مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر ضرور آواز اُٹھائیں
موجودہ ملٹری رجیم کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ اپنے لیے کتنا بڑا گڑھا کھود رہے ہیں۔ طاقت کے گھوڑے اور امریکہ کی گود میں سوار ظالموں کے ٹولے کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
At this crucial time, with Imran Khan’s health in mind, we trust only Aleema Khanum to lead PTI. When Imran Khan returns, he will decide the future of the chairmanship and Aleema Khanum’s role but for now, our confidence is with her.
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
اب خاندان اور ہی ٹی آئی کا مطالبہ ہی نہیں۔چند سفاک دانشوروں کے سوا تعصبات نے جن کے دل سیاہ کر ڈالے ہیں، ساری قوم خان کے موزوں علاج پہ متفق ہے۔ رنج ملال بتدریج غصے میں ڈھلتا جائےگا۔آخر کو وہی ہو گا جو ہمیشہ ہوتا آیاہے۔
جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
عمران خان کو دلیپ کمار کا خراج تحسین
پوری زندگی میں ایسا کوئی دوسرا شخص میں نے نہیں دیکھا۔ اتنا بوجھ جس نے اٹھایا ہو۔ پھر پورے وقار سے خیرہ کن کامیابیوں حاصل کی ہوں۔کرکٹ کھیلتے کھیلتے وہ کہاں تک جا پہنچا۔ خوش بخت ہے اسے جنم دینے والی۔ماں اور خوش قسمت ہیں اس کے اہل وطن ۔
ساری دنیا جاگ اٹھی ہے۔ غزہ میں درندگی پر ساری دنیا بے قرار ہو کر اٹھی ہے۔ سوائے پڑے ہیں تو تاریخ کے چوراہے پر ہم مسلمان اور ہمارے بے حمیت حکمران ۔ قیامت کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر یہ سوال کریں گے کہ میری امت کے کمسن بچے بھوک سے بلک بلک کر مرے، میری امت کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ایسے شدید کرب سے گزریں کہ آسمانوں پر فرشتے بھی رو دئیے ۔ تم میرے لئے درود اور نعتیں پڑھنے والے تماشائی کیوں بنے رہے؟ متنوع اور معطر دسترخوانوں اور پر افتخار ملبوسات کے ساتھ معمول کی زندگیاں تم کیسے بسر کرتے رہے؟
تو ہمارے پاس جواب کیا ہوگا۔ اور اگر اس دن ہم دھتکار دئے گئے؟
ںارش برستی رہی، کچے گھروندے گرتے رہے۔ ادھراڈیالا اور کوٹ لکھپت جیل کے مکینوں پہ کیا بیتی ہو گی۔ اڈیالہ میں تو اخبار بند، ٹی وی بند اورکتاب بھی ممنوع۔ کوٹ لکھپت میں دوا دارو بھی بند۔ دعوی یہ ہے کہ قیدی نمبر 804 کو فائیو سٹار ہوٹل کی سہولیات حاصل ہیں۔ شرم تم کو مگر نہیں اتی۔