@BitQua Hi BQ, since we missed the last local top even though it showed similar behavior to previous ones, like forming double top is it possible what we’re expecting now may not happen, and that the last top was the global top, given that the classic four-year cycle is already complete?
Congratulations to Pakistan's Olympic flag bearer Arshad Nadeem for an absolute brilliant javelin performance winning a gold medal for Pakistan.
His persistence & perseverance has done him & the nation proud. It is the first time any Pakistani has won an individual gold for athletics in the Olympics. He is an inspiration for our younger generation.
Allah is Al Haq!
I have repeatedly raised concerns about the prejudice exhibited by the Chief Election Commissioner of Pakistan against me and PTI. Today's Supreme Court decision—establishing the ECP’s bias and malafide against PTI —reinforces our stance. We demand criminal proceedings under Article 6 of the Constitution against all those responsible for disenfranchising millions of voters and supporters of Pakistan’s largest political party.
Sikandar Sultan Raja and the ECP members must resign immediately!
Also, I would reiterate that Chief Justice Qazi Faiz Esa must distance himself from the cases involving me or PTI.
اپنے بچپن دیاں یاداں وچوں تندور دا منظر مینوں اکثر یاد اندا اے جتھے سوانیاں رل مل بہندیاں سن تے پورے علاقے دیاں خبراں دا گڑھ ایہی تندور ہندا سی بس اوہناں یاداں نوں کاغذ تے لاہن دی کوشش کیتی اے
(1/4)
تندور سدو یا آکھو اینوں رناں دا چوپال
تندور دی مجلس سدا بہار اے چلے پورا سال
ڈھا کے چھپری پا کے ہوٹل اوناں سانبھ لیا تندور
جیویں وراثت کھو لیندے نیں اوناں کھو لیا تندور
(5/5)
ترکھی ترکھی ٹردی جاوے جیویں ہوا دا جھولا
چُنی دب کے ہو��ٹاں دے وچ کر لے سبھ توں اولا
دوروں دِسن اگ دے بھانبھڑ نکلے اگ دا شولا
آسے پاسے ڈھگ سوانیاں اچا پا رولا
ہولی ہولی ہتھ ودھا کے تھلے رکھے پرات
نالے آکھے ہور سناؤ کوی نویں گل بات
(3/5)
------تندور-------
سارےدن دیاں خبراں لے کے بیٹھی کرے اڈیک
اپنی اپنی خیر مناون بچن سارے شریک
جیویں دپہری چڑھدی ویکھے چھوڑ کے ہر گل بات
آٹا گُنے پیڑے کر کے سر تے رکھ لے پرات
(2/5)
I really wish borders were open so I could invite you to my humble slum city and explain that our identities don’t have to be based on other’s relative suffering, that seeing India doing great doesn’t hurt us and that Urdu is sweetest when spoken authentically. Love & prayers ✨
یوں نہیں تھا کہ ہم عوام نے کبھی ادارے کو واقعی کوئی آفاقی حقیقت سمجھا تھا۔ ہم جانتے تھے خامیاں اور کوتاہیاں ہیں۔ کوئی کوئی طریقہ بھی غلط ہے، “کوئی کوئی”، ہاں کہیں کہیں ذیادتی بھی کرجاتے ہیں “مگر وہ ا س لیے کہ ان کی ٹریننگ اس سب کے لیے تھوڑا ہی ہوئی ہے” وہ تو مجبوری میں انہیں ایسے معاملات دیکھنے پڑ جاتے ہیں۔ ملک کی سیاسی لیڈرشپ اتنی نا اہل جو ہے۔۔ خدا گواہ ہے اتنی عقل سے عاری یہ ۱۸-۲۴ کروڑ بنی قوم کبھی بھی نہیں تھی خوش فہم بھی نہیں تھے، خود کو تسلی دیتے تھے۔ بس اس بات کا بھرم تھا کہ محب وطن ہیں۔ “سب کچھ کرتے ہونگے بس ملک سے مخلص ہیں”۔ ہاں طریقہ کار غلط ہے، “کہیں کہیں”۔ میرا اپنا گھر تباہ ہوا۔ ماں جیتے جی مردوں سی ہوگئی۔ میں نے خود اپنی ذات کے المیے پر کولیٹرل ڈیمج کی چادر ڈال دی۔ مجھے تک اس بات کا بھرم تھا کہ جو کرتے ہیں ملک کے وسیع تر مفاد میں کرتے ہیں۔ کرنا پڑتا ہے، عالمی حقیقتیں اتنی سیدھی سادھی نہیں ہیں۔ دنیا آئیڈلزم پر نہیں چلتی۔ کیسی کیسی سازشیں ہوتی ہیں۔ کیسی کیسی چالیں چلی جاتی ہیں۔ کہاں قانون کی کتابیں ان سب کا احاطہ کرپاتی ہیں۔ بس اس ایک بھرم میں سو کَرم معاف ہو جاتے تھے کہ جو بھی کرتے ہیں ملک کے لیے کرتے ہیں۔ ۹ اپریل کی رات کو ہمارے سارے بھرم خاک ہ��گئے۔ جب پارلیمان کے سامنے پرزنر وینز آئیں۔ ۱۲ بجے عدالتیں کھلیں۔ ای سی ایل پہ نام ڈلے۔ سچ پوچھیں تو ارشد بھائی نے “وہ کون تھا” کہہ کر قوم کے ذہن میں کوئی سوال نہیں ڈالے تھے۔ اپنے برسوں کے تعلق کی نسبت ایک آخری احسان کیا تھا ان کو بروقت یہ بتا کر کہ قوم سب جانتی ہے۔ جس تصویر میں یہ اپنا عکس دیکھ رہے تھے اُس کے نقوش قوم کے سامنے ۹ اپریل کی رات سے واضح تھے۔ اُس کو سایے میں رکھ کر ایک مخلص دوست نے اس قوم کے بھرم کا واسطہ دیا تھا۔۔ آپ کو اُس کا خلوص اتنا ناگوار گزرا آپ نے اُس کی جان ہی لے لی؟ بنی گالہ کے باہر ایک شام میں نے بھی التجا کی تھی کہ “عمران خان آپ کے اور قوم کے درمیان آخری پردہ ہے” پھر کیا ہوا؟ عمران خان پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ چار گولیاں مار دیں۔ پردہ تو چاک کردیا۔ اُس کے گھر پر حملہ کردیا۔ اُسے گھسیٹتے ہوئے لے گئے، تار تار کردیا۔ آپ نے اُس کے ساتھ کھڑے ہر شخص کے عزت پر ہاتھ ڈالا۔ جو کوئی لیریں رہ گئی تھیں جو کہیں خال خال ڈھکے رہ گئے تھے سب روبرو ہوگئے۔ بس ایک آنکھوں کا پردہ رہ گیا تھا، وہ جو ایک پرانے اُنس کی حیا ہوتی ہے۔ عدت کیس اور پھر ۸ فروری کو ایسی ننگی بیہودگی کا مظاہرہ کیا کہ جو حیا سے کوئی آنکھیں پھیر بھی رہا تھا وہ بھی بے دید ہوگیا۔ آج بچہ بچہ جانتا ہے ڈرٹی ہیری کون ہے، کیوں ہے؟ جنگل کا بادشاہ کسے کہتے ہیں کس باعث کہتے ہیں؟ ایک اور شخص کی تو حسرت ہی رہ گئی کہ کہیں گمنامی میں سکون کی چار سانسیں لے لے۔ آج بیورکریسی اپنے ضمیر کے بوجھ کا باعث اپنے کاندھے پہ رکھی آپ کی بندوق کی نال بتا رہی ہے۔ سرکاری ملازموں کی درخواستوں میں وہ نام ہیں جن کی بابت سب جانتے تھے پھر بھی نامعلوم تھے۔ جج عدالتوں میں بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ جب تک آپ کو آپ کی حد میں واپس نہیں بھیجا جاتا انتظام نہیں چل سکتا۔ جس یوٹیوب کا تذکرہ تحقیر سے کرتے تھے اُس پر آپ کا ذکر یوں ہوتا ہے جیسے گلی محلوں کے غنڈوں کا۔ ٹی وی پروگراموں میں آپ ہی کے پالتوؤں نے آپ کو مضحکہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ٹک ٹاک پر پیروڈیاں ہوتی ہیں۔ ٹویٹر پر میمز بن گئے ہیں۔ سو زبانیں کھینچتے ہیں چار سو اور چلنے لگتی ہیں۔ ایک وہ بھلا مانس تھا جس نے سامنے کی صورت پر نقاب ڈالے، سب جانتے ہوئے جواب حذف کیے کہ تم سنبھل جاؤ۔ ایک تم بدنصیب کہ ایک پوری قوم کے بھرم راکھ کرنے کو بھی اپنی جیت سمجھے؟ ایک وہ ملنگ کہ جس کی پُشت سے تم معتبر دکھتے تھے۔ ایک تم کم ظرف کہ نہ اللہ کی حدیں سمجھ پائے نہ اللہ کے بندوں کی نظروں میں اپنا مقام۔ خدا بننے کا خبط بھی آدمی کو کیسی پاتال میں گرا دیتا ہے۔ خدا بن نہیں پاتا اور اپنی عابدیت کی قسمیں بھی کھا لے، دنیا پھٹکار بھیجنے سے نہیں چُوکتی۔