Happy Birthday to the Global Icon, Living Legend, our Mentor and our Fearless Leader, Imran Khan.
If you wish to gift him, please consider donating to Shaukat Khanum & do something noble for the underprivileged!
#HappyBirthdayImranKhan
I am deeply grieved by the loss of lives of innocent children, women, and ordinary citizens due to the bombardment of Tirah Valley. For the past one year, I have repeatedly conveyed the message that no operations should be conducted in these areas, nor should innocent lives be wasted under the pretext of collateral damage, as this only fuels further terrorism. It is unfortunate that the Khyber Pakhtunkhwa government has fallen into the establishment’s trap in this matter.
The example of our neighboring country, Afghanistan, is before everyone. During our tenure, Ashraf Ghani himself told us that military operations only increase terrorism because innocent people are killed. Earlier, Hamid Karzai had warned the Americans that whenever operations are carried out, innocent lives are lost, and 90 percent of those who join the Taliban do so in grief and anger.
We improved relations with Afghanistan during our tenure in government, which also brought peace to our tribal regions. However, upon assuming power, Asim Munir sought to disrupt this environment. He issued threatening statements against Afghanistan, forcefully expelled Afghan refugees who had been residing here for decades instead of treating them with dignity, and drone strikes were carried out there, which further damaged relations.
The objectives behind Asim Munir’s actions are clear:
To make the government of Pakistan Tehreek-e-Insaf in Khyber Pakhtunkhwa unpopular.
To please anti-Taliban lobbies in the West and portray himself as waging a war against terrorism.
Although Asim Munir is traveling around the world, wisdom demands that he must first go to Afghanistan and hold dialogues with our brotherly Islamic neighbor with whom we share a 2,500-kilometer border. For peace in the tribal belt and the region, it is essential that four stakeholders: the Afghan government, the Pakistani government, and both the tribal and Afghan people sit together and resolve issues through dialogue, so that the path to peace may be opened and further loss averted.
Former Prime Minister Imran Khan, speaking with family and lawyers at Adiala Jail – 24 September 2025
1/2
چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں، عمران خان
عمران نے کہا کہ عاصم منیر یہ ساری فسطائیت اس لیے کروا رہا کہ اپنی کرسی مضبوط کر کے ملک پر لمبا عرصہ قاب�� رہنا چاہتا ہے میری انتخابات میں 2/3 میجورٹی کی جیت کو شکست میں بدلنے کے بعد عدلیہ کو حکومت کے ماتحت ادارہ بنا دیا عمران نے اس فسطائیت کے باجود حق پر فیصلہ دینے اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے والے ججز کو خراج تحسین پیش کیا
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھر�� امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خا��دانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025
فلموں کا ولن مگر حقیقت میں انسانیت کا ہیرو پرکاش راج“غزہ کا خون صرف اسرائیل کے ہاتھوں پر نہیں، امریکہ پر بھی ہے، اور مودی کی خاموشی بھی جرم ہے۔ فلسطین یکجہتی مارچ سے خطاب 🇵🇸.
اوپنر عاصم منیر اور محسن نقوی ہوں، ایمپائر سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسیٰ ہوں اور تھرڈ ایمپائر ڈوگر ہوں تو پاکستان اگلا میچ جیت سکتا ہے، عمران خان نے جیتنے کا طریقہ بتا دیا۔۔!!
@grok@AsadAToor اچھا یہ بتاؤ کہ جو آرمی چیف کی مدت انہوں نے بڑھائی ہے کیا وہ مدت 26ویں ترمیم کے تحت ڈائریکٹ بڑھے گی یا اس کا کوئی نوٹیفیکیشن نکالا جائے گا اور اگر نوٹیفیکیشن نہ نکالا گیا تو کیا موجودہ آرمی چیف پرانے قانون کے مطابق ریٹائرڈ ہوجائے گا؟