاری دن دہاڑے ڈکیتی کے بارے میں بتایا۔ تمہیں ان سے تکلیف بھی اسی بات کی ہے۔ اسی بنیاد پر ان کے خلاف مہم چلا رہے ہو۔
یہ سب تم نے کر لیا ہے، عاصم منیر، لیکن حیثیت تمہاری وہی ہے جو ایران نے رکھی ہے۔ تمہارے مالک تمہیں استعمال کریں گے، تم بھی غلامی میں جھک جاؤ گے، لیکن اب ان کو بھی احساس ہو گا کہ تمہاری حیثیت کیا ہے!
قائدِاعظم نے ��مہیں نوکر کہا تھا، نوکر بن کر رہو!
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر کے اغواء پر خاموشی ناقابلِ قبول ہے! فوری طور پر ان کی موجودگی اور سلامتی واضح کی جائے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجینسی عوامی مینڈیٹ اور جمہوری حق کی سنگین پامالی کی گئی ۔عوام کے ووٹ کو طاقت کے زور پر روندہ گیا ۔ خیبر پختونخوا کسی کی جاگیر نہیں؛ یہ عوام کا صوبہ ہے، اور اس کے مینڈیٹ پر طاقت کے ذریعے ڈاکا کسی صورت قبول نہیں۔ آج عوام کی جانب سے مسترد شدہ ٹولے کو طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا ھے ۔ جن کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں تحریک انصاف کو نشانہ بنا نا ھے ۔
مراد سعید کے گھر پر چھاپے یا کارروائی کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی سیاسی رہنما یا اس کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ گھروں کی حرمت، شہریوں کے بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں کا احترام کیا جائے؛ سیاسی انتقام اب بند ھونا چاہیے۔
منتخب نمائندوں ، تحریک انصاف کے تنظیمی ساتھیوں ، آئی ڈی ایف کے ڈاکٹر صاحبان کی گمشدگی قانون کی حکمرانی پر سنگین سوال ہے؛ ان کی موجودگی اور سلامتی سے متعلق فوری وضاحت دی جائے۔
عاصم منیر! جو حشر تمہارا ایران کی سپریم کونسل کے سربراہ اور ایرانی صدر نے کیا ہے، تم اب کس منہ سے واپس آؤ گے؟
یہی نتیجہ ہونا تھا امریکہ کی غلامی کا۔ اب ذرا سوچنا کہ اپنی قوم تمہارے ساتھ کیا کرے گی!
11 اکتوبر 2026 کو نیا پاکستان کے اینکر پرسن حسنین رفیق اور ان کے ساتھ فیلڈ پر موجود دیگر ٹیم ممبرز کو غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا گیا۔ 11 اکتوبر سے لے کر آج تک انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ کسی کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حسنین رفیق، شہزاد خان اور صبور کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔
آج دس دن گزر چکے ہیں۔ ان دس دنوں میں ہمارے گھر والوں پر کیا گزری ہے، یہ شاید الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری پریشانی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ہم صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے پیارے کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور کیا وہ خیری�� سے ہیں؟ کیا ایک خاندان کو اتنا جاننے کا بھی حق نہیں؟
حسنین رفیق ایک صحافی ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ حسنین رفیق نے ہمیشہ اپنا فرض انجام دیا ہے اور صحافت کی ہے۔ ایک صحافی کا کام صحافت کرنا ہوتا ہے اور حسنین رفیق اپنا وہی فرض سرانجام دے رہا تھا۔ گورنر راج لگنے کے بعد حسنین رفیق سے جب ہمارا آخری رابطہ ہوا تو وہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود تھا۔ کال کے دوران اس کے کمرے میں کچھ لوگوں کے داخل ہونے اور شور شرابے کی ��وازیں سنائی دیں۔ کسی نے پوچھا کہ کس سے بات کر رہے ہو، اور اس کے بعد فون بند ہو گیا۔ تب سے آج تک ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
حسنین رفیق کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنا صحافتی فرض نبھایا، اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے کوریج کی اور سچ دکھایا۔ سیاست کے ساتھ ساتھ ملک میں کوئی دل خراش واقعہ ہو، جیسا کہ حال ہی میں پمز میں نومولود بچوں کا واقعہ، یا پھر سیلاب جیسی ناگہانی آفات ہوں، اس نے ہر چیز کی کوریج کی۔ یہ ایک آزاد ملک ہے اور ایک آزاد ملک میں رہنے والے ہر شہری کو اظہارِ رائے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کا حق ہونا چاہیے۔
حسنین نہ تو کوئی صوبائی وزیر ہے او�� نہ ہی کسی پارٹی کا ٹکٹ ہولڈر۔ اس نے ہمیشہ صرف اور صرف کوریج کی ہے اور سچ دکھایا ہے۔ لیکن کوئی صحافی ہو، سیاسی کارکن ہو یا عام شہری، کسی کو بھی اس طرح اٹھا کر لاپتہ کر دینا اور اس کے گھر والوں کو بے خبر رکھنا انتہائی افسوسناک امر ہے۔
اگر حسنین رفیق یا اس کے ساتھیوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کے گھر والوں اور وکیل کو ان سے ملنے دیا جائے۔ اور اگر کوئی الزام نہیں تو پھر انہیں کس بنیاد پر اتنے دنوں سے ان کے خاندانوں سے دور رکھا گیا ہے؟ آخر وہ کون سا قانون ہے جو کسی شہری کو اس طرح لاپتہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے؟
ہم صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور تمام ذمہ دار حکام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں۔ آج سوال صرف حسنین رفیق اور اس کے ساتھیوں کا نہیں بلکہ ہر اس صحافی کے تحفظ کا ہے جو اپنے فرائض انجام دینے کے لیے فیلڈ میں جاتا ہے۔
ہماری التجا ہے کہ حسنین رفیق، شہزاد خان اور صبور کے بارے میں فوری طور پر بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، انہیں ان ک�� اہلِ خانہ سے رابطے کی اجازت دی جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔
ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے، صرف اپنے پیاروں کی خیریت، ان کی سلامتی اور ان کے قانونی حقوق مانگ رہے ہیں۔
#ReleaseHusnainRafique
It has been 30 days since my mother and my aunts, Dr. Uzma and Noreen Niazi, were unlawfully detained under the MPO. Throughout their detention at Kot Lakhpat Jail, they have been denied access to family and legal counsel.
No one, especially women, should be subjected to such treatment. With the detention order now ending, they must be released immediately.
یہ ویڈیو پھیلائیں 🚨
اس وقت عالمی میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ایجینسیاں پی ٹی ائی کے لوگوں پر تشدد کرتی ہیں،ان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جاتی ہے انکو اغواء کیا جاتا یے،مینڈیٹ چھینا جاتا ہے
Attention: For all those who were in “Denial Mode” I have attached a screenshot. Saudi Regime uses brutality in the name of Islam to justify a family rule. This execution of Bangladeshis was totally unjustified! This is how they destroy the image of Islam!