اگر عمران خان ختم ہو چکا ہوتا تو چار سال بعد بھی اس سے خوف کیوں ہوتا؟
پھر گرفتاریاں کیوں؟
پھر انتخابی نشان کیوں چھینا جاتا؟
پھر مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ طاقتور لوگ بھی اس عوامی تعلق سے خوفزدہ ہیں جو عمران خان اور قوم کے درمیان قائم ہے۔
اب فیصلہ گلگت بلتستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے۔
ظلم کا جواب ووٹ سے دیں!
#جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان
#گلگت_بلتستان_خان_کا
خان صاحب اور ان کی فیملی کی طرف سے عید کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہو!
یاد رکھیں ، خان صاحب کو آج پھر سے نماز عید پڑھنے نہیں دیا !
لیکن سب یاد رکھا جائے گا !
#imrankhan#eidmubarak
آئی ایس پی آر کو میرا جواب اور وہ دو بنیادی وجوہات جن کی بنیاد پر پی ڈی ایم اور اس کے سرپرست مجھے ��رفتار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں:
۱۔ مجھے انتخابی مہم چلانے سے روکنے کیلئے کی��نکہ انشاءاللہ جب انتخابات کا اعلان ہوگا تو میں جلسے منعقد کروں گا۔
۲- پی ڈی ایم حکومت اور اس کے سرپرستوں کیجانب سے سپریم کورٹ کی حکم عدولی اور انتخابات کےانعقادکے حوالے سے دستور سے انحراف کی صورت میں مجھے آئین کی حمایت میں ایک بھرپور عوامی تحریک کیلئے عوام کو متحرک کرنے سے باز رکھنے کیلئے۔